وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا احوال

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم صاحب فرما رہے تھے ”میں جہانگیر ترین خدمات کا ہمیشہ بڑا معترف رہا۔ میں نے اُنہیں ہمیشہ بڑی عزت دی، وہ ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہے، سپریم کورٹ نے اُنہیں نااہل قراردیا۔ میں نے اِس کی بھی پروا نہیں کی۔

اِس حوالے سے مجھے بڑی تنقیدکا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اوقات اُن کی پوزیشن کا دفاع کرتے ہوئے مجھے بڑی مشکل پیش آتی تھی۔ ہمارے پاس اُن پر اِس تنقید کا کوئی مو¿ثر جواب نہیں ہوتا تھا ایک شخص جسے سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا اُ سے کیوں ڈپٹی پرائم منسٹر کی حیثیت حاصل ہے؟ اِس غیراعلانیہ حیثیت میں وہ بعض اوقات میرے (وزیراعظم کے) اختیارات استعمال کرنے سے بھی بعض معاملات میں گریز نہیں کرتے تھے، اِس دوران مجھ پر کچھ انکشافات ہوئے، مجھے پتہ چلا وہ اپنی حیثیت یا میری محبت کے ناجائز فائدے اُٹھا رہے ہیں، ایسے فائدے جن کا نقصان براہ راست ملک اور غریب عوام کو ہورہا ہے۔ اور اِس کے فائدے ”شوگر گروہوں “ کو ہورہے ہیں، میں نے جب اِس ضمن میں باقاعدہ تفصیلات طلب کیں مجھے یقین ہی نہیں آیا مالی مفادات کے لیے کوئی اِس حدتک جاسکتا ہے، میں نے سوچا اگر میں نے ان سارے معاملات کو نظرانداز کردیا تو اُن کے اور اُن سے وابستہ گروہوں کے چاکے مزید کھل جائیں گے، وہ ملک اور پسے ہوئے عوام کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔ ظاہر ہے میرے لیے یہ برداشت کرنا ناممکن تھا، میں اپنے سیاسی مخالفین کو رات دن چور کہتے نہیں تھکتا، پھر یہ کیسے ممکن تھا میں اپنی جماعت کے ایسے ہی لوگوں کی لُوٹ مار کو نظرانداز کردیتا اور اُن کے خلاف باقاعدہ انکوائری نہ کرواتا؟، سو میں نے اُن کے خلاف انکوائری کا ایف آئی اے کو حکم دیا، ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد میں نے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا، ….

یہ انکوائری میں نے اپوزیشن کے مطالبے پر تو نہیں کروائی، مجھ پر اس کی انکوائری کے لیے کوئی بیرونی دباﺅ نہیں تھا، میں نے صرف اپنے ضمیر کے دباﺅ پر یہ فیصلہ کیا، اب کوئی کچھ بھی کہے، مجھ پر دباﺅ بڑھانے یا دباﺅ ڈالنے کے لیے کوئی کسی بھی حدتک چلا جائے، مجھ پر دباﺅ ڈالنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے مجھ پر کوئی دباﺅ اثر انداز نہیں ہوسکتا ، ملک سے لُوٹ مار ختم کرنا میرا مشن ہے، اِس مشن کی تکمیل میں جو رکاوٹ بنے گا میں اُ سے نہیں چھوڑوں گا، لوگ مجھے کہتے ہیں ہروقت مخالف سیاستدانوں کو چور کہنے سے تین برسوں میں کیا حاصل ہوا؟، تین برسوں میں یہ حاصل ہوا کہ یہ لوگ مزید لُوٹ مار نہیں کرسکے، یا کم ازکم ایسی لُوٹ مار نہیں کرسکے جس کا براہ راست ملک اور پسے ہوئے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا، پچھلے تیس چالیس برسوں میں دوجماعتیں بار بار اقتدار میں رہیں، سیاسی معاملات میں دونوں ایک دوسرے کے دست وگریبان ہوتے تھے، مگر ایک معاملے میں دونوں کا اتفاق تھا اور وہ معاملہ لُوٹ مار کا تھا، پچھلے تین برسوں میں جب سے ہماری حکومت آئی ہے اِن دونوں جماعتوں کو لُوٹ مار کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، اُن کی لُوٹ مار کے راستے میں، میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوں ، یہ اپنی پوری قوت اور پوری کوششوں کے باوجود اس دیوار کوگرانا تو درکنار اسے ہلا بھی نہیں سکے، میں نے جب جہانگیر ترین اور شوگرمافیا کے لئے انکوائری کا حکم دیا

