نواز شریف کو مخاطب کرکے بڑی بات کہہ دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بداعتمادی اور غیریقینی والے مستقل رویئے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں کتابی جمہوریت کو آئیڈیالائز کرکے چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی بجائے اووَر ایکٹو ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ غریب اور ماتحت جمہوریتوں میں

نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔انقلابی چھلانگیں مارنے کی بجائے منزل کی طرف ہرقدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے ورنہ زندہ جمہوریت کی جگہ ”سٹیچو ڈیموکریسی“ کھڑی کردی جاتی ہے جس میں روح کی بجائے بھوسہ بھرا ہوتا ہے۔ غیرجمہوری رویوں کے خلاف جمہوریت کے تیز لمبے دانتوں اور پنجوں پر مان کرنے والے سیاسی لیڈروں کو قربانیوں کے ساتھ ساتھ سمجھداری کا رول ماڈل بھی ہونا چاہئے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم والوں کے لیے درج ذیل سبق آموز کہانی پیش ہے۔ پرانے زمانے میں جنگل کے کنارے ایک گاؤں آباد تھا۔ ایک مرتبہ اُس جنگل میں شیر آگیا۔ شیر گاؤں میں تانک جھانک کرنے کے ساتھ ساتھ دیہاتیوں کے کام میں مداخلت بھی کرنے لگا۔ گاؤں کے لوگوں میں شیر کی غیرجنگلی حرکتوں کے باعث بے چینی پھیلنے لگی اور انہوں نے اپنے گھروں کے اردگرد دیواریں بھی اونچی کرلیں تاکہ شیر اُن کی ذاتی زندگیوں میں مخل نہ ہو لیکن شیر کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا۔ ایک دفعہ گاؤں کی سب سے خوبصورت دوشیزہ کنوئیں سے پانی بھرنے گئی تو شیر کی نظر اُس پر پڑ گئی۔ شیر نے لڑکی کے باپ کو شادی کا پیغام بھیجا۔ لڑکی کے باپ نے شیر کی خواہش یہ کہہ کر مسترد کردی کہ جانور اور انسان میں شادی نہیں ہوتی۔ شیر لڑکی کے باپ کے انکار پر غصے میں آگیا۔ اُس نے دھاڑتےہوئے وارننگ دی کہ اگر تم نے اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے نہ کی تو میں تم سب کو کھا جاؤں گا اور لڑکی کو اٹھا کر جنگل میں لے جاؤں گا۔ لڑکی کا باپ بہت پریشان ہوا اور اُس نے گاؤں کے بڑوں سے مشورہ کیا۔

کچھ دنوں بعد شیر لڑکی کے باپ کے پاس رضا مندی پوچھنے دوبارہ آیا۔ لڑکی کے باپ نے شیر سے کہا کہ میں تمہاری بات مان لوں گا اور اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کردوں گا لیکن میری صرف ایک شرط ہے۔ شیر نے سوچا کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں، میرے لیے ہر شرط پوری کرنا ممکن ہے۔ لہٰذا اُس نے لڑکی کے باپ سے پوچھا کہ بتاؤ کیا شرط ہے؟ لڑکی کے باپ نے کہا کہ میری لڑکی بہت ہی معصوم اور نرم و نازک ہے جبکہ تم جنگلی ہو، تمہارے دانت اور پنجوں کے ناخن بہت تیز اور لمبے ہیں۔ وہ انہیں دیکھ کر خوفزدہ ہو جائے گی۔ میری شرط یہ ہے کہ شادی سے پہلے میں تمہارے دانت اور پنجوں کے ناخن نکال دوں گا۔ شیر نے کچھ سوچا۔ پھر لڑکی کے حاصل ہو جانے کی خوشی میں ایسا کروانے پر تیار ہوگیا۔ لڑکی کے باپ نے زنبور سے شیر کے سارے دانت اور پنجوں کے ناخن نکال دیئے۔ شیر کو بہت تکلیف ہوئی لیکن خوبصورت لڑکی کے ملاپ کے احساس نے اُس کا یہ درد کم کردیا۔ لڑکی کا باپ جب شیر کے دانت اور پنجے نکال چکا تو اُس نے پاس پڑی ایک رسی اٹھائی اور اُسے شیر کے گلے میں ڈال دیا۔ لڑکی کا باپ رسی کا سرا پکڑ کر شیر کو گھسیٹتے ہوئے اپنے گھرکے پچھواڑے بکریوں کے باڑے میں لے آیا۔ اُس نے شیر کو ایک درخت کے ساتھ مضبوطی سے باندھا اور اُس کے آگے گھاس ڈال دی۔ چند دن بعد گاؤں کے لوگ اُس کی بیٹی کی بارات لے کر آئے اور گاؤں کا ایک کڑیل جوان اُس خوبصورت دوشیزہ کو بیاہ کر لے گیا۔ تب ایک شرارتی بکرے نے شیر کے کان میں کہا کہ شیر کی اصل طاقت اُس کے دانتوں اور پنجوں میں ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *