وہ وقت جب مہدی حسن مرحوم نے اپنے سرو ں اور راگوں سے شیشے کا جگ توڑ دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ریڈیو پاکستان کے ایک سابق پروڈیوسر انور عنایت اللہ بتاتے ہیں ’میں ریڈیو پاکستان میں موسیقی کے شعبے سے وابستہ تھا۔ ہر ہفتے نئے فنکاروں کا آڈیشن لینا میرے ذمے تھا۔ایک ہفتے مجھے کہا گیا کہ میں ایک نئے موسیقار کا آڈیشن لوں اور انھیں بتاؤں کہ وہ کیسا گاتے ہیں۔

نامور صحافی عقیل عباس جعفری بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مقررہ وقت پر ایک دبلا پتلا، سانولا سا نوجوان میرے سامنے تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیا سنانا چاہتے ہیں تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا غزل یا ٹھمری یا خیال؟ آپ جو بھی پسند کریں۔‘اس کا جواب سن کر مجھے حیرت ہوئی۔بہرحال پہلے اس نے غالب کی ایک غزل سنائی، پھر تان پورہ سنبھالا اور راگ اڈانا کا الاپ شروع کیا۔ مجھے اس کی آواز اور موسیقی پر عبور بے حد پسند آیا اور میں نے فوراً اپنے ڈائریکٹر جی کے فرید کو بھی سٹوڈیو میں بلوا لیا۔ان کے سامنے نوجوان نے ایک ٹھمری پیش کی جو پوربی انگ کی گائیکی کی حسین ترین مثال تھی۔ فرید صاحب نے بھی نوجوان موسیقار کو شرف قبولیت بخشا اور اسے ایک منظوم پروگرام کے لیے بک لیا گیا۔یہ تھی ترقی کے زینے پر اُس فنکار کے پہلے قدم کی مختصر سی کہانی جسے دنیا مہدی حسن کے نام سے جانتی ہے۔مہدی حسن کا تعلق موسیقی کے کلاونت گھرانے سے تھا۔ وہ ہندوستان کی ریاست جے پور کے ایک گاؤں لونا میں 18 جولائی سنہ 1927 کو پیدا ہوئے تھے۔مہدی حسن کے والد کا نام عظیم خان تھا اور ان کا تعلق بھی موسیقی کی دنیا سے تھا۔ مہدی حسن جب چھ سال کے ہوئے تو والد عظیم خان نے تان پورہ سُر کر کے دیا اور کہا کہ یہی تمھارا کھلونا، یہی تمہارا مستقبل ہے۔ ننھا مہدی حسن تان پورہ سے راگوں کی شکلیں یاد کرنے لگا۔ابتدائی تعلیم اپنے والد عظیم خان اور چچا اسماعیل خان سے حاصل کی۔

مہدی حسن بچپن سے ہی بہت جفا کش اور محنتی تھے۔ آواز اور سانس کی پختگی کے لیے وہ شدید جسمانی کسرت بھی کرتے تھے۔ یہ کسرت ان کی گائیکی کا اساس بنی اور ان کی سریلی آواز مزید نکھر گئی۔مہدی حسن کے والد اور چچا مہاراجہ بڑودہ کے دربار سے وابستہ تھے۔ انھوں نے انتہائی کم عمری میں مہدی حسن کو اس قابل کردیا کہ وہ مہاراجہ بڑودہ کے دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں۔مہدی حسن کے فن کو نکھارنے میں ان کے بھائی غلام قادر نے بھی اہم کردار ادا کیا جو لکھنؤ کی موسیقی کی ممتاز درس گاہ کے فارغ التحصیل تھے اور اسی باعث پنڈت کہلاتے تھے۔پنڈت غلام قادر کو موسیقی کے علاوہ سنسکرت، ہندی اور اردو پر بھی ماہرانہ عبور حاصل تھا۔قیام پاکستان کے بعد مہدی حسن اور پنڈت غلام قادر لاہور چلے آئے۔ جہاں پہلے انھوں نے فلمی صنعت میں قدم جمانے کی کوشش کی مگر وہاں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کے باعث وہ چیچہ وطنی چلے گئے جہاں انھیں سائیکلوں کی مرمت کا کام بھی کرنا پڑا۔پھر انھوں نے سکھر کے ایک ماہر مکینک کشن سے کاروں کو ٹھیک کرنے کا کام سیکھا اور پھر تقریباً تین، ساڑھے تین سو انجن اپنے ہاتھوں سے باندھے۔ مہدی حسن پیٹ پالنے کے لیے گاڑیوں کے مکینک کا کام تو کر رہی رہے تھے مگر موسیقی سے ان کا لگاؤ جنون کی حد تک برقرار تھا۔اسی زمانے میں انھوں نے ریڈیو پاکستان کراچی میں موسیقی کے پروگراموں کے حصول کے لیے آڈیشن دیا جس کا احوال اوپر گزر چکا ہے۔

