وہ تقریب جس میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ 4 گھنٹے تک موجود رہے اور خود دلہن کو رخصت کیا ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نکاح کے دو بنیادی رکن ہیں (1)ایجاب (2)قبول، جس کی جانب سے پہلے نکاح کی پیش کش ہو وہ ’’ایجاب‘‘ ہے اور دوسرے کی طرف سے اس کو ہاں کر لینا ’’قبول‘‘ کہلاتا ہے۔ ایجاب و قبول کے وقت عاقدین (دولہا دلہن) میں سے ہر ایک کے لئے دوسرے کا کلام سننا

ضروری ہے۔ نامور کالم نگار محمد ضیاء الحق نقشبندی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ خواہ وہ بالاصالۃ (یعنی خود) سنیں خواہ بالوکالۃ (یعنی اُن کے وکیل سنیں) اور خواہ بالولایۃ سنیں (یعنی ان کا ولی سنے)۔ نکاحِ بقائے معاشرہ کا بنیادی ستون ہے، سنتِ نکاح سے حیات انسانی کو سہارا ملتا ہے۔ نکاح سے گراں مایہ اور نیک سرمایہ اولاد پیدا ہوتی ہے، نکاح کے باغی لوگ عورتوں کے حقوق کی پامالی میں ملوث پائے جاتے ہیں، نکاح سے گھریلو ماحول خوشگوار اور زندگی مطمئن ہوتی ہے، شریعت نے نکاح کے بارے میں مختلف حالات کی رعایت رکھی ہے۔ نکاح بعض صورتوں میں فرض اور واجب ہوتا ہے۔ نکاح سے اخلاق و عادات، سلیقہ شعاری، ادب و آداب اور حسن و جمال میں بہتری آتی ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا یہ بھی حکم ہے کہ نکاح پڑھانے والا نیک، صالح، پرہیزگار اور علم والا ہو۔ یہ پہلو مجھے چند دن قبل اُس وقت یاد آیا جب ہمارے مہربان حاجی شاہد حمید قادری، ناصر حمید خان نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس کی بھتیجی اور محمد صابر حمید کی چھوٹی بیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چھوٹی بہو کی بہن ہمنہ صابر کی شادی میں شرکت کا موقع ملا، جن کا نکاح سہیل نثار کے صاحبزادے محمد سعد سہیل کے ساتھ ہوا۔ بڑا خوش نصیب خاندان ہے جس نے کورونا کے دنوں میں بھی ربیع الاول شریف کے مہینہ میں سنتِ نکاح کا اہتمام کیا۔ نکاح کی تقریب میں صدر، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر آفتاب اقبال کے ساتھ آرمی چیف گپ شپ اور قہقہے لگاتے رہے۔

شادی کی تقریب میں اہلِ خانہ نے اندرون و بیرون ملک سے صرف پانچ سو کے قریب لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ بات نکاح خواں کی ہو رہی تھی تو میں بتاتا چلوں کہ وہ عالم باعمل صوفی باصفاء، راز و نیاز کے شہنشاہ، داعی اتحادِ امت، فلسفہ سماعت کے بادشاہ، الفاظ کی حرمت کے امین، ذوق و شوق کے متلاشی، ذکر و نگاہ کے پاسبان، ذکر و فکر کے شیدائی، میری پرانی نیاز مندی کے امین علامہ رضاثاقب مصطفائی ہیں، میں زبیر اشرفی اور مفتی غلام علی اعوان سے شادی کی تقریب میں کہہ رہا تھا رضاثاقب صاحب سے مجھے ملاقاتیں کرتے اور اُن کی گفتگو سنتے تقریباً 28سال ہو گئے، وہ میرے مرشد کریم پیر سید محمد اسماعیل شاہ رحمہ اللہ، والد گرامی پیر سید کرامت علی شاہ کی دعوت پر علی پور سیداں شریف ضلع نارووال میں تقاریر کرنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ اُن کی طبیعت اور تقریر میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا، جو سادگی میں نے پہلے دن دیکھی تھی وہ آج بھی موجود ہے بلکہ اُس وقت شاید زیادہ قیمتی لباس زیب تن کرتے تھے، آج پہلے کے مقابلے بہت سستا لباس پہنتے ہیں۔ ہمارے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ داعی اتحاد بین المسلمین علامہ رضاثاقب مصطفائی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شادی کی تقریب میں جب ثاقب صاحب آئے تو اُنہوں نے خود بڑھ کر خوش آمدید کہا۔ نکاح کی تقریب میں اُنہوں نے کمال مہارت سے مسائلِ نکاحِ فرائض واجبات اور سنت طریقہ نکاح تفصیل سے بتایا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نکاح کی تقریب میں تقریباً 4گھنٹے موجود رہے، وہ صابر حمید خان کے ہمراہ کمشنر لاہور ڈویژن ذوالفقار گھمن اور دیگر افراد سے فردا ًفرداً ملے، نکاح کی تقریب میں تین جماعتوں کے صرف تین ہی سرکردہ رہنما موجود تھے۔ ایک بڑے سیاسی رہنما نے آرمی چیف کو خوش آمدید کہا، اُس سیاسی رہنما کے لئے یہ راز و نیاز کی باتیں کرنے کا بہترین وقت بھی تھا۔ ایک جماعت کے سیاسی رہنما کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ اُن کا لیڈر کیسے کیسے الزامات لگا رہا ہے اور یہ جناب کس طریقےسے ملک کے وسیع تر مفاد میں جناب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ فارم ہائوس کے کھلے ایریا میں آرمی چیف سے کھڑے کھڑے بھی کافی گفتگو ہوئی جبکہ اِسی گفتگو کے دوران جب بارات پہنچی تو جناب قمر جاوید باجوہ صاحب نے خاندانی فرد ہونے کی وجہ سے عجز و انکساری کے ساتھ بارات کو خوش آمدید کہا، بارات جب اپنی جگہ پر بیٹھی تو اُس کے بعد سے لیکر کھانے کی میز پر بھی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ مہمانوں سے تبادلہ خیال کرتے رہے ۔ شادی کی اِس تقریب میں سندس فائونڈیشن کے صدر جناب محمد یاسین خان بھی موجود تھے، قمر جاوید باجوہ کی عجز و انکساری دیکھ کر مجھے کہا کہ اب پاکستان درست سمت چل پڑا ہے کیونکہ پاک فوج کے سربراہ ملک و قوم کے درد سے نہ صرف خود آگاہ ہیں بلکہ جب غریبوں کی غربت اور shaheedon کی قربانیوں کا ذکر کرتے وقت اُن کی آنکھوں میں نمی آتی ہے تو پھر یہی آنکھیں غصہ میں سرخ ہو جاتی ہیں چنانچہ اب کیسے ملک ترقی نہیں کرے گا؟ میرے خیال میں بعض سیاستدان خود گمراہ ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، شریفانہ عمرانی معاہدہ ہو یا نہ ہو لیکن ملک آگے بڑھتا رہے گا۔ بےرحم احتساب کا عمل کسی صورت نہیں رکے گا، میں بہت سارے حقائق آنے والے دنوں میں لکھوں گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *