وہ لاہور جو کہیں کھو گیا :

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں کبھی لوگوں کو پوسٹ مین یعنی ڈاکیے کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار ہوتا تھا لاہور کے کئی لیٹربکس پر آر پی یعنی رائل پوسٹ لکھا ہوتا تھا آج سے کئی برس قبل ہم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود مرحوم( ستارہ امتیاز) کو ملنے گئے

تو انہوں نے بتایا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی دیوار کے بالکل ساتھ دھنی رام روڈ پر آج بھی رائل پوسٹ کا ایک لال رنگ کالیٹر بکس یعنی خط ڈالنے والا ڈبہ موجود ہے۔نامور کالم نگار واصف ناگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ ہم فوراً وہاں پہنچے اور اس لیٹر بکس کی تصاویر بنائیں اور ایک خبر فائل کردی کہ لاہور میں رائل پوسٹ کا یہ آخری لیٹر بکس اب بھی پوری مضبوطی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ چوروں نے اگرچہکئی دفعہ اس کو اکھاڑنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ ہم نے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نےبتایا کہ کئی مرتبہ رات کو چور آئے اور اس لیٹر بکس کو اکھاڑنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ انگریزوں کا کام دیکھیں کہ یہ لیٹر بکس (رائل پوسٹ والا) 1860میں یہاں نصب کیا گیا تھا جو 2016ء تک رہا۔ حالانکہ ڈاک خانے والوں کو چاہئے تھا کہ اس تاریخی لیٹربکس کو یہاں سے لے جانے کی بجائے اس کے گرد کوئی جنگلا لگا کر اس پر تختی لگاتے اوراس کو یہیں پر محفوظ کرتے۔خیر ہماری اس خبر کا فائدہ یہ ہوا کہ ڈاک خانے والے اسے جی پی او میں لے آئے اور اسے وہاں محفوظ کرلیا گیا۔ لیکن کسی کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ یہ لیٹر بکس کتنا تاریخی اور قدیم تھا۔ لاہور میں رائل پوسٹ کے لیٹر بکس کے یہ لال ڈبے عام لیٹر بکسوں سے بہت مضبوط اور خوبصورت تھے یہ لیٹربکس 1855 کا ہے اور اس لیٹر بکس سے خطوط بعض حوالوں کے مطابق 1980ء تک پوسٹ مین لے کر جاتے تھے۔

کیا لاہور تھا جی پی او کے علاوہ لاہور کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈاک خانےبھی ہوا کرتے تھے۔ کبھی اپرمال پر ایک ڈاک خانہ برس ہا برس تک رہا، پھر اس کو بند کردیا گیا۔ گورنر ہائوس اور ایچیسن کالج میں آج بھی ڈاک خانے ہیں۔ یہاں میاں میر چھائونی کا ڈاک خانہ بہت قدیم ہے۔ جب لاہور میں ڈاک کا نظام نہیں آیا تھا تو پیغام رسانی کا کام نائی کیا کرتے تھے۔ لوگ نائی کے ذریعے یا خود جا کر شادی کابلاوا دینا باعثِ عزت سمجھتے تھے، ڈاک کے ذریعے شادی کابلاوالوگ اتنا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ نائی دیگیں پکاتے، ختنے کرتے، بال کاٹتے، پیغام لے جاتے (جسے لاہوریئے سدھے لے جانا بھی کہتے تھے)حتیٰ کہ نائی رشتے تک کرایا کرتے تھا۔ برصغیر کے نامور گلوکار محمد رفیع اور ان کےبھائیوں کی بال کاٹنے کی دکان بھاٹی گیٹ میں ہوا کرتی تھی۔ ان کے بھائی حاجی شفیع لذیذ دیگیں پکایا کرتے تھے۔ میری والدہ، تمام خالائیں اور ماموں کی شادی کی دیگیں ان کے خاندان کے افراد نے پکائی تھیں۔ اسی شہر لاہور سے برصغیر کی پہلی خاتون نے ہوائی جہاز کے ذریعے ڈاک تقسیم کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ وہ تاریخی ہوائی اڈہ جہاںسے برصغیر کی پہلی خاتون نے اڑان بھری، اب چند دن کا مہمان ہے۔ سرلاٹھکرال نے لاہور کے تاریخی ایئرپورٹ والٹن سے صرف 21برس کی عمر میں 1936ء میں تنہا پرواز کی، وہ کراچی اور لاہور کے درمیان ایئر میل لے کر جاتی تھیں۔ اس سے قبل ان کے خاوند بھی یہ کام کرتے تھے۔ وہ ایک ہوائی حادثے میں انتقال کرگئے تھے۔

وہ بھی پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے لاہور سے کراچی ایئر میل پہنچانے کا کام شروع کیا تھا۔ وہ اور ان کی اہلیہ دونوں لائسنس یافتہ پائلٹ تھے۔ سرلا ٹھکرال نے میو اسکول آف آرٹس (این سی اے) سے بنگال اسکول آف پینٹنگسے ڈپلومہ حاصل کیا تھا۔ لاہور کوئی ایسا ویسا شہر نہیں بلکہ اس تاریخی شہر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ برصغیر میں دانتوں کی بیماریوں کی پہلی علاج گاہ ڈی مونٹ مورینسی ڈینٹسٹری یہاں 1929میںقائم ہوئی۔ اس وقت کے گورنر کی بیوی کے دانتوں میں درد ہوا تو اس نے لاہور میں دانتوں کی بیماریوں کا اسپتال قائم کردیا۔ اس طرح اس شہر باکمال میں برصغیر کا پہلا ویٹرنری اسکول (جانوروں کی بیماریوں کی علاج گاہ واسکول) قائم ہوا۔ اس طرح برصغیر کی پہلی ذہنی امراض کی علاج گاہ جسے ایک مدت تک لوگ پاگل خانہ کہتے تھے،بڑی دلچسپ بات ہے کہ لاہور میں روٹ نمبر 4کی بس کا آخری بس ا سٹاپ پاگل خانہ تھا۔ چنانچہ لاہوریئے جب کسی سےمذاق کرتے تو اکثر کہتے یار اس کو چار نمبر بس پر بٹھا دو۔کنڈیکٹر بڑے عجیب انداز میں کہا کرتے تھے چلو بھئی پاگل خانے والے اتر جائیں۔ حالانکہ اس پاگل خانے کے ساتھ سروسز اسپتال ہے اور لاہور کا پہلا ریس کورس کلب اس کے بالمقابل ہی ہوا کرتا تھا۔لاہور مینٹل اسپتال یا پاگل خانہ جس کو اب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ بھی کہتےہیں، اب سروسز اسپتال کا حصہ ہے۔ پروفیسر سعد ملک (معروف ماہر نفسیات)، پروفیسر آفتاب آصف اور ہم مینٹل اسپتال کو اپ گریڈ کرنے والی کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ یہ کمیٹی سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنائی تھی۔ میاں ثاقب نثار کا تعلق بھی بھاٹی گیٹ سے تھا۔ہم نے پچھلے کالم میں رائے بہادر امر ناتھ چیسٹ و ٹی بی اسپتال کا ذکر کیا تھا، یہ تاریخی اسپتال اب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج و میو اسپتال کا ٹی بی وارڈ ہے جس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ثاقب سعید ہیں۔ رائے بہادر امر ناتھ ایک معزز رئیس تھے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اندر بے شمار قدیم عمارتیں نواب آف پٹیالہ، نواب آف بہاولپور نے بنا کر دی تھیں اور آج بھی ان عمارتوں کو پٹیالہ بلاک اور بہاولپور بلاک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

Comments are closed.