میرے کچھ دوستوں، حتیٰ کہ میری کابینہ کے کچھ ارکان نے بھی مجھے قائل کرنے کی پوری کوشش کی کہ شوگر مافیا جو فائدے اُٹھا رہا ہے وہ اُ س کا ”حق“ ہے، یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، ہمیں بھلا اِ سے روکنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ نہ ہی یہ اپوزیشن میں سے کسی کا مطالبہ ہے، وہ سب اِسی پالیسی سے فائدے اُٹھا رہے ہیں، لہٰذا اِس ضمن میں ہمارا خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے، مجھے حیرانی ہوئی میری کابینہ کے کچھ ارکان کے اِن جذبات کی تائید ایک دو ایسے وزراءبھی کررہے تھے جن کا شوگر وغیرہ کے معاملات سے دُور دُور کا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں تھا، اُنہیں شاید خدشہ یہ تھا اِس معاملے کو چھیڑنے سے ہماری حکومت کمزور ہوسکتی ہے، جبکہ میں جب سے اقتدار میں آیا ہوں میں نے اِس معاملے کی کبھی پرواہی نہیں کی کہ نیک نیتی اور جذبہ حُب الوطنی سے کیے جانے والے کسی کام سے میری حکومت کمزور ہوسکتی ہے، کچھ ارکان اسمبلی بھی مجھ سے آکر ملے۔ اُنہوں نے بھی مجھ سے کہا جہانگیر کی پارٹی کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ ہماری حکومت بنانے میں بھی اُن کا بڑا اہم کردار ہے۔مستقبل میں بھی ہماری حکومت پر کبھی مشکل وقت آیا وہی ہمارا ہرطرح سے ساتھ دے سکتے ہیں، لہٰذاآپ اُن کے یادیگر شوگر گروہوں کے خلاف اقدامات یا انکوائری وغیرہ سے گریز کریں“۔ ….میرے پاس اب دوراستے تھے، ایک یہ کہ میں اپنے کچھ سیاسی دوستوں، وزراءاور ارکان اسمبلی کی باتوں میں آکر اِس مسئلے کو نظرانداز کردیتا، ظاہر ہے اپنی

فطرت یا طبیعت کے مطابق میں یہ نہیں کرسکتا تھا، اور دوسرا راستہ وہی ہے جو میں نے اپنایا، میں نے اِس معاملے کی صاف شفاف تحقیقات کا حکم دیا، مجھے یہی کرنا چاہیے تھا، لُوٹ مار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا جو جذبہ یا مشن میں لے کر آیا تھا میں اُس سے ایک انچ بھی پچھے نہیں ہٹنا چاہتا تھا، نہ کبھی ہٹوں گا، میں اگر مصلحتوں اور کمزوریوں کا شکار ہورجاتا پھر میرے اور سابقہ چورحکمرانوں میں فرق کیا رہ جاتا؟۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا” شوگر گروہوں کے بارے میں انکوائری کروانے سے میری حکومت جاتی ہے مجھے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میں نے چوبیس سال بغیر حکومت کے لُوٹ مار کے خلاف جدوجہد کی، میں دوبارہ بغیر حکومت کے یہ جدوجہد جاری رکھوں گا، یہ بات میرے اِس جذبے کے خلاف سازشیں کرنے والے گروہوں کو اچھی طرح معلوم ہے ، جس مقام (وزیراعظم) پر اللہ نے مجھے پہنچا دیاہے اِس سے بڑھ کر کوئی مقام یا عہدہ اب میرے لیے اور کیا ہوسکتا ہے؟، مجھے یہ فکر بھی نہیں ہے کہ میرے بعد میرے کسی بیٹے، بھائی، داماد، یا کسی اور رشتے دار کو اقتدار سنبھالناہے، اِس لیے میں کسی کے پریشر میں نہیں آﺅں گا، میں کچھ دوستوں یا کچھ صحافیوں کے اس مو¿قف کو مکمل طورپر رد کرتا ہوں کہ جہانگیر ترین نے چونکہ پارٹی کی بہت خدمت کی، یا ہماری حکومت بنانے میں کوئی کردار ادا کیا تو اِس کے بدلے میں مجھے اُن کا لحاظ کرنا چاہیے تھا، یعنی اُن کے نزدیک میں نے انکوائری کاحکم دے کر بہت بڑی بداخلاقی کا مظاہرہ کیا ہے، میرے اِس اقدام سے وہ مجھے بڑا بدلحاظ قرار دے رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *