نواز شریف کیا فیصلہ کر نے والے ہیں ؟ بڑی سیاسی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) ایک ترجمان کا فرمان ہے ”نواز شریف‘ حکومت اور قوم سے جھوٹ بول کرگئے ہیں، اس پر پوری قوم کوشرم آنی چاہیے‘‘۔ دوسرا ترجمان بیان جاری کرتا ہے کہ ”نواز شریف کی بیماری بہانہ تھی، رپورٹس میں جعل سازی کی گئی، قوم اور حکومت کے سامنے بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا،

نامور کالم نگار انجم فاروق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔قومی لیڈر کی اس حرکت پر پوری قوم شرمسار ہو‘‘۔ یوں گمان ہوتا ہے کہ حکومت نواز شریف کو باہر بھیج کر بہت پچھتا رہی ہے۔ یہ ندامت اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر پوری قوم کو آنسو بہانے کے لیے ‘ورغلانہ‘ کہاں کی دانشمندی ہے؟ آپ خو د اندازہ لگائیں اتنے فطین حکمران اور بھلا کہاں ملیں گے؟ حکومتی مؤقف سن کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پوری قوم کو نواز شریف کیس میں ”ساجھے داری‘‘ دینے سے سابق وزیراعظم کو باہر بھجوانے والوں کا جرم کم ہو جائے گا؟نواز شریف کیسے ملک سے باہر گئے‘ یہ کہانی اب پرانی ہو چکی۔ حکومت نجانے کیوں بیتے دنوں پر سیاہی مل کر مستقبل کے منظر نامے سے آنکھیں چرانا چاہتی ہے؟ یقین مانیں یہ بات اب اہم نہیں رہی کہ نواز شریف کس طرح لند ن پہنچے بلکہ سب سے دقیق نکتہ یہ ہے کہ وہ واپس کیسے آئیں گے؟ آئیں گے بھی یا نہیں؟ آئیں گے تو سیاست کی ہانڈی کتنی آنچ پر پکے گی؟ حکومت کو کتنا فائدہ ہوگا اور مسلم لیگ ن کی سیاست کی سانسیں کس حد تک بحال ہو سکیں گی؟ پارٹی نواز شریف کو واپسی کے لیے کیا مشورہ دے گی اور شریف خاندان کیا فیصلہ کرے گا؟ عدالت نے نواز شریف کو مفرور قرار دے دیا تو ”ووٹ کو عزت دو‘‘ والے کارکنوں کا کیا حال ہوگا؟ یہ وہ سوالا ت ہیں جن کے جوابات مستقبل میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہاں البتہ! سب سے بڑا امتحان میاں نواز شریف کا ہے ۔ آگے کنواں‘ پیچھے کھائی۔ پارٹی اور بیٹی کی سیاست بچانی ہے یا اپنی سانسیں۔ فیصلہ جو بھی ہوگا‘ تین ماہ کے اندر ہو جائے گا، اور پھر دھمال ڈالنے والے اور نوحہ گری کرنے والے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ منظر بھی قابل دید ہوگا۔ لال مادھو رام جوہر کا شعر نواز شریف کی دلی کیفیت کو بیان کرتا ہے ؎سوئے کعبہ چلوں کہ جانبِ دیر ۔۔۔اس دوراہے پہ دل بھٹکتا ہے۔۔۔میں بھی حیرا ن تھا آپ بھی یقینا پریشا ن ہوں گے کہ ایسا کیا ہوا کہ یکایک حکومت نواز شریف کو واپس لانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ گئی اور اس کی توپوں سے ایسے ایسے گولے برسائے گئے کہ کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔ اس جذباتی کیفیت کی وجہ محض واک کرتے نواز شریف کی تصویر تھی یا کچھ اور؟ یہ عقدہ کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا، پھر ایک نئے خیال نے کہیں دور سے صدا لگائی، وجہ تصویر ہوتی تو تصویریں تو پہلے بھی دو تین آ چکیں۔ اس بار معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ میر ی جستجو بڑھی تو ”جان کاری‘‘ رکھنے والے مہربانوں نے ساری روداد سنا دی۔ ان حضرات کا کہنا تھا : حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ کون کون لندن میں بیٹھ کر کس کس ”ہمدرد‘‘ سے کیا کیا بات کر رہا ہے۔ ان رابطوں کی تفصیلات حکومت کے لیے بہت تشویشناک تھیں۔ اس لیے اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر حال میں

