وزیراعظم عمران خان کو 10 روز کی ڈیڈلائن ، استعفیٰ دیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے زیرانتظام اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں تمام جماعتوں نے مزید باہمی تعاون کرنے پر اتفاق کیا. مولانا فضل الرحمٰن نے 26 نکات پر مشتمل اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن اب اس ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے مزید تعاون نہیں کریگی۔

اپوزیشن نے حکومت کو10دن کاالٹی میٹم دیتے ہوئے اکتوبرسے تحریک، جنوری میں لانگ مارچ اوردھرنے کا اعلان کیا ہے.مناسب وقت پر پارلیمنٹ سے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) قائم کردیا۔اپوزیشن نے وزیراعظم سے فوری استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے،حزب اختلاف نے انتخابی اصلاحات کا نیاقانون بنانے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے.میثاق جمہوریت پرنظرثانی کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ قبل ازیں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آئین پر عمل کرنے والے کٹہروں میں کھڑے ہیں یا قید میں ہیں، یہ فیصلہ کن موڑ ہے، ʼاگر ہم آج فیصلے نہیں کرینگے تو کب کرینگے.سابق آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف تحریک چلانے پر جیل جانے والا میں پہلا فرد ہوں گا۔بلاول بھٹو زرداری جو قوتوںنے عوام سے جمہوریت چھینی ہے اور کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑیگا، اب ہم سارے آپشن استعمال کرینگے، مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن جماعتوں سے اسمبلیوں سے فوری استعفے کامطالبہ کیا جبکہ شہبازشریف و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت برائے نام ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے 4 صفحات کا اعلامیہ جاری کیاگیا جس کو ’کل جماعتی کانفرنس قرارداد‘ کا نام دیا گیا ہے اس اعلامیے میں 26 نکات شامل ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 73؍ کے آئین، 18؍ ترمیم، NFC ایوارڈ پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، صدارتی نظام رائج کرنے کا منصوبہ مسترد، سقوط کشمیر کی ذمہ دار سلیکٹڈ حکومت قرار دیا

گیا ہے، قرارداد میں نیشنل ایکشن پلان پرعمل کرنے، غیر جانبدار ججوں کیخلاف ریفرنس ختم اورآغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے.قرارداد میں سی پیک منصوبوں پرکام تیز کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ ربڑاسٹیمپ پارلیمنٹ سے تعاون نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ اعلامیے میں گلگت بلستان میں بغیر مداخلت انتخابات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اے پی سی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے اور دھاندلی کے ذریعہ معرض وجود میں آئی اور سوا دو سال میں پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی پوری قوم کے سامنے ہے، غربت، بیروزگاری مہنگائی، کرپشن اسکینڈلز کی بھرمار ہے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ آپ کے سامنے آج ہم سب جماعتیں بیٹھی ہیں، ہمارا جو اتحاد ہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، ہم کل سے اپنا کام شروع کررہے ہیں، ہم ایک دن چین سے نہیں بیٹھ رہے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ جیسے انہی جماعتوں نے آپ کو ایم آر ڈی تحریک چلائی تھی اور اے آر ڈی کا موومنٹ چلائے تھے اب ہم اس سلیکٹڈ حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف تحریک کیلئے نکل رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ نے ہمارا پورا پلان دیکھ لیا ہے کہ اکتوبر سے جنوری تک ہم کیا کیا کررہے ہیں، عدم اعتماد کا آپشن ہے، استعفوں کاآپشن ہے۔اس کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جو اس پر ہوم ورک کر کے ، تجاویز مرتب کر کے پارٹی لیڈرز کے سامنے

پیش کرے گی اور جو طے ہوجائے گا اسی کے مطابق عمل ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں ایک جمہوری آپشن سامنے رکھنا چاہئے، کسی ہم نے سلیکٹڈ وزیراعظم کوایک اور سلیکٹڈ وزیراعظم کے ساتھ ہم نے ایکسچینج نہیں کرنا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں تک ہماری تحریک کا تعلق ہے ہم اس کو آئی جے آئی کے بجائے ایم آر ڈی اور اے آر ڈی کے ساتھ ملاتے ہیں،اسکے نتیجے میں میثاق جمہوریت آیا ہے، ہم نے انہی غلطیوں سے سیکھ کر اٹھارہویں ترمیم کی تھی، جمہوریت کو بحال بھی کیا تھا، ہم ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں، ہم غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں کا جمہوری طریقے سے مقابلہ کیا ہے، میرے پاس کوئی بندوق نہیں ہے ہم بندوق کے زور پر نہ سیاست کرتے ہیں نہ احتجاج کرتے ہیں، ہم جمہوری طریقے سے غیرجمہوری قوتوں کو قائل کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم سب نے ماضی سے سبق سیکھے ہیں، آج آپ نے دیکھا کہ سب یہاں سنجیدگی سے ایک قومی کاز کیلئے بیٹھے ہیں۔ قبل ازیں اتوار کوپاکستان پیپلز پارٹی کی میزبانی میں مقا می ہو ٹل میں ہونے والی اپوزیشن کی کُل جماعتی کانفرنس سے اپنے ابتدائی خطاب میں سابق صدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور پھر ہم آہنگی کے ذریعے مشرف کو بھیجا، 18 ویں ترمیم کے گرد ایک دیوار ہے جس سے کوئی بھی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہاکہ جب

سے ہم سیاست میں ہیں میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں نہیں دیکھیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، حکومت اے پی سی کیخلاف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی ہماری کامیابی ہے۔ سابق صدر نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صحت کیلئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہو جا نی چاہیے تھی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے تو اسکے بعد خوشحالی آتی ہے۔ ایسے ہتھکنڈے تو مشرف دور میں بھی استعمال نہیں ہوئے جو مخالفین کے ساتھ اب کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی دن کہا کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہے۔ مریم نواز نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں میں مریم نواز کو سلام پیش کرتا ہوں اور ہم انکے ساتھ ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس تقریر کے بعد مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ 18ویں ترمیم سے سب سے زیادہ حصہ پنجاب کو ملتا ہے۔ ہمیں اپنے ایوانوں کو آزاد کروانا پڑیگا اور اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر ہم اپنی عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔جمعیت علما ء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہےکہ حکومت ہما ری آواز عوام میں جا نے سے روکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اےپی سی میں اسمبلیوں سے استعفےاور سندھ اسمبلی کو تحلیل کرنے کااعلان کیا جا ئے ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہونگے، وزیراعظم سمیت اسمبلیاں جعلی اور میرے نزدیک سینیٹ چیئرمین بھی جعلی ہے۔آج ہی فیصلہ کرے کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائینگے، بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتا، اب آپ بہت کہیں گے کہ ہم لڑینگے لیکن آپ لوگ بہت پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.