نواز شریف کی جان کو خطرہ ، مگر کس سے ؟

 لاہور (ویب ڈیسک) میاں نواز شریف نے دنیا کو باور کرایا کہ شدید علیل ہیں۔ حکومت اور عدالتوں نے انہیں علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دیدی۔ اب عدالتیں انہیں واپس بلا رہی ہیں، وہ انکاری ہیں ، وہی اسلام آباد ہائیکورٹ جس نے میاں صاحب کو علاج کیلئے ضمانت دی تھی

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہی واپسی کا کہہ رہی ہے ۔ اسکی طرف سے کہہ دیا گیا کہ میاں نواز شریف نے حکومت اور قوم کو دھوکہ دیا۔انہیں مفرور قرار دیا گیا ، انکے رویے کو شرمناک کہا گیا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی ، اس تاریخی کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ اس سارے منظرنامے کے پیشِ نظر آئندہ کوئی قیدی کتنا ہی بیمار لاچار ہوا، اسے کیا علاج کیلئے ضمانت اور باہر جانے کی اجازت ملے گی؟ اصل بیماروں کے راستے بھی بند ۔ وہاں بیٹھے بٹھائے جانے کیا سوجھی کہ فوج اور عدلیہ پر بگڑنے لگے۔ کس حد تک گئے ، وزیر اعظم عمران کو کہنا پڑا الطاف کی طرح نواز شریف بھی مودی کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی تقریروں میں اداروں کے خلاف جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ روش جاری ہے۔ یہاں نواز شریف کی تقریروں سے کچھ لوگوں کو بغاوت کی بو آئی ، ایسے میں غداری کے مقدمات کے اندراج کے مطالبے ایک روایت ہیں۔کسی نے میاں صاحب کی تقریر اور اسکی تائید کرنیوالوں پر غداری کا مقدمہ درج کرا دیا۔ اب اپوزیشن حکومت پر برس رہی ہے ۔ عمران خان نے مقدمے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ میاں صاحب اور لیگی حلقوں نے انتقامی کارروائی کا ڈھول بجا دیا ہے۔ حکومت بدنام اورمیاں نوازشریف کے لندن سے واپس نہ آنے کا کیس مضبوط ہو گیا ہے۔ فائدہ کس کو ہوا؟ نقصان کس کا؟ حکومت نے کیس درج کرایا نادانی بلکہ حماقت ،

لیگیوں نے کرایا تو چالاکی ایک تیر سے کئی شکار کر لئے۔ احسن اقبال جو مسلم لیگ ن کی اجتماعی دانش اور عقل مانے جاتے ہیں وہ فرماتے ہیں ’’حکومت فوج اور ن لیگ کو لڑانا چاہتی ہے جس میں کامیاب نہیں ہو گی۔‘‘ لڑائی! فوج اور مسلم لیگ ن میں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ میاں صاحب نے بم کو لات ماری ہے۔ اس بم کی شاید پن نہیں کھینچی گئی تھی اس لئے پھٹا نہیں اور وہ شانت ہیں۔ فوج کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب نہیں دیا گیا بس کچھ ملاقاتوں کا تذکرہ ضرور ہوا۔ میاں صاحب نے تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب پایا۔ ان کا سینہ رازوں کا خزینہ ہے۔ اصولی طور پر یہ آخری سانس تک قومی امانت کا دفینہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کچھ رازوں سے پردہ سرکایا اور بہت کچھ بے نقاب کرنے کا عندیہ دیا یا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ ان کو خائن قرار دے چکی ہے وہ قومی رازوں کی امانت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرینگے تو…؟میاں نواز شریف قومی راز اگلنے پر تل جائیں تو کون اور کوئی کیسے روک سکتا ہے؟ حسین سہروردی پاکستان سے باہر گئے تو چاک و چوبند تھے ایک روز بیروت لبنان کے ہوٹل میں سوئے تو اگلے روز پتہ چلا ابدی نیند کی آغوش میں چلے گئے ، ان کی جان لیے جانے کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ ان پر بھی بغاوت کا مقدمہ تھا۔ شاہنواز بھٹو بھی فرانس کے ہوٹل میں اسی طرح موت سے دوچار ہوئے۔ ان کو بھی زندگی سے محروم کیے جانے کا شبہ ظاہرکیا گیا، الزام ضیاء الحق حکومت پر دھرا گیا۔ ایک عمومی سوچ ہے کہ

میاں نوازشریف کو قومی اہمیت کے راز طشت ازبام کرنے سے روکنے کیلئے ادارے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ الطاف نے اتنا کچھ کیا وہ کیسے محفوظ رہا؟ الطاف اور پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف کی اہمیت‘ حیثیت اور کہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔میاں نواز شریف کو خدا نخواستہ کچھ ہوجاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) پاکستان میں قیامت برپا کر دیگی۔ حالات سنبھالے نہیں سنبھلیں گے۔سیاست اور ریاست میں کوئی انتشار سا انتشاراور خلفشار سا خلفشار ہو گا۔ اب ایک اور فرض کرلیں جو اس تحریر کا اصل مدعا ہے‘ میاں صاحب کو لندن میں کچھ ہو جاتا ہے تو پاکستان میں برپا ہونے والے انتشار سے کس کو اطمینان ہوگا؟ حکومت کو نہیں‘ اداروں کو ہرگز نہیں‘ سیاسی پارٹیوں کو قطعی نہیں۔ پاکستان کے دشمن جن میں ایک بھارت بھی ہے‘ اس کا ایجنڈا ہی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہے۔ اس کی شادمانی کی انتہا نہیں رہے گی۔ ذرا ٹھہرئیے، سوچئے، پاکستان کے دشمن پاکستان میں انتشار کی فضا پیدا کرنے کیلئے ایسا کرنے کی سازش نہیں کرینگے؟ دشمن پاکستان کو جلا کر راکھ کر دینا چاہتا ہے۔ اسکی سازشوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ میاں نوازشریف اب مزید فوج کے خلاف کچھ بھی نہ کہیں۔ ان کا اب تک کہا بھی اتنا ہے کہ ان کو نقصان پہنچنے کی صورت میں الزام کس پر آئیگا؟ لہٰذا جن پر الزام آسکتا ہے۔ وہ میاں صاحب کی حفاظت یقینی بنائیں۔ بہتر ہے میاں نوازشریف وطن واپس آجائیں۔ ضروری نہیں‘ انہیں قید میں رکھا جائے۔ گھر کو بھی قید خانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بادی النظر میں انکی اقتدار کی سیاست کا باب بند ہو چکا ہے۔ انکی بادشاہ گرکی حیثیت بہرحال مسلمہ ہے۔ لندن ان کیلئے غیر محفوظ مادرِ وطن محفوظ ہے۔ 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *