وجاہت علی خان نے تبدیلی والوں کے پلے کچھ بھی نہ چھوڑا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار وجاہت علی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔حکمرانوپلیز! آپ نہ گھبرائیں!٭ اس لئے کہ آپ نے کون سا بیمار بیوہ ماں کی کھانسی کی دوا کیلئے پیسے اکٹھا کرنے ہیںیا جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہوتی بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں۔

٭ آپ کے کون سے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوک و پیاس سے بلک رہے ہیں اور آپ کے پاس انہیں دینے کیلئے دو وقت کی روٹی اور صاف پانی کی ’عیاشی‘ تک نہیں۔٭ کون سا آپ کے کسی بچے نے ایم اے پاس کر لیا ہے اور کئی سال سے کسی چھوٹی موٹی نوکری کیلئے در بدر سڑکوں پر دھکے کھاتا پھر رہا ہے۔ آپ نے بالکل نہیں گھبرانا!٭ خدانخواستہ آپ کے بچوں کو کوئی خطرہ نہیں اور اللہ کا شکر ہے وہ بغیر ڈھکن کے کھلے گٹروں میں گر کر یا موت کا پیغام بننے والے گندے نالوں میں گر جانے سے محفوظ ہیں۔٭ آپ کا گھر کون سا کرایے کا ہے جس کا آٹھ ماہ سے کرایہ نہیں دیا جا سکا اور مالک مکان نے آپ کا سامان غنڈوں کو بلوا کر باہر پھینکوا دیا ہے اور اب آپ کے بیوی بچے کھلے آسمان تلے اللہ کے آسرے پر ہیں۔٭ آپ تو اوورسیز پاکستانی بھی نہیں ہیں کہ آپ کے خون پسینے سے پاکستان میں خریدی گئی کسی جائیداد پر قبضہ ہو چکا ہے۔٭ آپ نے کون سا کسی بینک کا ایک دو لاکھ روپے کا قرض واپس کرنا ہے اور قسط کی عدم ادائیگی پر آپ کو قرقی کے آرڈر آنے کے بعد پولیس یا کورٹ کے چکر کاٹنا پڑنے ہیں۔ آپ مت گھبرائیں!٭ یہ پٹرول مہنگا ہونے کا شور تو ہم جیسے ناہنجار غریب غربا مچا رہے ہیں جن کی چھکڑا موٹر سائیکلوں کو دو چار لیٹر پٹرول کی ضرورت ہے لیکن آپ کا یہ مسئلہ نہیں ہے آپ کی تو گاڑیاں بھی سرکاری اور پٹرول بھی سرکاری ہے

، چنانچہ مہنگا ہو یا سستا اور نہ ملے تو بھی آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔٭ یہ جو سرکاری نلکوں میں پانی نہیں آتا، گندہ پانی آتا ہے یا بالکل نہیں آتا یہ آپ کا گھر تھوڑی ہے، آپ تو منرل واٹر بھی پی سکتے ہیں۔٭ اور ہاں! یہ جو دن رات بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے آپ تو اس سے بھی مبّرا ہیں یہ تو ہمارے گھروں میں ہوتی ہے۔٭ آپ کا کون سا بڑا یا چھوٹا بزنس ہے کہ آپ کو اس کے بند ہوجانے کا خطرہ ہو اور نہ ہی آپ سے کوئی بدمعاش یا گروہ بھتّہ مانگ رہا ہے۔ آپ بالکل نہ گھبرائیں!٭ آٹا، دال، چاول، گوشت، گھی اور خوردنی تیل وغیرہ اگر غریب کی قوتِ خرید سے باہر ہو رہے ہیںتو آپکا مسئلہ تھوڑی ہی ہے۔٭ یہ جو دوائیں مہنگی ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور اسپرین خریدنے تک کی سکت بھی ان میں نہیں رہی ،یہ آپ کا مسئلہ نہیںہے، آپ کو تو سرکاری خرچ پر اصلی دوا گھر بیٹھے میسر ہے۔٭ اور یہ امریکی ڈالر چاہے 200اور برطانوی پاؤنڈ خواہ 300روپے کا ہو جائے آپ نے بالکل نہیں گھبرانا۔٭ معیشت تباہ ہو جائے، قومی وقار کی دھجیاں بکھر جائیں، پاکستانی پاسپورٹ کی بیرونی دُنیا میں عزت ہو نہ ہو، سارے دوست ممالک ناراض ہو جائیں، کشمیر تک بھی ہاتھ سے نکل جائے اور جو بائیڈن آپ کو فون کرے نہ کرے، امریکی سینیٹ میں تالبان اور حامی ممالک پر پابندیوں کا بل پیش ہو جائے!آپ نے بالکل نہیں گھبرانا!

٭ اور یہ جو ’’نیب‘‘ نے تین سال میں 33کروڑ روپے کی ریکوری کی اور برطانوی عدالت نے اسے 6.5ارب روپے کا جرمانہ کیا ہے اس پر بھی آپکو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔٭ اور پھر یہ جو پانچ سے سولہ برس کے 2کروڑ 20لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ان میں آپ کے بچے تھوڑا ہی ہیں جو اسکول نہیں جاتے اور تعلیمی بجٹ ناکافی ہونے کی وجہ سے پانچ سال کا ہر بچہ اسکول نہیں جا سکتا، یہ بھی آپ کا درد سر نہیں ہے۔٭ پاکستان کی کسی عدالت میں آپ کا کوئی مقدمہ دہائیوں سے تو نہیں چل رہا کہ عدالتوں کے چکر لگا اور وکیلوں کی فیس دے کر آپ بےسکت ہو چکے ہوں بلکہ آپ کے پاس تو اللہ کے فضل سے اس قدر وسائل ہیں کہ آپ برسوں اسٹے آرڈر کے پیچھے چھُپ سکتے ہیں۔٭ آپ کو چوری ڈاکے کا ڈر ہے نہ یہ خوف کہ کہیں کسی گلی چوراہے کےنکڑپر کوئی گن پوائنٹ پر آپ کا موبائل اور پیسے چھین لے گا۔ پلیز آپ نہ گھبرائیں!٭ بھوک، ننگ، پریشانیوں، بیروزگاری، مہنگائی اور نارسائی سے گھبرانے کیلئے 22کروڑ پاکستانی اور 80لاکھ اوورسیز پاکستانی ابھی زندہ ہیں، یہ سارے دُکھ، غم اور مسائل ہمارے لئے ہیں۔ ہمیں بس فکر ہے تو آپ کے گھبرانے کی کیونکہ اگر آپ گھبرا گئے تو اس ساری اپوزیشن پر مقدمات کون کرے گا، انہیں قید کی سلاخوں کے پیچھے کون ڈالے گا انہیں رُلائے گا کون؟ چنانچہ جنابِ وزیراعظم آپ گھبرائیں بالکل نہیں لیکن عبدالحمید عدم کا یہ شعر ضرور پڑھ لیں۔میرا شیرازہ ہستی نہ بکھر جائے۔۔۔عدم اس پری زاد کو توفیق نظر ہونے تک…..

Comments are closed.