وزیراعظم عمران خان کی الیکشن کمیشن پر ایک اور چوٹ

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اراکین اسمبلی اور اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ سب کو دل سے تکلیف تھی جس طرح ہم سینیٹ میں حفیظ شیخ کی نشست ہارے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب دیکھ کر انھیں اچھا لگا۔

عمران خان کے مطابق اس وقت یہ ایک آزمائش ہے جس کا مقصد دیکھنا ہے کہ آپ اس سے کیسے نکلتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی تب تگڑی ہوتی ہے جب اس پر آزمائش ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔ ان کے مطابق کئی اراکین بڑی مشکل سے یہاں پہنچے ہیں اور کئی ایسے بھی ہیں جن کی طبیعیت بھی ٹھیک نہیں تھی۔وزیر اعظم عمران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب قوم اپنے نظریے سے ہٹتی ہے تو پھر وہ ختم ہو جاتی ہے۔وزیر اعظم عمران نے کہا کہ ’یہ جو سینیٹ کے الیکشن ہوئے ہیں،،، مجھے شرم آتی ہے سپیکر صاحب،، بکرا منڈی بنی ہوئی ہے،، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا،، الیکشن کمیشن نے کہا ہم نے بڑا اچھا الیکشن کرایا ہے،،، اس سے مجھے اور صدمہ ہوا،، اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پھر پتا نہیں کہ برا الیکشن کیسا ہوتا ہے۔‘عمران خان نے اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کے علاوہ، اپوزیشن رہنماؤں اور نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’وہ آصف زرداری جو دنیا بھر میں چور ثابت ہو چکا ہے۔ دنیا میں مسٹر ٹین پرسنٹ پر فلمیں بنی ہوئی ہیں، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔۔ دوسری طرف نواز شریف جو ملک لوٹ کر اور جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے۔ آج وہاں تقریریں کر رہا ہے اور سکیمیں بنا رہا ہے کہ اس کو اتنا پیسہ دو ادھر اتنا پیسہ چلاؤ۔یہ سب چور اکٹھا ہو کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح پرویز مشرف نے ڈر کر این آر او دیا تھا۔ انھوں نے اتنا بڑا جرم کیا کہ اس این آر او کے بعد دونوں نے اقتدار میں آ کر دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹا۔ ملک پر قرضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔‘عمران خان نے کہا کہ وہ یوسف رضا گیلانی جس نے ملک سے باہر ملک کا 60 ملین ڈالر لانے کے لے خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور وہ اب وہ ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا ڈس کوالیفائی ہو گیا ہو۔

Sharing is caring!

Comments are closed.