وزیراعظم عمران خان ہر چند روز بعد یہ بات دراصل کس کو یاد دلاتے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پہلے بھی انہی کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ آصف علی زرداری کی سیاست پر پی ایچ ڈی کرنے کی باتیں قصہ ء پارینہ بن چکی ہیں، اب تو کپتان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پہلے دن سے یہ راز پا لیا تھا کہ

ملک میں طاقت کے مراکز سے بگاڑ کے آج تک کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بڑھک مارنے سے بہتر ہے کہ سامنے کی حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے۔ سو کپتان پچھلے دو دنوں میں دو بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے، کسی معاملے پر کوئی اختلاف موجود نہیں۔ ظاہر ہے جب وزیراعظم نے اس بات کو انا کا مسئلہ بنانا ہی نہیں کہ ہر صورت فوجی قیادت کو اپنا تابع فرمان رکھنا ہے، تو اختلاف پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔ نوازشریف کو یہ بات تین بار وزیراعظم بننے کے باوجود سمجھ نہیں آئی تھی جو عمران خان کو پہلی بار وزیراعظم بنتے ہی سمجھ آ گئی۔ مریم نواز اپنے ٹوئٹس میں لاکھ طنز کریں کہ وہ استعفا منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑتا، اس لئے استعفا منظور نہیں کیا گیا، مگر ان باتوں سے کپتان متاثر ہونے والے نہیں۔ وہ پاکستان کی 72سالہ تاریخ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اس میں سول حکمرانوں سے غلطیاں کہاں ہوئیں۔ وہ یہ غلطی دہرانے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ وہ پاور شیئرنگ کے غیر اعلانیہ فارمولے پر کھلے دل سے عمل کر رہے ہیں۔ وہ نوازشریف کی طرح مطلق العنان وزیراعظم نہیں بننا چاہتے، کیونکہ وہ دیکھ چکے ہیں کہ ایسے وزیراعظم کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں کو ان کا یہ بیان عجیب لگا تھا کہ ”فوج حکومت کے ساتھ ہے“۔ فوج تو ایک ریاستی ادارہ ہے اور اسے حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے، وہ تو ہوتا ہی حکومت کے ساتھ ہے،

پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش ائی تو صاحبو! کپتان نے یہ پیغام جنہیں دینا تھا دے دیا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں سول حکومتیں صرف اس وقت ختم ہوئیں جب فوج کی حمایت سے محروم ہو گئیں۔ یہاں اپوزیشن پہلے دن سے حکومت کو گھر بھیجنے کا مطالبہ ہی اس امید پر کرتی ہے کہ فوج اسے چلتا کرے گی۔ وگرنہ اور تو کوئی راستہ ہے نہیں۔ صرف ایک آئینی راستہ ہے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر اسے گھر بھیج دیا جائے، مگر یہ آئینی راستہ بھی فوج کی حمایت کے بغیر اختیار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ارکانِ اسمبلی بھی طاقت کے اصل مراکز کی سنتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کی نہیں۔ یہ جو اپوزیشن آئے دن حکومت گرانے کے لئے اے پی سی بلانے کی کال دیتی رہتی ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، تاوقتیکہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کو سرخ جھنڈی دکھانے کا فیصلہ نہ کرے۔ ذرا وزیراعظم کے دونوں بیانات کی ٹائمنگ ملاحظہ فرمائیں، انہوں نے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہونے والا بیان اس ملاقات کے بعددیا جو آصف زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ہوئی۔ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ نظر انداز کرنے والا نہیں تھا، اس لئے وزیراعظم نے تمام راستے بند کرنے کے لئے حکومت کی مضبوطی کا بلواسطہ اعلان فوج کے ساتھ مثالی تعلقات کا حوالہ دے کر کیا۔ اب کوئی لاکھ یہ کہتا رہے کہ انہوں نے یہ بیان دے کر اس شبے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ وہ ایک سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں

