(ن) لیگ اور تحریک انصاف میں سے کس کا نقصان ہو گا اور کس کا فائدہ ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مستقبل کا سیاسی نقشہ کیا ہو سکتا ہے فی الوقت کسی کو کچھ معلوم نہیں، کیا پی ڈی ایم سیاسی اتحاد کے ساتھ ساتھ انتخابی اتحاد بھی بنے گی؟ مسلم لیگ (ن) شاید یہ نہ چاہے اور تنہا ہی سیاسی پرواز کرنے کی کوشش کرے،

تاہم تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کے اس بیان نے ایک ہلچل مچا دی ہے کہ تحریک انصاف کا تحریک لبیک پاکستان سے انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا سعد رضوی رہا ہوں گے تو وہ پھولوں کا گلدستہ لے کر انہیں ملنے جائیں گے۔ صرف یہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا دونوں جماعتوں کا کئی باتوں پر اتفاق ہے، یہ ان کا بڑا جرأت مندانہ اور چونکا دینے والا بیان ہے۔ ایک طرف حال ہی میں ان کے ساتھی پی ٹی آئی کے بعض وزراء ٹی ایل پی پر شرپسندی کے الزامات لگا چکے ہیں، اسے بھارتی فنڈنگ کے الزام سے بھی نوازتے رہے ہیں، لیکن اعجاز چودھری نے سب باتوں کی نفی کر دی ہے۔ اُدھر جس تیزی سے حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر عمل کر رہی ہے اور سعد رضوی کے خلاف اپیل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس نے مستقبل کے سیاسی نقشے کے بارے میں ایک دھندلی سی تصویر ضرور دکھا دی ہے۔ یاد رہے کہ ابھی تک حکومت ٹی ایل پی معاہدے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں یہ شق بھی شامل ہے کہ تحریک لبیک کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی، اس کا مطلب یہ ہے گزشتہ عام انتخابات میں تحریک لبیک نے جس طرح سیاسی سرگرمیوں کے بعد حصہ لیا تھا اور ووٹوں کے لحاظ سے ایک بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ اسی طرح اگلے انتخابات میں بھی وہ بھرپور حصہ لے سکے گی، ایسے میں اگر اس کا تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد ہو جاتا ہے

تو یہ باقی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہو گی، کیونکہ مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک موجود ہے اور تحریک لبیک نے اس حوالے سے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ایسے میں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی اگر پی ڈی ایم ایک انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کرلے۔ اس اتحاد میں دو مذہبی جماعتیں جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور جمعیت العلمائے پاکستان شامل ہیں۔ گویا اس اتحاد کو بھی مذہبی و دینی جماعتوں کا ووٹ ملے گا اور مقابلہ سخت ہونے کی امید ہے۔ تیسری طرف پیپلزپارٹی ہے جو پی ڈی ایم سے نکل کر تنہا پرواز کر رہی ہے۔ کیا وہ اس صورتِ حال میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی؟ خاص طور پر ان حقائق کے تناظر میں کہ اس کے سیاسی حالات کچھ اچھے نہیں اورسندھ میں بھی اسے مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ باقی تین صوبوں میں تو اس کی حالت خاصی پتلی ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں باوجود پوری کوشش کے پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں جان نہیں پڑ رہی۔ ایک چوتھی طاقت جماعت اسلامی ہے جو ابھی تک سولو پرواز کر رہی ہے، تاہم اس کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ انتخابات کے موقع پر ایک سے نہیں نظریہء ضرورت کے مطابق کئی جماعتوں سے انتخابی اتحاد کر لیتی ہے، تاہم اس بار اس کی اہمیت بڑھ جائے گی، کیونکہ مذہبی کارڈ کا آئندہ انتخابات میں اچھا خاصا استعمال ہوگا۔ ایسے میں پی ڈی ایم والے خاص طور پر یہ چاہیں گے کہ جماعت اسلامی ان سے آ ملے تاکہ تحریک انصاف ٹی ایل پی کے متوقع اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے۔ فی الوقت یہ باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں،

