نہ عمران خان کی پالیسیاں تبدیل ہو سکتی ہیں اور نہ کوئی معجزہ ہو گا

لاہور (ویب ڈیسک) بہت تگ ودو سے غلاموں جیسی رعایا بنائے ہمارے عوام کے پاس اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے فقط ووٹ کی پرچی ہے۔خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخاب کے دوران عوام کی اکثریت نے اپنے غصے کے اظہار کیلئے اس کا بھرپور استعمال کیا۔تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدواروں کی حمایت سے انکار کردیا۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلمائے اسلام ان کی مقبول ترین ترجیح نظر آئی۔اس مقبولیت کی بابت ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی پسند کرے یا نہیں جولائی 2018کے انتخاب ختم ہونے کے پہلے دن سے مولانا انتہائی ثابت قدمی سے عمران خان صاحب کی قیادت میں بنائے بندوبست کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں۔اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے نیک نیتی سے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی کو ان سے رشتہ بناتے ہوئے اپنا لبرل تشخص یاد آجاتا ہے۔مسلم لیگ (نون) پر حاوی سنجیدہ اور تجربہ کار سیاست دانوں کا گروہ مولانا کے جوش خطابت سے گھبرا جاتاہے۔مولانا مگر بددل نہیں ہوئے۔ گزشتہ تین برسوں سے مسلسل پاکستان کے تقریباََ ہر شہر اور قصبے میں جاکر کسی نہ کسی نوع کے سیاسی عمل کو متحرک رکھتے ہیں۔خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخاب کے دوران ووٹ کی پرچی استعمال کرتے ہوئے عوام کی اکثریت نے ان کی ثابت قدمی اور استقلال کو سراہا ہے۔اب یہ فرض کرلینا بھی مگر خام خیالی ہوگی کہ خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخاب عمران خان صاحب کی قیادت میں بنائے بندوبست کے خالقوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کو مائل کریں گے۔ بارہا اس کالم میں عرض کیا ہے کہ اگست 2018سے متعارف ہوا بندوبست ہماری ہر نوع کی اشرافیہ نے طویل سوچ بچار اور منظم منصوبہ بندی سے تیار کیا ہے۔اس بندوبست کے اہم ترین شراکت داروں کا مہنگائی مسئلہ نہیں۔وہ آئی ایم ایف کی ہدایات کو ہر صورت عمل پیرا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔منی بجٹ کی منظوری کے دوران اگر کسی حکومتی رکن یا اتحادی جماعت نے اڑی دکھانے کی کوشش کی تو فون کھڑکیں گے اور سب ٹھیک ہوجائے گا۔نئے سال کا آغاز ہوتے ہی مہنگائی کی ایک اور شدید ترین لہر آئے گی۔یہ فقط میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کو جس کی آمدنی محدود سے محدود تر ہوتی جارہی ہے بلبلانے کو مجبور کرے گی۔ ہماری ہر نوع کی اشرافیہ کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔عوامی جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے بلکہ کہانیاں چلوائی جائیں گی کہ عمران خان صاحب کو اِن ہائوس تبدیلی کے ذریعے ہٹانے کا منصوبہ خفیہ ملاقاتوں میں تیار ہونا شروع ہوگیا ہے۔ میڈیا میں خود کو باخبر ترین بتانے والے بھانڈ نما ذہن ساز نہایت سنجیدگی سے مبینہ منصوبے کی تفصیلات اور اس ضمن میں ہوئی آنیوں جانیوں کا ذکر شروع کردیں گے۔ بالآخر ہم سب کو مگر اسی تنخواہ پر گزارہ کرنا ہوگا۔

Comments are closed.