ووٹ کو عزت نہیں دیتے تو نہ دو کام کو عزت تو دے دو ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر ووٹ کو عزت دو اتنا ہی مقبول نعرہ ہے تو اس کے اثرات پنجاب سے باہر کیوں ختم ہو جاتے ہیں۔ کیا سندھ کے عوام ووٹ کو عزت دو پر یقین نہیں رکھتے۔ کیا کے پی کے

عوام ووٹ کو عزت دو کے نعرہ پر یقین نہیں رکھتے۔ اور کیا بلوچستان کی عوام ووٹ کو عزت دو کے نعرہ پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ ووٹ کو عزت کا نعرہ اٹک سے آگے اور رحیم یار خان سے آگے کیوں اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ اصل میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی نے ہی پنجاب میں اس کے ووٹ بینک کو مستحکم رکھا ہوا۔شہباز شریف کے ناقدین کے پاس کیا اس بات کا جواب ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پانچ سال مضبوط حکومتوں کے بعد بھی اگر وہاں ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے ساتھ کامیابی ممکن نہیں ہوئی تو اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ مضبوط حکومتیں پنجاب میں شہباز شریف کی طرح عوام کی خدمت نہیں کر سکی تھیں۔جہاں کام اور کارکردگی نہیں ہو گی وہاں لوگ ووٹ کو عزت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوںگے۔ جہاں کام اور کارکردگی بول رہی ہوگی وہاں ووٹ کی عزت خودبخود نظر آئے گی۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن ) کی حکومت رہی ہے لیکن اس وقت پارٹی وہاں سے ایک سیٹ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک بھی ایسا کام نہیں کر سکی جس کے نام پر آج وہاں ووٹ مانگے جا سکیں۔ اس لیے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ لوگ ووٹ دیتے وقت کسی بھی سیاسی جماعت کی کارکردگی اور کام کو سامنے رکھتے ہیں۔ووٹ دینے کے اور بھی محرکات ہو تے ہیں۔ کسی خاص موقع پر آپ کو ہمدردی اور مظلومیت کا ووٹ بھی مل جاتا ہے۔

جیسے پیپلزپارٹی نے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں دو مرتبہ ہمدردی اور مظلومیت کے نام پر ووٹ لیا ہے۔ لیکن یہ ووٹ وقتی اور عارضی ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص ماحول میں تو مل جاتاہے۔ ماحول تبدیل ہوجائے تو پھر ووٹرز محض ہمدردی اور مظلومیت کے نام پر دوبارہ ووٹ نہیں دیتے۔ دوبارہ کارکردگی کے نام پر ہی ووٹ لینا ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اگر اپنی مستقبل کی حکمت عملی میں کام کو عزت دو اور کارکردگی کے بنیاد پر ووٹ مانگنے کا فیصلہ کرے تو اس کے لیے انتخاب جیتنا آسان ہوتا جائے گا۔ محاذ آرائی بھی کم ہوجائے گی اور جیت بھی آسان ہو جائے گی۔ بلا وجہ کی محاذ آرائی نے مسلم لیگ (ن) کو کوئی خاص فائدہ نہیں دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر کام کو عزت دو کا نعرہ لگایا جا ئے گا تو لوگ ووٹ نہیں دیں گے۔ بلکہ اگر مسلم لیگ (ن) عوام کو صرف اور صرف کام اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دینے پر قائل کر سکے تو اس کے ووٹ بینک میں اضافہ ممکن ہے۔لوگ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ اس لیے وہ لوگ جو شاید ووٹ کو عزت دو سے متفق نہیں کام کو عزت دو پر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ڈال سکتے ہیں۔آج بھی اس بات پر تنقید ہوتی ہے کہ اپوزیشن عوام کے مسائل پر سیاست نہیں کر رہی ہے۔اپوزیشن ایسے مسائل میں الجھی ہوئی جس کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ بیانیہ کی بحث نے مسلم لیگ (ن) کو عوام کے اصل مسائل سے دور کر دیا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ووٹ کی عزت پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ لیکن شاید حکومتوں کی کارکردگی مہنگائی اور عوام کے دیگر مسائل زیاد ہ بڑے مسائل ہیں۔پٹرول کی قیمت بڑا مسئلہ ہے، اور مسلم لیگ (ن) کے پاس ان مسائل پر عوام کا ووٹ حا صل کرنے کے لیے اپنی کارکردگی موجود ہے۔ اس لیے ان پر ووٹ مانگنا زیادہ آسان ہے۔ اگر کام پر ووٹ مانگنے سے شہباز شریف کی عزت بڑھتی ہے اور اس کی وجہ سے کام کے نام پر ووٹ مانگنے سے اجتناب کیا جاتا ہے تو اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.