ن) لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے کی قانونی حیثیت پر نامور وکلاء کا حیران کن موقف

لاہور(ویب ڈیسک)بغاوت یاغداری کامقدمہ ریاست کے سواکوئی دوسرا درج نہیں کرواسکتا، پہلے بھی بنگلہ دیش کی صورت میں ملک دو ٹکڑے ہوچکاہے،اب ملک دوبارہ کسی ایسے حادثہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔گزشتہ روزیہاں گفتگو کرتے ہوئے لاہوربار ایسوسی ایشن کے صدر جی اے خان طارق نے کہا کہ حالیہ مقدمات سیاسی طرز کے ہیں جن سے

اجتناب کرناچاہیے۔ پہلے بھی ہم بنگلہ دیش کی صورت میں اپنے ملک کانقصان کرچکے ہیں،اب ملک دوبارہ ایسی کسی حادثہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ درج کر کے موجودہ حکومت نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔ سابق سیکرٹری لاہوربارکامران بشیر مغل نے کہاہے کہ راجہ فاروق حیدر کے اظہار رائے کو غداری یا بغاوت قرار دے کر ان کے خلاف ایک عام شہری کی براہ راست درخواست پر مقدمہ درج کرنا ضابطہ فوجداری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ رفیق احمد بھٹی نے کہا کہ بغاوت کے مقدمے کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو مقبوضہ کشمیر کو طے شدہ منصوبے کے تحت دورہ امریکہ کے دوران سرنڈر کر کے آئی ہیں۔ شاہدرہ تھانہ میں درج ایف آئی آر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *