نیوزی لینڈ ٹیم کو واپس بھجوانے کی ممکنہ سازش کی کڑیاں ملا کر پاکستانیوں کے سامنے رکھ دی گئیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عبداللہ بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اسلام آباد کے باخبر حلقے کہتے ہیں کہ یہ سیریز سازش کے تحت ختم کروائی گئی حالانکہ اس سے پہلے نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر اٹیک کا واقعہ ہوا‘ بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ بدسلوکی نہیں بدتمیزی بھی ہوئی۔

اس کے باوجود پاکستانیوں نے اظہارِ یکجہتی کے لیے مشکل حالات کے باوجود نیوزی لینڈ جا کر کرکٹ کھیلی اور پیغام دیا کہ نیوزی لینڈ محفوظ ملک ہے۔ کیپٹل سٹی میں یہ سینہ گزٹ بھی چل رہا ہے کہ نیوزی لینڈ کو ایک اور سسٹر ایمبیسی نے ڈس انفارم کیا۔ وہ ملک جس کی ایئر لائن کے ذریعے ہزاروں مغربی سفارت کار‘ جرنلسٹ‘ شہری اور بزنس مین کابل سے اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تھے‘ وہ اُن کے لیے سیف ہیون تھا‘ لیکن چند دن بعد اچانک یہ غیر محفوظ کیسے ہو گیا؟: ڈرٹی ٹاس پالیٹکس کی ڈرٹی گیم انڈین پریمیئر لیگ سے شروع ہوتی ہے جسے پنڈی میچ کے 48 گھنٹے بعد شروع ہونا تھا۔ جن دنوں آئی پی ایل چل رہا ہو بھارت کے پڑوس میں دو تگڑی ٹیمیں میچز کھیل رہی ہوں۔ ظاہر ہے کرکٹ جیسی ٹاپ کمرشل گیم کا پیسہ اور توجہ پاکستان کی طرف شفٹ ہونے کا چانس تھا کیونکہ دو بڑی ٹیمیں زبردست ون ڈے اور سنسنی خیز ٹی ٹونٹی سیریز کھیلنے جا رہی تھیں۔ انڈین میڈیا کئی ہفتے پہلے سے ابھی نندن مشرا نامی صحافی کی قیادت میں کالعدم تحریکوں کے ممکنہ اٹیک کی تیاریوں کی خبریں اور تجزیے نشر کر رہا تھا۔’پچھلے بہت سالوں سے پاکستان میں کرکٹ کھیلنا اور بیرون ملک سے کرکٹرز کے دورے کیسے رہے‘ اس پر ڈیرن سیمی نے کہا ”آج مایوس کُن خبر کے ساتھ جاگا ہوں۔ پاک نیوزی لینڈ سیزیز حفاظتی خدشات کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی۔ پچھلے چھ سالوں سے پاکستان میں کھیلنا انتہائی خوش گوار تجربہ رہا۔ میں نے اس ملک کو ہمیشہ محفوظ پایا۔ یہ پاکستان کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے‘‘۔ جیسن جلسپی آسٹریلین کرکٹر بھی بول اُٹھے ”پاکستانی کرکٹ‘ کھلاڑیوں اور فینز کیلئے مایوس کن ہے۔ پاکستان ایک عظیم کرکٹ ملک ہے‘‘۔ ڈینئل الیگزینڈر‘ سری لنکن کرکٹ کے ایڈمنسٹریٹر بولے ”سری لنکا نے پاکستان میں تینوں فارمیٹ کھیلے۔ جنوبی افریقہ‘ ویسٹ انڈیز‘ بنگلہ دیش‘ زمبابوے پاکستان میں کھیل کر گئے۔ بہت سے بین الاقوامی کرکٹرز‘ ورلڈ 11 اور پی ایس ایل کے لیے پاکستان میں کھیلے۔ ان میں نیو زی لینڈ کے کرکٹرز بھی شامل تھے۔ یہ پہلے بھی آئے تھے۔ یہ سب صرف اس لئے ممکن ہوا کہ پاکستان کرکٹ کیلئے محفوظ ملک ہے‘‘۔ اسی طرح کرکٹ کے بہت بڑے اینیلسٹ ڈینس نے کہا ”میں نے 60 سے زیادہ ممالک میں سفر کیا‘ پاکستان محفوظ ترین ملک ہے‘‘۔ اُس نے شاہی قلعے کے ساتھ گلیوں میں کرکٹ کھیلنے کی اپنی تصویر بھی شیئر کی۔ کرکٹر اینجیلو پریرا نے کہا ”دو سال پہلے پاکستان کا ٹور کیا‘ ہر منٹ سے لطف اندوز ہوا۔ انتہائی خوش آمدید کہنے والی محفوظ‘عظیم قوم کرکٹ کی واپسی دیکھے گی‘‘۔ کرِس گیل کا ٹویٹ ہے ”I am going to Pakistan tomorrow‘‘۔ امن پاکستان کا مقدر ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ بھی۔

Comments are closed.