وزاعظم عمران خان نے بالآخر ملک کے اہم مسئلہ پر توجہ مرکوز کر دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ علاقہ بہت پیچھے رہ گیا‘ بلوچستان کے جس علاقے نے پورے ملک کوگیس دی وہ پتھر کے دور میں ہے‘ہماراوژن غریب عوام اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہے‘قانون طاقتور

کو نہیں پکڑتا‘منی لانڈرنگ سمیت تمام قوانین اشرافیہ کے سامنے بے بس ہیں۔منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین میں بھی بڑے ممالک کو تحفظ دیاجاتا ہے ‘ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ اورایلیٹ کلاس کے لیے منصوبہ بندی کی گئی‘امیر لوگوں کیلئے بنائی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں تعلیم اور صحت کا نظام تباہ ہوا‘یکطرفہ ترقی کے بہت برے اثرات ہوتے ہیں‘ڈیجیٹل پاکستان وژن ملک کا مستقبل ہے۔ہم نے ابھی بہت کام کرنا ہے‘ موجودہ حکومت نہ صرف عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے بلکہ قرضوں اور معاشی مسائل میں گھری مملکت کو استحکام دینے کیلئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے‘ ماضی میں کئے گئے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے نہ صرف عام آدمی اور صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوا بلکہ گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہو گیاجس کا سارا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے۔توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے‘مستحقین تک سبسڈی پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے تقریب اورجائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے جاز اور یوفون کو دیئے گئے پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کی تکمیل کیلئے اب تک کئے جانے والے اقدامات اطمینان بخش ہیں تاہم ہمیں ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں خود کو بنائے رکھنے کیلئے انتھک محنت کرنا ہو گی۔ایلیٹ کلاس نے سارے کام اپنے لئے کرلئے اور غریبوں کو مزید غریب کر دیا‘بلوچستان اور بہت سے علاقے آج بھی پتھر کے دور کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔دریں اثناءعمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں کئے گئے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے نہ صرف عام آدمی اور صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوا بلکہ گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہو گیاجس کا سارا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے‘ سبسڈی کے نظام کو منصفانہ، شفاف اور مستحقین تک موثر طریقہ سے پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *