وہ شخص جس نے صحت مند رہنے کے لیے جاگنگ کی روایت ڈالی تھی ۔۔۔

جو کھانے آپ کو بچپن میں نا پسند لگتے تھے اگر آج کھائیں تو آپ کو لذیذ لگے گیں کیوں کہ ہمارے منہ کا ذائقہ ہر سات سال بعد تبدیل ہو جاتا ہے ۔۔۔ جب آپ کسی کے ساتھ بہت زیادہ کلوز ہو جاتے ہیں تو اس کا پیغام پڑھتے وقت

بھی آپ دماغ میں اس کی آواز سن پاتے ہیں۔۔۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ جو لوگ کالا رنگ پسند کرتے ہیں وہ ذہنی طور پر بہت رنگین مزاج ہوتے ہیں۔۔۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ مرغی انڈے سے پہلے بنی ہے کیوں کہ انڈے کے چھلکے میں جو پروٹین استعمال ہوتی ہے وہ صرف مرغی بنا سکتی ہے ۔۔زمین پر جتنی چونٹیاں ہیں ان کا وزن زمین پر موجود انسانوں سے زیادہ ہے ۔۔۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ دکھ تکلیف آپ کو مضبوط بناتے ہیں خوف آپ کو بہادر اور دل کا ٹوٹنا آپ کو ذہین بناتا ہے ۔۔۔خواب کی لمبائی زیادہ سے زیادہ بیس منٹ تک ہی ہوتی ہے ۔۔۔اپنا نام سننا جب کوئی بھی آپ کو نا بلا رہا ہو تو یہ اچھی دماغی صحت کی علامت ہے ۔۔۔الاسکا میں سورج اٹھارہ نومبر کو ڈوبتا ہے اور ستائیس نومبر کو ابھرتا ہے اس دوران وہاں صرف اندھیرا رہتا ہے ۔۔۔لپسٹک آج سے چار ہزار سال پہلے ایجاد ہوئی تھی۔۔میسوپوٹیمیا کی خواتین پہلے قیمتی موتیوں کے بورے یا ان کو پیس کر اس پاؤڈر سے ہونٹ سجاتی تھیں۔۔مچھروں کو او بلڈ گروپ پینا زیادہ پسند ہے ۔۔دوسرے نمبر والے بچے والدین کو زیادہ تنگ کرتے ہیں۔۔۔جیمز فكس وہ آدمی تھا جس نے جوگنگ کا لفظ متعارف کرایا تھا اور ایک دن جوگنگ کرتا ہوا ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔۔۔اپنے محبوب شخص کے ساتھ سونا آپ کی زندگی بڑھا دیتا اور آپ کے ڈپریشن میں کمی لاتا ہے ۔۔۔اگر آپ سارا دن بنا ریسٹ کیے کام کریں تو تو آپ کو سونے میں مسلہ ہوتا ہے کیوں کہ آپ کا دماغ وہ ساری باتیں سوچنے اور کرنے لگتا ہے جو وہ دن کی مصروفیت کی وجہ سے نہیں کر پایا

Comments are closed.