نور مقدم کیس :

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی جس میں ملزمان کے وکیل نے دلائل دیئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت ذاکر کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی

جس کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیئے۔خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ایف آئی آر میں ظاہر جعفر کے والدین کا کوئی ذکر نہیں ہے، ظاہر جعفر اسلام آباد اور اس کے والدین کراچی میں تھے، سوال یہ ہے کہ پھر ظاہر جعفر کے والدین کو ملزم کیسے بنا دیا گیا؟ملزمان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اسلام آباد آ کر شامل تفتیش ہوئے، ضمانت قبل از گرفتاری کرائی، ضمانتی مچلکے داخل نہ ہونے کے باعث انہیں 24 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ دونوں کو 27 جولائی کو جوڈیشل ریمانڈ پر پرزن بھجوایا گیا، 29 جولائی کو ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی جو 5 اگست کو خارج ہوئی۔

Comments are closed.