وہ دن جب انہوں نے برقعے کو الوداع کہہ دیا ۔۔۔۔

پشاور (ویب ڈیسک) پختون روایت کے مطابق بیگم صاحبہ ایک گھریلو خاتون تھیں اور بعض روایات کے مطابق وہ برقع بھی اوڑھا کرتی تھیں لیکن نیپ پر پابندی اور حیدرآباد سازش کیس میں ان کے شوہر کی گرفتاری کے بعد وہ ایک طاقت ور شخصیت کے طور پر ابھریں پختون معاشرے میں جس

کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ واقعہ کیسے رونما ہوا، اس کے پس پشت ان کے سسر اور ولی خان کے والد خان عبد الغفار خان کے مزاج کو بھی بڑا دخل تھا۔ایک بار انھوں نے خود بتایا کہ ولی خان کی گرفتاری کے بعد پریشانی کے عالم میں اپنے سسر کے پاس پہنچیں اور درخواست کی کہ ان کی رہائی کی کوئی سبیل کی جائے۔ خان عبد الغفار خان نے انھیں نہایت حوصلہ شکن جواب دیا۔ انھوں نے کہا:’ولی خان میرا بیٹا ہے، وہ تو قید کے لیے ہی پیدا ہوا ہے، تم اگر اپنے شوہر کو بچانا چاہتی ہو تو بچا لو۔’ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ غفار خان کے خانوادے کی سیاست کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا اور ولی خان کی اسیری میں ان کی سیاست کو زندہ رکھنے والی نسیم ولی خان اور خان عبد الغفار خان کے انداز فکر کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھچ گیا اور نسیم ولی کی فکر کا دھارا مختلف زاویے پر بہنے لگا جس کا اندازہ ان واقعات کے بعد بھی کئی دفعہ ہوا، اس سلسلے میں بیگم صاحبہ کے ایک جملے کا حوالہ دیا جاتا ہے جو ان کی سیاست کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ولی خان کے انتقال کے بعد کی بات ہے جب انتخابات میں ٹکٹوں کی الاٹمنٹ کے موقع پر کسی نے کہا کہ باچا خان بابا ہوتے تو اس موقعے پر فلاں کو ٹکٹ دیتے۔ اس موقع بیگم صاحبہ نے کہا کہ وہ زمانہ بیت گیا، موجودہ زمانے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کی پارلیمانی طاقت کتنی ہے۔

خان عبد الغفار خان سے مایوس ہو کو بیگم صاحبہ خفیہ طور پر کابل پہنچیں جہاں ان دنوں اجمل خٹک مقیم تھے۔ اجمل خٹک نے ایک بار بتایا کہ کابل میں انھیں کسی نے خبر دی کہ انھیں کوئی عورت ملنے کے لیے آئی ہے۔وہ فوراً باہر آئے تو دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کی اوڑھنی اور جوتے پھٹے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کی حالت ایسی تھی کہ انھیں بھی پہچاننے میں دشواری ہوئی۔ اجمل خٹک نے انھیں حوصلہ دیا۔ بیگم صاحبہ کا یہ دورہ کابل پاکستانی تاریخ میں کئی اعتبار سے یاد گار اور اہم رہا۔ نسیم ولی خان کو اعتماد حاصل ہوا کہ وہ کوئی سیاسی کردار ادا کر سکتی ہیں، اس کے علاوہ اجمل خٹک کے ذریعے ان کے روابط اہم سیاسی شخصیات سے روابط استوار ہوئے اور بیگم صاحبہ نے سنہ 1977 کی انتخابی مہم میں پاکستان قومی اتحاد کے جلسوں سے خطاب کر کے سیاسی گہما گہمی پیدا کر دی۔کہا جاتا ہے کہ شروع میں بیگم صاحبہ جب اتحاد کے پلیٹ فارم پر آئیں تو بھٹو صاحب نے مذاق اڑایا کہ مولوی ایک عورت کے پیچھے چل پڑے ہیں لیکن بعد میں جب انھیں بیگم صاحبہ کے سیاسی رابطوں کی خبر ہوئی تو وہ غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہو گئے۔بھٹو کی سنجیدگی کیوں اہم تھی، اس کا اندازہ پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے اپنی کتاب’ پھر مارشل لا آ گیا’ اور پیپلز پارٹی کے راہنما مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ‘اور لائن کٹ گئی’ میں لکھا ہے کہ قومی اتحاد میں مارشل لا کے مسئلے پر

جب اختلاف پیدا ہوا تو بیگم نسیم ولی خان نے اصغر خان کا ساتھ دے کر پانسا پلٹ دیا۔ اس طرح نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ سردار شیر باز خان مزاری بھی اسی گروپ میں چلے گئے۔جنرل ضیا الحق کے جہاز کے حادثے کے بعد شروع ہونے والے سیاسی دور میں بیگم نسیم ولی کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا اور وہ اے این پی میں بھی فیصلہ کن پوزیشن میں آ گئیں۔ پارٹی سیاست میں وہ اپنے بھائی اعظم خان ہوتی کی طرف داری کیا کرتی تھیں، اجمل خٹک کو بات پسند نہ تھی، اس وجہ سے پارٹی میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔اس مرحلے پر بیگم صاحبہ کی سیاسی بصیرت ہی بروئے کار آئی اور ان کی تجویز پر اجمل خٹک کو اے این پی کا سربراہ منتخب کر کے بحران کو ٹالا گیا۔ بعد میں جب جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور اعظم خان ہوتی کی گرفتاری عمل میں آئی تو بیگم صاحبہ کے خیال میں اس کے پس پشت بھی اجمل خٹک ہی تھے۔اپنے کثیر جہتی (متنازع یا غیر متنازع) سیاسی کردار کے باوجود بیگم نسیم ولی خان کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو ہیں جس کے باعث قومی سیاست میں انھیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔ان میں ایک یہ ہے کہ سابق صوبہ سرحد اور موجودہ خیبرپختونخوا میں وہ پہلی خاتون ہیں جو عام انتخابات (1977) میں صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے بعد بھی وہی پہلی خاتون ہیں جنھوں نے قومی سیاست میں ہنگامہ خیز کردار ادا کیا۔

Comments are closed.