وہ وقت جب ایک پاکستانی عورت نے دعویٰ کیا میرے پیٹ کے اندر موجود بچہ تلاوت کرتا ہے ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) آپ نے پارلیمنٹ سے بازار حسن تک کتاب تو دیکھی ہو گی۔اس کی کمائی پر پبلشرز اور رائٹر دونوں امیر ہو گئے ابھی تک ایک معما ہے کہ یہ کتاب کس نے لکھائی تھی۔ یہ ایان علی تو کل کا واقعہ ہے۔ ایان کو استعمال کرنے والے تو ایانے ہی رہے اسے پکڑنے والا پراسرار انداز

میں پار کردیا گیا۔ قصور کے شرمناک فلموں میں ملوث لوگوں کو بھی بھلا دیا گیا یا نظر انداز کر دیا گیا۔وہی جو کہا جاتا ہے کہ کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ۔تو غلط نہیں ہے ان کے لچھن ہی ایسے ہیں۔ یہ سیاسی اقلیم رانیاں اور ترانا ہائے ملک و ملت۔ کس کس کا تذکرہ کریں۔ بات سے بات نکلتی آتی ہے ویسے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی خاتون کو خواہ وہ کتنی ہی گئی گزری ہو اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ سیدھا سیدھا گندہ الزام لگا دے۔ کسے نہیں معلوم کہ ایوان صدر ہی کیا گورنر ہائوس پنجاب کی کیا صورت حال رہی ہے۔ سلمان تاثیر کی گورنری کے زمانے کی تصاویر یوٹیوب پر اب بھی پڑی ہیں اور پھر ان کاٹن گروپ کیا کچھ نہیں کرتا رہا۔ پرویز مشرف بھی ان میں شامل تھے۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔قبلہ رسوائی تو پھر ایسے کاموں میں ہوتی ہے اور یہ بھی کوئی ایسی پریشانی والی بات نہیں‘دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں۔ ایک بات درمیان میں رہ گئی کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوتے آئے ہیں کہ کبھی کوئی خاتون آئی کہ اس کے پیٹ میں بچہ تلاوت کرتا ہے اور سب مولانا حضرات نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ پھر عقدہ کھلا کہ اس نے تو اندر ٹیپ ریکارڈر رکھوایا ہوا ہے۔کبھی کوئی پیر سپاہی آ گیا اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ساری دنیا اس کے پیچھے پاگل ہو گئی۔ پیر سپاہی جہاں جاتا خلقت بوتلیں اٹھائے آ جاتی۔ پھر جو ڈراپ سین ہوا وہ بھی آپ کے سامنے ہے اور پھر سیاست میں کیسے کیسے نام آئے سیتا وائیٹ سے لے کر طاہرہ سید تک۔ ایک طاہرہ بھی آئی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ چلتا رہتا ہے مگر فتنہ ایسے ہی نہیں پھیلتا۔بیج کو زمین زرخیز ملتی ہے تو وہ کونپل بن جاتا ہے اور پھر تنآور درخت۔ افسوس تو یہ ہوتا ہے کہ سنتھیا رچی نے یہ وقت کیسا ڈھونڈا کہ ساری دنیا وبا کی لپیٹ میں ہے اور موت شہروں میں رینگتی پھرتی ہے۔ سب وبا سے بچنے کی تدابیر کر رہے ہیں اور اچانک ایک اور وبا آن حاضر ہوئی۔ معلوم نہیں کہ آخر نو سال کے بعد محترمہ کس شے کی ریکوری چاہتی ہیں۔اگر وہ کچھ لوگوں کو رسوا کرنا چاہتی ہیں تو یہ اس کی بھول ہے۔ ان کا یہ مسئلہ ہی نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے وہ دوبارہ لوگوں کے نوٹس میں آ گئے ہیں کہ ان کے لیڈر ابھی مرے کھپے نہیں۔ آخر میں ایک شعر: ان خطوں کو کہیں دریا میں بہایا ہوتا اس طرح خود کو جلانے کی ضرورت کیا تھی۔

Comments are closed.