تاہم مستقبل کی قیاس آرائیاں مفروضوں کی بنیاد پر ہی ہوتی ہیں۔ اگر واقعات اسی طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں، جیسے یہاں بیان کئے گئے ہیں تو پھر کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ الیکٹیلز کی اہمیت بھی کم ہو جائے گی اور بڑے اتحاد ہی کام دکھائیں گے۔ یہ اور بات ہے الیکٹیبلز بھی ان جماعتوں میں شامل ہو جائیں اور مستقبل کے حوالے سے پیش بندی کر لیں۔سیاسی مستقبل کے حوالے سے بہت سی باتیں تو پہلے سے موجود ہیں۔ ان میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی بس تھوڑا بہت فرق ہی پڑتا ہے۔ مثلاً بلوچستان میں کبھی کوئی بڑا مینڈیٹ حاصل نہیں کر پاتا، وہاں چھوٹے چھوٹے گروپ اور جماعتیں ہی سامنے آتی ہیں، جو بعد میں حکومت سازی کے لئے اتحاد کر لیتی ہیں، چونکہ یہ اتحاد کسی نظریے یا اصول کی بنیاد پر نہیں ہوتا، جیسا کہ حال ہی میں جام کمال کی حکومت کے ساتھ ہوا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت اس لئے بن جاتی ہے کہ اندرون سندھ اس کا ووٹ بینک موجود ہے۔کراچی البتہ ایک ایسا شہر ہے جو پیپلزپارٹی کو مسترد کر دیتا ہے، مگر اس سے سندھ کی حکومت سازی متاثر نہیں ہوتی۔ پیپلزپارٹی کا اندرون سندھ ووٹ توڑنے کی بہت کوششیں کی گئیں، جی ڈی اے بھی بنائی گئی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے بھی بہت زور لگایا، مگر ابھی تک بھٹو کا سحر وہاں قائم ہے۔ حالانکہ پیپلزپارٹی نے سندھ کی ترقی کو بُری طرح نظر انداز کیا ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پی ایس پی، انفرادی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف نے یہاں سے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ یہاں بھی تحریک لبیک کا اچھا خاصا ووٹ بینک موجود ہے۔ مستقبل میں اگر اس کا کسی سے اتحاد ہو جاتا ہے تو کراچی سے اس اتحاد کو چند نشستیں مل سکتی ہیں۔مستقبل کے حوالے سے سب کی نظریں جنوبی پنجاب پر بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب کو جہانگیر ترین نے بھی اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ ان کے ساتھ اچھے خاصے الیکٹیبلز موجود ہیں، جن میں موجودہ کئی ارکان اسمبلی اور صوبائی وزرا بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کی عیادت کے لئے نشتر ہسپتال آئے تو عرصے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔ فی الوقت تو ان کا یہی کہنا ہے وہ تحریک انصاف کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ ان کی اپنی جماعت ہے۔ کیا مستقبل میں بھی وہ اسی طرح سوچیں گے، اس حکومت نے دوران ان کے ساتھ جو کچھ ہواوہ سب کے سامنے ہے۔ پارٹی کے اندر موجود ایک گروپ نے انہیں نشان عبرت بنوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر وہ اپنے پتے مہارت سے نہ کھیلتے تو انہیں قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی طاقت شو کی، ہم خیال گروپ کو سامنے لائے اور حکومت کو دباؤ ڈال کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ کیا وہ مستقبل میں بھی ماضی کی طرح تحریک انصاف کے لئے سرگرم کردار ادا کریں گے یا پہلے سے ایک گروپ بنا کر جوڑ توڑ کا سہارا لیں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر ترین پاکستانی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب میں انہیں ایک بادشاہ گر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے اپنا ہم خیال گروپ ضرور اتاریں گے۔یہ گروپ آزاد حیثیت میں لڑے گا یا کسی جماعت کا حصہ بن کر یہ فیصلہ شاید ابھی نہ ہو سکے، البتہ جہانگیر ترین کے تیور ہی بتاتے ہیں وہ مستقبل کی سیاست میں اپنا حصہ ضرور مانگیں گے۔

Comments are closed.