وہ عورت جو اعجاز درانی اور ملکہ ترنم نور جہاں کے درمیان علیحدگی اور طلاق کا باعث بنی ۔۔۔

لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور مضمون نگار طاہر سرور میر اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نور جہاں اور اعجاز درانی کی شادی کے وقت دونوں کی عمریں بالترتیب 33 اور 24 برس تھیں یعنی اعجاز نور جہاں سے نو سال چھوٹے تھے۔جب یہ شادی ہوئی تو اس وقت اعجاز غیر شادی شدہ تھے۔

نورجہاں اور اعجاز کی شادی اور دونوں کے رشتے کے بارے میں نگارخانوں میں مشہور ہوا تھا کہ نورجہاں نے اعجاز کو یوں رکھا جیسے ’ہتھیلی کا پھپولا۔‘نورجہاں کے قریبی دوست بتاتے ہیں کہ اعجاز کی حیثیت ’انوکھے لاڈلے‘ کی سی تھی۔ اگرچہ اعجاز نور جہاں کے شوہر تھے لیکن نورجہاں یوں ظاہر کرتیں جیسے وہ ان کے محبوب ہوں۔ان کی بیٹی حنا بتاتی ہیں کہ ’میں نے اپنی ماں کو اپنے باپ کی عاشق کے طور پر دیکھا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ماں ابا کے لیے کپڑے خود استری کر رہی ہیں، پینٹ کوٹ کے ساتھ میچنگ جرابیں تک خود پہنا رہی ہیں۔ ابا کے نہانے کا پانی گرم ہو رہا ہے۔ ماں ابا کے ناز اٹھا رہی ہیں۔ ہم بہنوں نے دیکھا کہ میری ماں جب بھی ابا کے سامنے آئیں سولہ سال کی لڑکی بن گئیں۔‘حنا نے اپنے والدین کے مابین طلاق کو ایک تلخ حقیقت قرار دیا۔ حنا اس علیحدگی کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’دونوں دنیا کے حسین اور خوبصورت لوگ تھے اور ایک عرصہ تک اکٹھے رہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وہ میاں بیوی کی حیثیت سے آگے نہیں چل سکتے تو علیحدگی کا فیصلہ کیا اور دونوں نے باقی زندگی اچھے دوستوں کی طرح گزاری۔‘نورجہاں سے شادی کے بعد اعجاز اور زیادہ سنجیدہ اور میچور ہو گئے تھے۔ ویسے بھی وہ دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ نور جہاں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں رہتے ہوئے جہاں اعجاز ایک طرف ایک کامیاب اداکار بن چکے تھے دوسری طرف انھوں نے ایک کامیاب فلم پروڈکشن ہاؤس قائم کیا جس میں اپنے وقت کے نامور پیشہ وروں کو باہم اکٹھا کر لیا۔

اُن کے ادارے سے ’دوستی‘، ’مولابخش‘ اور ’شعلے‘ جیسی کامیاب فلمیں پروڈیوس ہوئیں جبکہ سب سے کامیاب فلم ’ہیر رانجھا‘ رہی جس میں بذات خود انھوں نے ’رانجھا‘ کا کردار نبھایا جبکہ اپنے وقت کی سپر سٹار فردوس بیگم ’ہیر‘ بنیں۔اس فلم نے باکس آفس پر تو بزنس کے ریکارڈز قائم کیے لیکن نور جہاں اور اعجاز کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔اداکارہ فردوس بیگم مرحوم اداکار اکمل کی بیوہ تھیں۔ اکمل کی وفات کے بعد فردوس کی شادی فلمساز شیخ نذیر کے ساتھ ہوئی تھی۔نورجہاں نگار خانوں کے ماحول سے اچھی طرح واقف تھیں۔ لیکن سب احتیاطیں دھری کی دھری رہ گئیں اور فردوس، نورجہاں اور اعجاز کے درمیان آن کھڑی ہوئی تھی۔اعجاز اور فردوس کی جوڑی سپر ہٹ ہو گئی اور فلمساز انھیں اکٹھا سائن کرنے لگے۔ دونوں نگار خانوں کے ساتھ ساتھ آؤٹ ڈور کام میں بہت سارا وقت اکٹھے گزارتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ چکے تھے۔اس قربت کا علم نورجہاں کو بھی ہو چکا تھا۔نورجہاں سخت الفاط میں اعجاز سے گلہ کرتیں کہ ’پینو لمبو‘ سے دور ہو جاؤ۔ واضح رہے کہ فردوس بیگم کا اصل نام پروین تھا اور لمبے قد کی وجہ سے نگار خانوں میں انھیں ’پینو لمبو‘ بھی کہا جاتا تھا۔اعجاز اپنے طبیعت کے دھیمے پن اور معاملہ فہمی سے ٹال مٹول کرتے رہے لیکن نورجہاں نے اعلان کر دیا کہ وہ آئندہ فردوس کے لیے کسی بھی فلم کے لیے پلے بیک نہیں گائیں گی۔کوئی بھی فلمساز یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اس کی فلم میں نورجہاں کے گیت شامل کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ نورجہاں کے اس فیصلے کی زد میں اعجاز درانی کی ذاتی فلم ’ہیر رانجھا‘ بھی آ گئی جس کے میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور تھے۔ہیر رانجھا کے گیت احمد راہی نے لکھے تھے جو نورجہاں کے منظور نظر شاعر تھے۔ فلم کے ہدایتکار مسعود پرویز تھے اور نورجہاں ان کی بھی بہت عزت کرتی تھیں لیکن قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بھی نورجہاں نے آخری بات اعجاز کی ہی مانی تھی۔نورجہاں نے ’ہیررانجھا‘ کے لیے جو گیت گائے وہ فردوس پر فلمبند ہوئے اور سیلولائیڈ پر اسے ہمیشہ کے لیے ہیر کے کردار میں امر کر دیا۔

Comments are closed.