وزیرعظم کے بیان پر ایک صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم نے بالکل درست کہا کہ ہمیں اپنی فلموں، ڈراموں اور موبائل ایپس کو گندگی سے پاک کرنا چاہئے اور دیکھنے والوں کو ایسی تفریح دیں جو تعمیری ہو۔ ترک ڈرامہ ارتغرل کی مثال بھی خان صاحب نے دی

اور یہ بھی بتایا کہ پہلے جب وہ پوچھتے تھے کہ اچھی اور تعمیری فلمیں اور ڈرامے کیوں نہیں بنتے تو جواب دیا جاتا تھا کہ لوگ یہی گند دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ترک ڈرامہ پاکستان میں دکھایا گیا تو اُس نے اِس جھوٹ کو بےنقاب کیا اور اس ڈرامہ نے پاکستان میں تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ وزیراعظم نے پردے کی بھی بات کی جس کا اسلام حکم دیتا ہے لیکن اس سب کو جان بوجھ کر اس لئے اسکینڈلائز کیا گیا تاکہ غلط چیزیں پھیلانے والوں کے دھندے کو تحفظ دیا جا سکے اور کوئی پردے کی بات نہ کرے۔ یہ ساری کارروائی اس انداز میں کی جاتی ہے کہ عام لوگوں کو کنفیوژ کیا جا سکے اور اسلام کی بات کرنے والوں کو دیوار سے ایسے لگا دیا جائے کہ کوئی اسلام اور اسلامی شعائر کی بات ہی نہ کرے۔ ہیومن رائٹس والوں نے کبھی اس بارے میں بات کیوں نہیں کہ خواتین کو پیسہ کمانے کے لئے کس طرح کارپوریٹ سیکٹر استعمال کرتا ہے؟ اُن کو نمائشی چیز اور بازاری بنا کر کیوں پیش کیا جاتا ہے، اُن کی توہین کیوں کی جاتی ہے؟ ہمارے نام نہاد انسانی حقوق کے سیانے اور لبرلز کا وہ مخصوص طبقہ جسے اُس کی سوچ کی وجہ سے دیسی لبرل کا لیبل دیا جاتا ہے، دراصل نہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو، وہ اسلامی احکامات اور اسلامی شعائر کے فروغ کی بھی بات نہیں کرتا اور پاکستان کو بھارتی اور مغربی کلچر کے زیر اثر لانا چاہتا ہے۔ اگر یہ لوگ آئین کو ہی ماننے والے ہوتے تو اس گند کی روک تھام، پردے کے فروغ اور شرم و حیا کو معاشرہ میں رواج دینے کی بات کرتے لیکن ایسی بات تو نہ ان کے منہ سے کبھی سنی نہ ہی ان کے بیانات میں پڑھنے کو ملی۔ خیر ان سے تو ایسی بات کی توقع ہی نہیں لیکن افسوس مجھے اُس اکثریت کی خاموشی سے ہے جو ان غلط چیزوں کو بُرا جانتی ہے، پردے کے حق میں ہے، شرم و حیا کو پسند کرتی ہے، اسلام سے محبت کرتی ہے لیکن بولتی نہیں۔ یہاں تک کے سیاستدانوں کی اکثریت بھی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں اور میڈیا کے ڈر سے کچھ نہیں بولتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *