وزیراعظم عمران خان کا حیران کن موقف سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کے الزامات بے بنیاد ہیں‘ انہیں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کبھی کیسز بنانے یا تحقیقات کا نہیں کہا‘جہانگیر ترین کے کیس کی تحقیقات ضرور ہوں گی۔ احتساب سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے

چاہے معاملہ پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیرترین کا ہی کیوں نہ ہو ‘ سعودی عرب میں ہماراسفارتخانہ مزدور طبقے کی مدد کی بجائے ان سے پیسہ لیتاہے ‘وہاں سے سفارتی عملے کو واپس بلالیاہے ‘ جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی کریں گے اور مثالی سزادیں گے ۔ اسلام آباد میں سینئرصحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ریفرنس فائل کرنے کا کام بشیرمیمن کا تھا ہی نہیں تو ان سے کیوں کہتا؟وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے کسی لیڈر کے خلاف کیسز بنانے سے متعلق بھی کبھی نہیں کہا اور خاتون اول کی تصویر کے معاملے میں مریم نواز پر مقدمہ بنانے کا بھی نہیں کہا، بشیر میمن صرف اومنی گروپ کی جے آئی ٹی میں پیش رفت پر بریف کیا کرتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں صرف خواجہ آصف کے اقامے کے معاملے پر تحقیقات کی ہدایت دی تھی ‘ ان سےکہا تھا کہ تحقیقات کریں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وزیر خارجہ اور دفاع غیر ملکی اقامہ اور تنخواہ لیتا ہو‘ خواجہ آصف کیس کی تحقیقات کا فیصلہ کابینہ اجلاس میں بھی کر چکے تھے ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ جہانگیر ترین کے معاملے پر ملنے والے وفد نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا ہے‘ حکومت نےفیصلہ کیاہے کہ جہانگیرترین کامعاملہ بیرسٹر علی ظفر دیکھیں گے‘ وہ دیکھیں گےکہ کہیں جہانگیر ترین کو غلط طور پر نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا! بیرسٹر علی ظفر معاملے کی رپورٹ مجھے دیں گے ۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو نہیں ہٹایا گیا‘ابوبکر خدا بخش کو شوگر اسکینڈل تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے‘اس معاملے میں شہزاداکبر کوبھی سائیڈ لائن نہیں کیاگیا‘علی ظفر دیکھیں گے کہ کہیں کوئی اثرورسوخ تواستعمال نہیں کررہا۔جہانگیرترین کے معاملے میں انصاف ہوگا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *