(ن) لیگ کے حمایتی اور (ش) لیگ مخالف صحافی کا میاں شہباز شریف کو حیران کن مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) اس وقت جب حکومت پر کورونا کے فنڈز خوردبرد کرنے کے الزامات ہیں، عمران خان پر جہانگیر ترین سے پیسے لے کر گھر چلانے کے الزامات ہیں،چودھری سرور لندن میں چیخ چیخ کر کہتے پائے گئے کہ آئی ایم ایف نے قرضے کے عوض سب کچھ اپنے نام لکھوا لیا ہے

اور سعودی عرب نے انتہائی شرمناک شرائط کے ساتھ تین ارب ڈالر پاکستان کو دیئے ہیں اس وقت بھی شہباز شریف اپنی گرفتاری کے ڈر سے خاموش بیٹھے ہیں،نامور صحافی حامد ولید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان میں ایسی جرأت ہے اور نہ ہی مریم کی طرح پارٹی اس طرح ان کے پیچھے کھڑی ہے کہ جھوٹے مقدمات قائم کرنے پر نیب اور ایف آئی اے پر دھاوا بول دے۔ وہ نون لیگ کے بپھرے ہوئے لشکر میں مفاہمت کے تیل سے بھری شیشیاں کھنکھناتے پھر رہے ہیں اور کوئی ان کا نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ وہ اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نکل گیا، اب عمران خان کے نکلنے کی باری ہے، کیونکہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ انہیں لانے پر بضد تھے اسی طرح جو بائیڈن انہیں نکالنے پر تل گئے ہیں۔ کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ شاہدخاقان عباسی اور احسن اقبال کی طرح انہوں نے ایک مرتبہ بھی اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل ہونے کا نہیں کہا ہے، وہ تو عمران خان کو لاڈلہ بھی کہتے، وہ نون لیگ میں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ ہیں!ملک کے سیاسی حالات پلٹا کھا رہے ہیں۔نوازشریف لندن میں بیٹھ کر پاکستان چلا رہے ہیں،آصف علی زرداری کراچی میں ہوتے ہوئے بھی دبئی میں مقیم محسوس ہوتے ہیں،جبکہ عمران خان بنی گالا نہیں، بلکہ بنوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اسلام آبادسے ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، لیکن شہباز شریف کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے

کہ شاہد خاقان عباسی انہیں وزارت عظمیٰ کا امیدوار ڈکلیئر کردیں، جس کی اگلے روز ہی نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان نے تردید کردی کہ ان کے علم میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے کہ جب مارچ تک اس حکومت کی رخصتی کی باتیں ہو رہی ہیں اور عالم یہ ہے کہ نون لیگ کے صدر ہونے کے باوجود شہباز شریف اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام کے درمیان نہیں ہیں۔ اس کے برعکس وہ ڈرائنگ روم کی سیاست کے کھلاڑی بنے نظر آتے ہیں۔ان کی یہی سوچ رہی تومارچ میں حکومت ہی نہیں اپوزیشن بھی چلی جائے گی، کیونکہ عوام سیاستدانوں سے آگے نکل چکے ہیں اور ہاتھوں میں پتھر لئے فواد چودھری کی تلاش میں ہیں جنھیں ملک میں مہنگائی نظر آتی ہے نہ دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نظر آتا ہے۔ ایسے میں اگر شہباز شریف نے نیمے دروں، نیمے بروں کی پالیسی کو ترک نہ کیا تو ممکن ہے کہ لوگ انقلاب انقلاب کا غلغلہ بلند کرتے ہوئے ان کو بھی تلاش کرتے پھریں!

Comments are closed.