وزیراعظم عمران خان فائدے میں رہیں گے یا اپنا نقصان کریں گے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ انتخاب کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہفتہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس کو طلب کرنے کے لیے وزیر اعظم کی طرف سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو ایڈوائس بھیجی گئی تھی۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ فیصلہ سینیٹ انتخاب میں اسلام آباد کی جنرل نشست سے حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد کیا تھا۔واضح رہے کہ سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی نے عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی ہے، جو اب تک سینیٹ انتخاب میں سب سے بڑے اپ سیٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے وزیر اعظم عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے سے متعلق انھیں ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وہ شکست کھا گئے تو پھر وہ ایسا کریں گے۔‘بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ہار چکے ہیں اور ہم جیت چکے ہیں۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ اب وزیر اعظم کو (مستعفی ہونے سے) کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا وہ الیکشن سے ڈر رہے ہیں؟جہاں ایک جانب اپوزیشن وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے وہیں عمران خان کے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے اعلان کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان کا یہ فیصلہ ایک نپا تلا قدم ہے۔اس بارے میں بی بی سی نے سیاستدانوں اور سیاسی تجزیہ کاروں سے جاننے کی کوشش کی کہ اس فیصلے کے کیا سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور کیا یہ وزیر اعظم کو کسی بند گلی کی طرف لے جا سکتا ہے؟

پاکستان حزب اختلاف کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ وزیر اعظم کا اختیار نہیں ہے بلکہ آئین، قانون اور قاعدے کے تحت صرف صدر مملکت وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ان کے مطابق ’یہ بات بڑی واضح ہے کہ وزیر اعظم ہار گئے ہیں اور انھوں نے خود اپنے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی مہم چلائی تھی مگر خود ان کے اپنے ارکان نے ان پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت فنکشن نہیں کر سکتی ہے اور اب عوام اپنے ووٹ سے فیصلہ کرے گی کہ ملک کس نے چلانا ہے۔‘وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لوگوں میں بہت غصہ پایا جاتا ہے اور اب وہ اس کا بدلہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ کی صورت میں دیں گے۔‘ان کے مطابق اس وقت وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور انھیں امید ہے کہ اس فیصلے سے سینیٹ میں ہونے والی شکست کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔جبکہ سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے لیا گیا ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ اگر وہ یہ فیصلہ نہ لیتے تو پھر حـزب اختلاف کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونی جس سے پھر وہ (وزیر اعظم) خود عدم استحکام کا شکار ہوتے

اور ملک بھی عدم اعتماد کا شکار ہوتا۔‘سہیل وڑائچ کے مطابق ’چونکہ اعتماد کا ووٹ شو آف ہینڈز کے ذریعے سے ہو گا تو یہ سینیٹ کی طرح کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگ کھل کر وزیر اعظم کے سامنے نہیں آنا چاہیں گے۔ ‘تاہم ان کے خیال میں اگر یہ سب بھی خفیہ طریقے سے ہوتا تو پھر سینیٹ کی طرز کا عمل دہرایا جا سکتا تھا۔سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ وزیر اعظم کی ایک ’کیلکولیٹڈ موو‘ ہے اور ان کے لیے سینیٹ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جواب دینا اس طرح کے فیصلہ کرنے سے ہی ممکن تھا۔سینیئر صحافی فرح ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سینیٹ میں اپ سیٹ کے بعد اب حکومت کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے چاہے اس میں کامیابی حاصل ہو یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ حکومت کے لیے مشکل صورتحال بن چکی ہے کیونکہ انھیں اس شکست کے بارے میں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘فرح ضیا وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلے کو سیاسی طور پر بہتر آپشن کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق قومی اسمبلی میں عمران خان آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔ اس کی وجہ وہ اوپن بیلٹنگ کو ہی قرار دیتی ہیں۔سینیئر صحافی طلعت حسین کے خیال میں ’وزیر اعظم عمران کی طرف سے یہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی جوا ہے، جس کا مقصد سینیٹ میں ہونے والی شکست کے دھچکے کے اثرات کو کم کرنا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت سینیٹ میں عبدالحفیظ شیخ کی شکست کو بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اگر وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پھر اس کا نتیجہ ‘اِن ہاؤس‘ تبدیلی کی صورت میں نکلے گا۔‘

Sharing is caring!

Comments are closed.