وہ ایک واقعہ جس نے ماہیما چوہدری کا فل سپیڈ جاتا کیرئیر اچانک ختم کردیا

ممبئی (ویب ڈیسک) بولی وڈ کا معصوم چہرہ مہیما چوہدری نے سال 2000کے آغاز سے قبل ایک ہی فلم سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی تھی۔مہیما چوہدری نے پہلی فلم سے ہی شہرت حاصل کی اور انہیں دھڑا دھڑ نئی فلمیں ملنے لگیں پھر انہیں 1999میں بیک وقت متعدد فلموں میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی

اور اسی سال ان کی سپر ہٹ فلم داغ دی فائر بھی سامنے آئی۔لیکن مہیما چوہدری کا 1999 میں اجے دیوگن اور کاجول کے ساتھ کی گئی فلم دل کیا کرے کی شوٹنگ کے دوران خطرناک روڈ حادثہ ہوا، جس میں وہ مرتے مرتے بچیں اور اس حادثے نے ہمیشہ کے لیے ان کی زندگی بدل دی۔چند روز قبل اداکارہ نے ایک انڈین ویب سائٹ کو بتایا کہ دل کیا کرے کی شوٹنگ کے دوران جب وہ بنگلور جا رہی تھیں تو ان کی کار خطرناک روڈ حادثے کا شکار ہوگئیں اور گاڑی کا فرنٹ شیشہ ٹوٹ کر ان کے چہرے پر آ لگا اور وہ بری طرح زخمی ہوگئیں۔اداکارہ نے حادثے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ نہیں بچیں گی لیکن وہ بچ گئیں اور انہیں کافی دیر بعد اسپتال پہنچایا گیا، جہاں اجے دیوگن اور ان کی والدہ بھی موجود تھے۔مہیما چوہدری نے بتایا کہ ان کے چہرے میں شیشے کے 67ٹکڑے گھس گئے تھے، جنہیں ڈاکٹرز نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد نکالا اور بعد ازاں ان کے چہرے کی سرجری کی گئی۔اداکارہ نے بتایا کہ چہرے کی سرجری کے بعد وہ کئی ماہ تک ایک بند کمرے میں محدود رہیں اور حادثے نے انہیں جسمانی درد کے بجائے نفسیاتی اور اخلاقی درد زیادہ دیا اور ان کی زندگی بدل کر رہ گئی۔مہیما چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں میں اتنا شعور نہیں تھا اور کوئی بھی کسی کے ساتھ ہونے والے حادثے پر اس کا ساتھ نہیں دیتا تھ بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی، اس لیے انہوں نے بھی خود کو دوسروں سے محدود رکھا تھا۔اداکارہ کے مطابق اس وقت انہوں نے متعدد فلموں میں کام کرنے کے معاہدے کر رکھے تھے مگر حادثے کی وجہ سے سب ختم ہوگئے اور کافی عرصے تک وہ ڈر کے مارے کیمرے کے سامنے آنے سے بھی گریز کرتی رہیں۔

Comments are closed.