(ن) لیگی رہنما زبیر عمر کا آئی ایس پی آر کے بیان پر حیران کن موقف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمرنے آرمی چیف سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے جنرل قمر جاوید باجوہ سے چالیس سال پرانے تعلقات ہیں ، میری ان سے یہ کوئی پہلی ملاقات نہیں تھی ، پہلے بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں،

ملاقات میں و اضح کہا تھا کہ نہ میں نوازشریف اور مریم نواز سمیت کسی پارٹی لیڈر کے ریلیف لینے نہیں آیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر اپنے ردعمل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ میرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چالیس سال پرانے تعلقات ہیں ، یہ کوئی پہلی ملاقات نہیں تھی ، میری ان سے پہلے بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں ، مسلم لیگ (ن) پر جو مشکلات آئیں تھیں،نوازشریف کو نااہل کرنا،مریم نواز کے قید کے حوالے سے مسائل، میں اس حوالے سے کبھی بھی آرمی چیف کے پاس نہیں گیا۔ جسٹس عظمت سعید جو پانامہ بنچ کے جج تھے وہ بھی میرے چالیس سال پرانے دوست ہیں ، میں نے کبھی ان سے اس حوالے سے بات نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ جب اسد عمر کے بیٹے کا ولیمہ ہوا تو وزیراعظم عمران خان، ساری کابینہ اورآرمی چیف بھی وہاں موجود تھے ،اس وقت سب کے سامنے انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب آپ اسلام آباد آئیں تو مجھ سے ملاقات کریں ، میں نے کہا میں بالکل ملاقات کروں گا ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پانچ مہینے میں اسلام آباد ہی نہیں گیا، پھر میں نے ان سے ملاقات کی درخواست کی جس میں واضح کہا تھا کہ نہ میں کسی پارٹی کے لیڈر کے ریلیف کیلئے آیا ہوں اور نہ میاں نوازشریف کے لئے آیا ہوں ،دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے جس میں آرمی چیف نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ یہاں کس کیلئے آئے تو میں نے واضح کہا تھا کہ میں یہاں کسی کیلئے نہیں آیا ،صرف ملکی معاشیات کہ بارے میں گفتگو کرنے آیا ہوں جو کہ میری نظر میں بہت زیادہ خراب ہے، میں نے اس حوالے سے تفصیل سے بات کی ۔سابق گورنر سندھ نے کہا جب سے حکومت چھوڑی ہے میں نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی نہ ہی میں مریم نواز کا کوئی پیغام لیکر ان کے پاس گیا ،یہ ملاقات سیاسی تب ہوتی جب مریم نواز ،میاں نوازشریف یا میاں شہبازشریف کو پتہ ہوتا کہ میں ریلیف کیلئے جا رہا ہوں ،مریم نواز کو دونوں ملاقاتوں کا پہلے سے معلوم نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.