نواز شریف کو واقعی پاکستان واپس نہیں آنا چاہیے کیونکہ ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی وجاہت علی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چرچل کے اس قول کا بڑا ذکر کیا جاتا ہے ’’کیا ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں ‘‘ سیاست دانوں نے ہاں کہا، تو وہ بولا ’’پھر ہم کبھی تباہ نہیں ہوسکتے ‘‘تو یہ سوال اگر ان لوگوں کے سامنے رکھا جائےجو

نواز شریف کو پاکستان نہ آنے کا طعنہ دے رہے ہیں تو کیا وہ کہہ سکیں گے کہ مولوی تمیز الدین سے لیکر بھٹو کیس تک کے عدالتی نظام میں رتی برابر بھی کوئی فرق آیا ہے۔کیا دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا جا سکتا ہے کہ ریاست اور حکومتیں اپنا اپنا کام کرتی رہی ہیں، ریاست کے تمام ادارے مکمل طور پر آزاد خودمختار ہیں اگر نہیں تو پھر ’’نیب ‘‘ کا رویہ بھی چھوڑیں، سسلین کا ذکر بھی بھول جائیں لیکن صرف کورونا سے انتقال کر جانے والے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے رکھ کر کوئی ذی شعو ر کہہ سکتا ہے کہ نواز شریف کو ایک دفعہ پھر پاکستان آکر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہئے ؟اگر الزامات کی بات کریں تو بدعنوانی کے الزامات کیا 1999ء میں نواز شریف پر نہیں تھے تو پھر اسی الزام زدہ نواز شریف کو تیسری دفعہ وزیر اعظم کیوں بنا دیا گیا!میں نے امام خمینی سمیت کئی دیگر انقلابات کا ذکر قصداً نہیں کیا جو جلاوطنی میں پروان چڑھے، تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جلاوطنیاں ہوتی ہی اس صورت ہیں جب کہیں قانون و انصاف کے اداروں پر قدغن ہو، بہت سے خوش فہم جو افریقہ کے مرحوم صدر نیلسن منڈیلا کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ تقریباً 27 سال قید میں رہے تو بھائی، منڈیلا انگریز حاکموں کی طرف سے جنوبی افریقہ کے اصل سیاہ فام باشندوں کے ساتھ نسلی امتیاز برتے جانے کیخلاف مہم چلا رہے تھے اس نو آبادیاتی دور میں منڈیلا نے حقیقتاً بڑی جدوجہد کی ہر کسی سے انہیں ملایا نہیں جا سکتا، بہرکیف باپ کیلئے بیٹیاں بڑی پیاری ہوتی ہیں اگر کوئی‘‘ہارڈیسن‘‘ دینا مقصود ہے تو مریم نواز پاکستان میں موجود ہیں۔

Comments are closed.