وہ بڑا راز جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کے ساتھ قبر میں دفن ہو گیا ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔1971ء میں جب بھارت نے جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا ڈالا، پاکستان اپنا دفاع نہ کر سکا تو ذولفقار علی بھٹو مرحوم کے سر پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا جنون سوار ہوا۔

یہی مرض ہالینڈ میں رہنے والے ایک پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کو بھی لاحق ہو چکا تھا، وہ ایسی تعلیم اور تجربہ حاصل کر چکا تھا، جو پاکستان کو وہ کچھ دے سکے، جس کا خواب اسلام آباد میں دیکھا جا رہا تھا۔ ذولفقار علی بھٹو سے اس نوجوان کا رابطہ ناقابل ِ تصور کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ واقعات کی تفصیل میں جانے کا محل ہے نہ ضرورت۔ پاکستان چند ہی سال کے اندر ایٹمی طاقت بن چکا تھا۔معجزہ برپا ہو گیا تھا۔ڈاکٹر عبدالقدیر اس کامیابی کی علامت بن گئے، اور پاکستانی قوم انہیں بعد از قائد اعظمؒ…… اپنے محسن ِ اعظم کے طور پر یاد کرنے لگی۔ یہ اس کے دِل میں ایسے بسے کہ اُنہیں کوئی نکال سکا نہ نکال سکے گا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہیں ایٹمی پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا گیا، الزام لگایا گیا کہ وہ بعض دوسرے ملکوں کو اس ”کالے علم“ میں شریک کر رہے تھے، انہوں نے سب خطائیں اپنے نام کر لیں اور معاملہ دب گیا۔ پاکستان کو نشانہ بنانے والے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ یہ سب کیا تھا، اس میں کتنی حقیقت تھی بات کہاں سے چل کر کہاں پہنچی تھی،اس کے شواہد کیا تھے،اس کی تفصیل کیا تھی، اس میں کس کی ذمہ داری کیا تھی،ڈاکٹر صاحب کا نام اس میں کیسے آیا، سب کِیا دھرا، ان کا تھا یا کوئی اور بھی شریک تھا، یہ سب سوالات اب تاریخ کے سینے میں دفن ہو چکے ہیں، انہیں ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھلا دینے ہی میں عافیت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بہرحال بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کی حفاظت بھی لازم تھی، اس لیے نقل و حرکت محدود ہو گئی۔ کوئی بھی گروہ یا غیر ملکی ایجنسی انہیں اٹھا سکتی تھی، اور پاکستان کے لیے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر سکتی تھی، ان کے گزشتہ کئی ماہ و سال بڑی آزمائش اور کٹھ نائی میں گزرے، لیکن جو پاکستان کو دے چکے تھے، وہ کوئی واپس نہ لے سکا۔ ڈاکٹر صاحب کو پوری قوم ہیرو کے طور پر یاد کرتی اور ان کے راستے میں آنکھیں بچھاتی رہی۔ ڈاکٹر صاحب سے پاکستان کے اہل ِ اقتدار بہتر معاملہ کر سکتے تھے، ان کی صلاحیتوں سے تعلیمی، صنعتی اور سائنسی میدانوں میں فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ ان کی نگرانی میں ایسی ایجادات ممکن تھیں، جو پاکستان کو مالا مال کر دیتیں کہ فن لینڈ جیسی چھوٹی سی ریاست نے برسوں پہلے ایک موبائل فون (انوکیا) بنا کر ارب ہا ڈالر کما لئے تھے۔ صنعتی شعبے کو ترقی دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا،لیکن کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ جنرل پرویز مشرف کا دور ختم ہوا، ان کے بعد بھی بہت لوگ آئے، لیکن ڈرے سہمے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے عظیم دماغ سے مزید کوئی استفادہ نہ کر سکے کہ ایسے عالی دماغ سینکڑوں سال میں پیدا ہوتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب سے بہت ملاقاتیں رہیں، ان سے محبت کا تعلق ٹوٹنے نہیں پایا۔ جب ان کی شخصیت اور ان کا نام مکمل طور پر پردۂ اخفا میں تھے، انہیں کوئی ان کا نام عبدالقادر خان کہتا تو کوئی عبدالقدیر خان کہ انگریزی میں دونوں کے ہجے ایک تھے۔اس وقت ہمارے ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ کے ایک

مضمون نے انہیں ”مشتعل“ کر دیا، مجھے خط لکھ کر انہوں نے اپنا تعارف کرایا، اور یوں جنوری 1984ء میں پہلی بار قوم ان کے نام، مقام اور کام سے آگاہ ہوئی، وہ اکثر ہنس کر کہتے تھے، آپ نے تو ہمارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ڈاکٹرصاحب نے جو خط مجھے لکھا تھا، اس کی تفصیل پھر کبھی بیان ہوگی۔وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے قائل نہیں تھے۔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ان کی عادت تھی۔اخبار میں کالم لکھ کر اپنا اور دوسروں کا دِل بہلاتے رہے۔ادب اور شاعری سے شغف تھا،بے شمار شعر زبانی یاد تھے، قرآن کریم کا مطالعہ بھی جاری رکھتے، تاریخ عالم خصوصاً اسلامی تاریخ پر گہری نظر تھی۔بے سرو سامانی میں بیرون ملک گئے تھے، اپنی محنت سے وہ کچھ حاصل کیا، جو کسی اور کے حصے میں نہیں آ سکا۔ کِیا کرایا پاکستان کے قدموں پر لا کر ڈھیر کر دیا۔ رفاعی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے،ہسپتال بنائے،تعلیمی اداروں کی سرپرستی کی۔ خیبرپختونخوا کا غلام اسحق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ بھی ان کی شاہ دماغی کا شاہکار ہے۔ لاہور کا ڈاکٹر عبدالقدیر ہسپتال ان کی یاد دلاتا رہے گا۔انہوں نے پچاسی برس اس دنیا میں گذارے۔ عالمی وبائی مرض کو شکست دے کر گھر واپس آ چکے تھے کہ اچانک طبیعت بگڑ گئی،میری طرح ان کے متعدد نیاز مند انہیں صحت یابی کی مبارک باد دے چکے تھے،انہوں نے ہنستے ہوئے اسے وصول بھی کر لیا تھا،لیکن پھر اچانک فرشتہ ئ اجل کی طرف متوجہ ہو گئے۔ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں ۔۔۔تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے۔۔

Comments are closed.