(ن) لیگ جیتے یا تحریک انصاف ، یا زرداری کا جادو چل جائے ، تم لوگوں کی زندگیاں ایسے ہی رہیں گی

لاہور (ویب ڈیسک) الیکشن ڈسکہ میں ہو، خانیوال کا ہو یا لاہور کا جیت اشرافیہ اور شکست عوام کو ہو رہی ہے۔بھلے مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی یا پی پی جیتے،عام آدمی ہار رہا ہے۔بری طرح ہار رہا ہے ۔جمہوری نظام میں بے اختیار ہونا ہار ہوتا ہے۔ہر انتخاب نچلے طبقات کو بے اختیار کرتا جا رہا ہے۔

نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بھرم کی چادر ہمارے چہروں سے ہٹتی جا رہی ہے،نظام سے توقع لگائے ہماری ہڈیاں اب خاک کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں‘بے گھر افراد اور کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لئے کئی سکیمیں متعارف کرا رکھی ہیں۔ہر سکیم کے اعلان پر میں جائزہ لیتا ہوں کہ جو لوگ ہم سے مدد کی درخواست کرتے ہیں کیا وہ ان سکیموں سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ ہر بار جواب نفی میں آتا ہے ۔بعض سکیموں پر بلا سود یا آسان اقساط میں ادائیگی کی تہمت بھی چسپاں ہے۔تہمت اس لئے کہ آج تک تفصیلات میسر نہ آ سکیں کہ ساڑھے تین برس میں اربوں روپے کی ان سکیموں سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔بینک والے کہتے ہیں حکومت نے گو سلو کا چکر چلا رکھا ہے‘وزیر اعظم کہتے ہیں بنکوں کا عملہ عام آدمی کو سہولت دینے کی تربیت سے محروم ہے۔عام آدمی کبھی بینکوں کی بات پر تالی بجاتا ہے‘کبھی وزیر اعظم کی بات سن کر زور زور سے تالیاں پیٹنے لگتا ہے ۔کئی دکھی آتمائیں تو سر پیٹنے لگتی ہیں۔ گزشتہ دنوں چھوٹے بھائی عقیل شریف کے پاس ایک مقدمہ آیا۔غریب لوگ تھے۔فیس دینے کے پیسے تک نہ تھے۔میاں بیوی میں ناچاقی ہو گئی‘پانچ چھ سال کی بچی ہے۔علیحدگی کے باجود میاں بچی سے آزادانہ ملتا۔پھر سابق شوہر کو ماں کے پاس رہنے والی بچی کے تحفظ کے خدشات ہوئے۔وہ بچی لے کر غائب ہو گیا۔بیوی کسی جج صاحب کے گھر ملازمت کرتی تھی۔جج صاحب نے تھانہ فیکٹری ایریا کو باپ کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔

بچی کی بازیابی نہ ہونے پر عدالت نے پولیس اہلکاروں کی وردی اتارنے کا انتباہ کر دیا۔پولیس نے باپ پر ایف آئی آر کاٹی‘اس کے بھائیوں‘بہنوں اور بھابیوں کو نامزد ملزمان میں لکھ لیا۔عزت دار لوگ عورتوں کی گرفتاری کے خوف سے چھپتے پھر رہے تھے۔بچی اور اس کے باپ کا ان میں سے کسی سے رابطہ نہیں تھا۔تگ و دو سے عورتوں کی ضمانتیں کرائیں۔ یہ لوگ اس قدر خوف زدہ تھے کہ ضمانت کے کاغذات تھانے میں جمع کرانے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔ان کے کسی ہمدرد نے یہ کام انجام دیا۔ایسے سینکڑوں واقعات روز رونما ہوتے ہیں۔تھانوں اور عدالتوں کے ٹھنڈے فرش پر چلنے والے اور الجھے بالوں والے سارے لوگ مجرم نہیں ہوتے‘زیادہ تر کسی ناانصافی کا شکار ہو کر ریاست کے نظام عدل پر قربان ہو رہے ہیں۔ لاہور میں شائستہ پرویز ملک کی جگہ جمشید اقبال چیمہ جیت جاتے‘چودھری اسلم گل جیت جاتے۔خانیوال سے رانا سلیم کی بجائے نشاط ڈاہا کی بیگم جیت جاتیں‘کیا فرق پڑتا۔بجٹ میں غریبوں کے لئے مفت ادویات اور علاج کی سہولیات کم ہو رہی ہیں۔معاشی اور مالیاتی نظام صرف سرمایہ داروں کے مفادات کا چوکیدار ہے۔سرمائے کی قدر میں اضافہ کرنے والی قوت مزدور اور کارکن کی ہوتی ہے۔مصنوعات کی طرح سرمائے کی ویلیو ایڈیشن بھی ہوتی ہے۔کیا یہ ظلم نہیں کہ بینک میں رقم رکھنے پر سالانہ منافع کم ملے اور بنک سے قرض لینے پر غریب کو سالانہ سود زیادہ ادا کرنا پڑے۔کیا یہ نظام عام شہری کے لئے اطمینان بخش ہو سکتا ہے جہاں پٹواری چاہے تو اراضی کا انتقال کرے چاہے تو اسے زائد کھاتوں میں ڈال کر شہریوں کے لئے مشکلات پیدا کرے۔ ہم پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نظام کی بجائے چہرے بدلنے میں دلچسپی لی۔ریاست دشمن اور عوام دشمن نظام پر جتنا بھی روح کیوڑہ چھڑک لیں، چاندی کے جتنے بھی ورق لگا دیے جائیں بد بو کم نہیں ہو سکتی۔

Comments are closed.