نیب کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے ترقی کے بنیادی ستون برآمدات ، صنعتیں ، تعمیرات ، آئی ٹی ، زراعت ، پولٹری اور ترسیلات زر ہوں گے۔وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 250ارب روپے کا اضافہ کے ساتھ 900ارب روپے

مختص کرنے جارہے ہیں ، آئندہ مالی سال کیلئے ملکی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 4.8فیصد ہے،نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے، سرکاری افسروں اور کاروباری افراد کو تحفظ دینے کیلئے یہ قانون بدلیں گے۔ جمعہ کو میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ آ ئند ہ مالی سال کیلئے 4.8 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی گئی ہے،اگلے مالی سال کے لئے ترسیلات زر کا تخمینہ 33.1ارب ڈالر رکھا ہے، صنعتی پیکیج دینے سے ملک کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے۔شعبہ صحت کےمنصوبوں کیلئے 28 ارب،ایچ ای سی کیلئے 37ارب روپے اوراسکلز ایجوکیشن پروگرام کے لئے بھی 5 ارب روپے مختص کیے ہیں، کورونا وبا کے دوران جن سیکٹرز نے تکلیف برداشت کی ان کے لئے پیکیج کی تجویز وزیر خزانہ نے منظور کرلی ہے، لائیو اسٹاک اور زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے ترجیحات میں شامل کیا ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ کاشتکاروں کو معیاری بیج اور کیڑے مار ادویات کی فراہمی کی وجہ سے اگلے سال کے لئے اس میں 10.50 ملین گانٹھوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے ہم بجلی کی کھپت میں اضافے کی پیش گوئی بھی کر رہے ہیں۔رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں 25.2 بلین ڈالر کی توقع کی جا رہی ہے وہ اگلے مالی سال میں بڑھ کر 26.8 بلین ڈالر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو رواں مالی سال کے اختتام تک 29.1 بلین ڈالر کی سطح کو چھو جانے کی امید ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے سالانہ ترقیاتی منصوبے کو رواں سال کے 650 بلین روپے سے بڑھا کر اگلے مالی سال کے لئے 900 ارب روپے کیا جا رہا ہے، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ پی ایس ڈی پی کی رقم کو پوری طرح سے استعمال کیا جائے جو ترقی کے اعداد و شمار میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *