وزیراعظم عمران خان کا حیران کن بیان سامنے آگیا

 اسلا م آباد (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے اپوزیشن سے اسمبلی میں بات چیت کے لیے تیار ہیں ، مگر یہ لوگ مجھے ڈرا کر این آر او نہیں لے سکتے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے مفادات  پاکستان کے مفادات کے برعکس ہیں ہم چاہتے ہیں امیر اور غریب

کیلئے ایک ہی قانون ہو، اگر یہ لانگ مارچ کی بات کرتے ہیں تو پھر میں لانگ مارچ کا اسپیشلسٹ ہوں،چیلنج کرتا ہوں کہ یہ ایک ہفتہ گزار گئے تو میں استعفیٰ دینے کا سوچنا شروع کروں گا،لانگ مارچ میں پتہ چل جائے گا کہ استعفیٰ مجھے دینا پڑے گا یا ان کو دینا پڑے گا، مولانا مدرسے کے بچے بلائے گا وہ بھی ایک ہفتہ نہیں گزار سکتے، پی ڈی ایم کے جلسے میں عسکری قیادت کا نام لینے پر فو ج میں بہت غصہ ہے،لیکن آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے اندر ٹھہراؤہے، اس لیے برداشت کر رہے ہیں ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو بڑا ری ایکشن آنا تھا، آرمی  چیف جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اپوزیشن والے فوج پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹا دو۔ پی ڈی ایم جلسوں میں جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں وہ ملک دشمنی ہے۔ پاکستان کی فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے۔وہ میرے ماتحت ہے، میں منتخب جمہوری وزیر اعظم ہوں،سینیٹ الیکشن حکومت کی مرضی ہے ایک مہینہ پہلے بھی کرا سکتے ہیں تیس سال سے سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چل رہا ہے،شو آف ہینڈ سے چوری اور مالی بدعنوانی ختم ہو جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم اس شخص سے استعفیٰ مانگ رہی  ہے جس نے 22 سال جدوجہد کی جس نے 4 مرتبہ مینار پاکستان بھرا۔ نواز شریف کو پتہ تھا کہ اس کے کہنے پر لاہور کے لوگ  نہیں نکلتے زرداری اور نواز شریف کے بچے آگئے۔ عوام نے ان کی چوری بچانے کے لئے نہیں نکلنا تھا۔ میں لانگ مارچ کا اسپیشلسٹ ہوں۔

Comments are closed.