اور فوج انہیں اقتدار میں لائی۔ یہ بات تو اپوزیشن شروع دن سے کہہ رہی ہے۔ اس بات کو وزیراعظم اپنے لئے طعنہ نہیں سمجھتے، بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں، اسی لئے تو کھلم کھلا کر یہ بیان دیتے ہیں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔پاکستان میں فوج سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ہر مسئلے پر فوج کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک منظم ادارہ ہے جو بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے۔ فوجی قیادت کی سوچ میں ہمیشہ یہ خیال موجود رہا ہے کہ ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لئے اسے اپنا کردار ادا کرنا ہے، لیکن ہمیشہ یہ صورتِ حال موجود رہی کہ سول و عسکری قیادت ایک دوسرے سے فاصلے پر نظر آئی۔ ایک انجانا سا عدم اعتماد دونوں طرف موجود رہا۔ اختیارات کی لڑائی بھی جاری رہی اور فوج اپنے منظم ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جیتتی بھی رہی۔ کبھی مارشل لاء لگائے اور کبھی سول حکمرانوں کو گھر بھیج کر فوج اپنے طاقتور ہونے کا احساس دلاتی رہی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا، جب اپنی اسی پالیسی کی وجہ سے فوج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے طویل ادوار میں یہ فاصلے زیادہ بڑھے۔ پھر فوجی قیادت نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی۔ سیاست میں عملی شرکت کی بجائے، پس منطر میں رہ کر کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پچھلے بارہ برسوں میں فوج نے اقتدار پر قبضے کی روش ترک کر رکھی ہے۔ مارشل لاء کی باتیں خواب و خیال ہو گئی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج ہر معاملے سے لاتعلق ہو گئی ہے۔

انہی بارہ برسوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے 5سال گزارے اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت بھی پانچ سال پورے کرکے گئی، البتہ دونوں ادوار میں حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی کا تاثر برقرار رہا۔ اس کی وجہ دونوں کے درمیان اعتماد اور بھروسے کا فقدان تھا۔اختیارات کی رسہ کشی بھی اپنی جگہ جاری تھی۔ کئی ایسے مواقع آئے جب فوج جمہوریت پر دھاوا بول کر اسے ختم کر سکتی تھی۔ خاص طور پر 2014ء میں تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران کئی مرتبہ یہ خبریں بریکنگ نیوز بنیں کہ جنرل راحیل شریف نے اقتدار سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اب یہ وہ موقع تھا کہ جب نوازشریف فوج سے محاذ آرائی کی بجائے اچھے تعلقات قائم کر سکتے تھے، لیکن وہ اُلٹا اختیارات کے جنون میں مبتلا ہو گئے۔ وہ خارجہ و داخلہ پالیسی میں فوج کی ایک نہیں سننا چاہتے تھے، حالانکہ یہ دونوں شعبے فوج کے بغیر چل ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے فوجی قیادت کو نظر انداز کرکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان بلایا، یہ سب سے بڑا واقعہ تھا، جس نے نوازشریف اور فوجی قیادت میں خلیج پیدا کی۔بعدازاں نوازشریف اس خبط میں مبتلا ہو گئے کہ فوج کو ہر صورت حکومت کے تابع فرمان ہونا چاہیے۔ اگرچہ آئینی طور پر ان کی یہ خواہش جائز تھی مگر پاکستان کے معروضی حالات میں یہ خواہش دیوانے کے خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ سو انہیں تیسری بار بھی ایک ناگفتہ بہ صورتِ حال سے دوچار ہونا پڑا،

ان کے لئے حالات اس قدر تنگ ہو گئے تھے کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی وہ کئی کئی ہفتے ملک سے باہر چلے جاتے تھے۔ وہ جمہوریت کے نام پر اختیارات چاہتے تھے، حالانکہ انہوں نے خود اپنی جماعت اور حکومت میں اپنی شخصی آمریت قائم کر رکھی تھی۔ پھر ان کے معاملات بھی اتنے شفاف نہیں تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا سکتے، ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ وہ اس وقت سامنے لائے، جب انہیں نااہل قرار دے دیا گیا اور ان کے ناجائز اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آ گئیں۔نوازشریف نے وزارتِ عظمیٰ اور بادشاہت کے درمیان لکیر مٹانے کی کوشش کی تھی۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ جمہوریت میں بہت سی قدغنیں بھی ہوتی ہیں۔ آئین میں ریاستی اداروں کی حرمت بھی بیان کر دی گئی ہے، جس کا احترام قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ فوج کو سرنڈر کرانے کی ضد تو امریکہ میں بھی پوری نہیں ہوئی اور صدر ٹرمپ بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ اس راز کو وزیراعظم عمران خان پا گئے ہیں۔ بطور وزیراعظم ان کے اختیارات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ انہیں ہی استعمال کرلیں تو بہت ہے، چہ جائیکہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو جائیں کہ فوج کسی معاملے میں مداخلت نہ کرے اور بس جی حضوری کرے۔ سو اس پالیسی کے تحت وہ فوج کو اپنا حریف نہیں حلیف سمجھتے ہیں یہ اتنی کامیاب حکمت عملی ہے کہ اس کی وجہ سے وہ اور ان کا اقتدار بالکل محفوظ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن لاکھ کوشش کرے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، کیونکہ جنہوں نے کچھ کرنا ہے، وہ تو حکومت کے پوری طرح ساتھ کھڑے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.