وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد :

لاہور ( ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے نقطہ سے متفق نہ ہو سکیں ۔ فضل الرحمان نے ن لیگ کو اس پر راضی کرنے کیلئے شہباز شریف کی بجائے نوازشریف اور مریم نواز سے رابطے کئے جبکہ

پیپلزپارٹی میں بلاول کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری اور رضا ربانی سے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے ساتھ رابطوں کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان عدم اعتماد کی تحریک لانے کے حوالے سے کافی عرصہ سے کام کر رہے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیک ڈور رابطوں میں تھے مگر ان کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی ،موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر عدم اعتماد کے حوالے سے کوششیں شروع کی تو مسلم لیگ(ن) کے اندر شہباز شریف کے نظریات سے تعلق رکھنے والے بڑے گروپ نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی مخالفت کر دی اور واضح طور پر کہا کہ موجودہ حالات میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں اور تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کی صورت میں عمران خان مزید مضبوط ہو جائیں گے اور اگر ایک فیصد تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے امکانات بنتے ہیں تو اسمبلیاں تحلیل سمیت کچھ اور آپشنز بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور ساتھ میں ایسی محاذ آرائی سے وزیر اعظم عمران خان سیاسی شہید ہو ں گے اور اس سے ان کو سیاسی فائدہ ملے گا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے یا ناکام ہونے ، دونوں صورتوں میں اصل فائدہ مولانا فضل الرحمان اٹھا جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کی اکثریت کی رائے کے بعد مولانا فضل الرحمان کو پیغام گیا ہے کہ ابھی حالات سازگار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق فضل الرحمان کے ن لیگ کے اندر حمایتی ارکان اسمبلی نے ان کو اصل صورتحال بتا دی ہے کہ اگر وہ تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں تو نوازشریف سے رابطہ کریں جس پر مولانا فضل الرحمان نے نوازشریف اور مریم کے ساتھ رابطے شروع کر دیئے جبکہ پیپلزپارٹی کے اندر بھی اکثریتی ارکان مولانا فضل الرحمان کی اس تجویز سے اختلاف کر رہے ہیں جس پر مولانا فضل الرحمان اب کوشش کر رہے ہیں کہ آصف علی زرداری کے ذریعے اس موو کو چلایا جائے ۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر جہانگیر ترین کی طرف سے بھی ان کو کوئی لفٹ نہیں کرائی گئی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی عدم اعتماد کی کوششوں کے حوالے سے صرف سیاسی طور پر شور مچے گا مگر عملی طور پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی عین وقت پر اس کا حصہ نہیں بنیں گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.