وزیراعظم کے معاون خصوصی کے استعفے کے پیچھے چھپی کہانی

اسلام آباد (ویب ڈیسک وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں وزیراعظم آفس میں ایک طاقتور وزیر نے استعفیٰ پرنسپل سیکرٹری کو جمع کرانے کا کہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اور پٹرولیم تابش گوہر نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا ہے

بلکہ انہیں ایسا کرنے کا کہا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد توانائی کے شعبے میں یہ تیسرے ٹیکنوکریٹ تھے جو مستعفی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل تابش گوہر نے وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر سے اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دیا تھا اور دبئی چلے گئے تھے، تاہم، وزیراعظم کی مداخلت پر وہ 12 جنوری، 2021 کو واپس آگئے تھے۔ اس عہدے سے مستعفی ہونے والے سب سے پہلے سید شہزاد قاسم تھے ، ان کے بعد ندیم بابر سے پٹرول بحران کی وجہ سے استعفیٰ لیا گیا اور اب تابش گوہر سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ وزیراعظم آفس میں کابینہ میں شامل ایک طاقتور وزیر نے تابش گوہر سے کہا انہیں اجلاس میں شریک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اپنا استعفیٰ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو جمع کرادیں۔ یہ سب اچانک ہی ہوا۔ سرکاری طور پر جاری تابش گوہر کے ٹوور پروگرام کے مطابق، جس کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے، ان کے 23 ستمبر تک مختلف حکام سے ملاقاتیں طے تھیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تابش گوہر نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں کوئی ٹیکنوکریٹ وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے توانائی نہیں بننا چاہے گا، خاص طور پر جب موجودہ حکومت کے صرف دو سال باقی رہ گئے ہیں۔تاہم، کچھ کابینہ ارکان نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ تابش گوہر حکومتی منصوبوں کو اہمیت نہیں دے رہے تھے ۔ ایک وزیر کا کہنا تھا کہ حکومتی حلقوں میں تابش گوہر کا منفی تشخص سامنے آیا تھا ۔ 13 ستمبر، 2021 کو سی سی او ای اجلاس میں پی ٹی آئی کے پانچ کابینہ ارکان نے ریفائنری پالیسی 2021 پر تابش گوہر کو سخت ٹائم دیا اور ان کی آرا مسترد کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی تابش گوہر کی رائے مسترد کی۔ اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بینک کا فنڈڈ منصوبہ ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر، جس پر حکومت عمل درآمد چاہتی ہے، اس منصوبے کی بھی تابش گوہر نے مخالفت کی اور کہا کہ اس کا دائرہ وسیع کرکے اسی سی پیک کے تحت لانا چاہیئے۔ جس کی ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی مخالفت کی۔ یہ منصوبہ کئی برس سے زیرالتوا ہے اور اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاور ڈویژن چاہتا ہے کہ اس منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد ہو کیوں کہ اس پر 22 لاکھ ڈالرز جرمانے کا خطرہ ہے، جب کہ تابش گوہر اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

Comments are closed.