نواز شریف کو واپس لایا جائے گا۔ رابطے صرف ملکی سطح پر ہوتے تو پھر بھی قابلِ برداشت تھے۔ بڑے صاحب نے تو اُن اُن ”ہمدردوں‘‘ سے ”خوش گپیاں‘‘ لگائیں جو پاکستان کے سچے اور آزمودہ دوست ہیں۔ اپنے مہربانوں کی زبانی ساری کہانی سن کرمجھے یوں لگا جیسے دماغ پر لگے سارے تالے خود بخود کھل گئے ہوں۔واقفانِ حال کہتے ہیں کہ عدالتی حکم کے بعد نواز شریف نے سوچ کی کھڑکیاں کھول دی ہیں اور مشاورت کا دائرہ وسیع تر کر دیا ہے۔ برطانیہ، پاکستان اور باقی دنیا میں بیٹھے ”ہمدردوں‘‘ کو جگایا جا رہا ہے، ایک ایک سے رائے طلب کی جا رہی ہے، پلان اے (جس کا ذکر میرے گزشتہ کالم ”نواز شریف کی واپسی مگر…‘‘ میں کیا گیا ہے) کی کامیابی کے لیے پلان بی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اب تک چار مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ ماں، بیٹی اور بھائی کا کہنا ہے کہ علاج ضروری ہے، سو ابھی پاکستان آنے کا سوچنا بھی نہیں۔ قانونی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ فی الحال وطن واپس آنے کی ضرورت نہیں، تیل دیکھو‘ تیل کی دھار دیکھو۔ آئندہ پیشی پر میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کروائی جائیں اور پھر دیکھیں کیس کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ تیسری رائے پارٹی کی ہے جو بہت حد تک منقسم ہے۔ آدھی جماعت چاہتی ہے جب تک پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے‘ میاں صاحب لندن میں رہیں اور وہیں سے سیاست کریں جبکہ آدھی پارٹی کی خواہش ہے کہ نواز شریف علاج کے بعد جلد از جلد پاکستان آئیں،

بھلے پھر قید ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ سب سے اہم تجویزان ”خیر خواہوں‘‘ نے دی ہے جو پاکستانی تو نہیں ہیں مگر ان کی پاکستان سے دوستی بہت بلند ہے۔ نوازشریف کے ان ”ہمدردوں‘‘ کا کہنا ہے کہ مطلع ابھی ابر آلود ہے‘ سفر کرنا زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ حبس اور بارشوں کا موسم گزر جائے پھر کوئی فکر نہیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس شدت پسند موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے ”ہمدردوں‘‘ نے مدد کا بھی ارادہ باندھا ہے۔ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں ۔۔اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں۔۔ہزاروں میل دور سے خبر آئی ہے کہ الجھے ہوئے ریشم سے نکلنے کا راستہ بتانے والوں نے بتا دیا ہے، جس کے بعد نواز شریف نے پلان بی پر کام تیز کر دیا ہے۔ شہباز شریف، مولانا اور بلاول کو کی جانے والی فون کالز نے کام دکھانا شروع کر دیا ہے۔ میل ملاقاتوں کے بعد اے پی سی کا اعلان کیا جا چکا۔ نواز شریف نے پارٹی کو بتا دیا ہے ”اگر عدالت سے تیسری بار بلاوا آیا تو میں صحت کو مدنظر نہیں رکھوں گا، فوراً ملک واپسی میری ترجیح ہو گی، اس سے قبل اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایسا ماحول بنایا جائے کہ حکومت کی چولیں ہل جائیں، شہر شہر مظاہرے اور ہڑتالیں کی جائیں، اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن گرفتاریاں دیں تاکہ حکومت خوف زدہ ہو کر غلطیاں کرے، پنجاب میں ن لیگ، کے پی میں جے یو آئی، سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی مظاہروں کو لیڈ کریں، جب اپوزیشن کی یہ تحریک اپنے عروج پر پہنچے گی تو میری واپسی نوشتۂ دیوار ہو گی، اور ہاں! اگر آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کا اس تحریک پر اتفاق نہ ہو تو مریم نواز کے قیادت میں مسلم لیگ ن یہی کام سر انجام دے‘‘۔ واللہ اعلم!

Sharing is caring!

Comments are closed.