نواز شریف کی جائیدادوں کی نیلامی رکوانے کی درخواستیں کیا کہہ کر مسترد کر دی گئیں ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جائیداد نیلامی رکوانے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے تمام درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا۔

میاں اقبال برکت، محمد اشرف اور اسلم عزیز نے یہ درخواستیں دائر کی تھیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزاروں کے پاس متبادل فورم موجود ہے۔ نیلامی رکوانے کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ متبادل فورم موجود ہونے پر ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یہ درخواستیں نہیں سن سکتی۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی شیخوپورہ میں ضبط شدہ جائیدادیں 20 مئی کو نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، ڈی سی شیخوپورہ نے بولی کی تاریخ مقرر کی ہے۔اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار اسلم عزیز کا کہنا تھا کہ ڈی سی لاہور 105 ایکٹر اراضی نیلام کرنے کیلیے قبضے میں لے رہے ہیں، زمینیں پٹے پر لے کر بھاری سرمایہ کاری کی، پھلوں کے باغ پر لگا سرمایہ ابھی واپس نہیں ہوا، نیلامی سے میری سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔اس کے علاوہ ڈی سی شیخوپورہ کا بولی کیلئے تاریخ مقررکرنے کا فیصلہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار اشرف ملک نے موقف اپنایا کہ شیخوپورہ کی 88 کنال اراضی نواز شریف سے خرید چکا ہوں، نواز شریف کو 75 ملین روپے کی ادائیگی بھی کی جا چکی ہے، نواز شریف کی گرفتاری کے باعث سیل ڈیڈ پر عمل درآمد نہ ہوسکا، سیل ڈیڈ پر عمل درآمد کے لیے سول کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، ڈی سی شیخوپورہ کو زرعی اراضی کی نیلامی سے روکا جائے۔لیکن اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان تمام درخواستوں کو مسترد کردیا ہے اور متبادل فورم سے رجوع کرنے کو کہا ہے ۔

Comments are closed.