اس کے بعد انھیں گاہے بہ گاہے ریڈیو پاکستان بلایا جانے لگا اور ساتھ ہی ساتھ وہ شادی بیاہ اور ایسی ہی دوسرے پروگراموں میں اپنی گائیکی کا جادو جگانے لگے۔ ان پروگراموں میں وہ زیادہ تر طلعت محمود کے گانے سناتے تھے۔ایسی ہی شادی کی ایک تقریب تھی جہاں مہدی حسن کی ملاقات ہدایت کار رفیق انور سے ہوئی۔ رفیق انور کو ان کی گائیکی بہت پسند آئی اور انھوں نے مہدی حسن کو اپنی فلم شکار میں گانا گانے کی دعوت دی۔ مہدی حسن نے یہ دعوت فوراً قبول کر لی اور کراچی آ کر چار نغمات کی ریکارڈنگ کروا دی۔ان چار نغمات میں سے دو مہدی حسن نے تنہا گائے اور دو میں ان کا ساتھ مدھو الماس نے دیا۔ ان نغمات کو حفیظ جالندھری اور یزادنی جالندھری نے لکھا تھا اور ان کی موسیقی اصغر علی حسین نے ترتیب دی تھی۔مہدی حسن نے فلمی دنیا کے لیے جو پہلا نغمہ ریکارڈ کروایا، اس کے بول تھے ’میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے۔‘فلم شکار کے تمام گانے بہت مقبول ہوئے مگر فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ مہدی حسن کی بطور گلوکار اگلی فلم ’کنواری بیوہ‘ تھی جسے نجم نقوی نے ڈائریکٹ کیا تھا اور یہ اداکارہ شمیم آرا کی اولین فلم تھی۔اس فلم میں مہدی حسن نے کوثر پروین کے ساتھ دو نغمے ریکارڈ کروائے جن کی موسیقی قادری فرید اور فتح علی خان نے ترتیب دی تھی اور انھیں طفیل ہوشیار پوری نے تحریر کیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب فلمی موسیقی پر سلیم رضا اور منیر حسین کا راج تھا اور احمد رشدی آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہے تھے۔

ایسے میں سنہ 1962 میں فلم سسرال میں موسیقار حسن لطیف نے منیر نیازی کی غزل ’جس نے مرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں‘ گانے کے لیے مہدی حسن کا انتخاب کیا۔مہدی حسن اس انتخاب پر پورے اترے اور اس نغمے نے پورے پاکستان میں دھوم مچا دی۔اس عوامی مقبولیت نے مہدی حسن پر فلمی صنعت کے دروازے کھول دیے جس کے بعد انھوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔فلمی صنعت کی معرکہ آرائیاں اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ مہدی حسن غزل کے میدان میں بھی جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔سنہ 1964 میں انھوں نے رشید عطرے کی کمپوزیشن میں فلم فرنگی کے لیے فیض احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے’ ریکارڈ کروائی تو غزل گائیکی کو ایک نیا انگ اور آہنگ مل گیا جس نے غزل کو ایک نئی زندگی عطا کر دی۔اب ایک طرف فلمی دنیا کی مصروفیات تھیں، دوسری طرف غزل کے بڑے بڑے کنسرٹ۔۔۔ مہدی حسن کی آواز ہر فلم کی کامیابی کی ضامن بننے لگی اور غزل کی گائیکی نے انھیں شہنشاہ غزل کے منصب پر فائز کر دیا۔بالی ووڈ کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے جب استاد نیاز حسین شامی کی دھن میں میر تقی میر کی غزل ’پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے‘ سنا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ ’مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔‘مہدی حسن نے مجموعی طور پر 477 فلموں کے گانے گائے۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی کُل تعداد 667 ہے۔ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم شریک حیات میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے۔

کئی دہائیوں پر محیط اس سفر میں انھوں نے 25 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت نغموں اور غزلوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ مہدی حسن کے سروں کی طاقت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ضیا محی الدین شو میں خود سنایا تھا۔انھوں نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ علامہ اقبال روڈ لاہور پر واقع خیابان ہوٹل میں اپنے شاگرد پرویز مہدی کو ریاض کروا رہے تھے کہ تقریباً دس فٹ کے فاصلے پر رکھا ہوا شیشے کا بنا پانی کا جگ اچانک ٹوٹ گیا۔ مہدی حسن نے بتایا کہ پرویز مہدی اور انھوں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی مگر کچھ سمجھ نہیں آیا۔بہت غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ دوران ریاض گائے جانے والے راگ کی فریکوئنسی شیشے کے جگ کی فریکوئنسی سے مل گئی تھی جس کی وجہ سے پانی سے بھرا شیشے کا جگ آواز کے ساتھ ٹوٹ گیا تھا۔ یہ مہدی حسن کے سچے سروں کی طاقت تھی۔مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کی اعتراف کے طور پر تمغہ امتیاز، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔انھوں نے اپنی بہترین گائیکی پر نو نگار پبلک فلم ایوارڈ اور لاتعداد دیگر ایوارڈ حاصل کیے۔ انڈیا نے انھیں سہگل ایوارڈ اور نیپال کی حکومت نے انھیں گورکھا دکشنا بہوکا ایوارڈ عطا کیا۔کوئٹہ میں ہونے والے ایک غزل کنسرٹ میں مہدی حسن کو سٹیج پر مدعو کرنے سے پہلے مولانا کوثر نیازی نے ایک شعر پڑھا:بے ساختہ پکار اٹھی انجمن تمام۔۔فن آپ پر ہے حضرت مہدی حسن تمام۔۔۔اور ملکہ ترنم نور جہاں نے کہا تھا میں نے تان سین کا صرف نام سنا تھا، ان کو دیکھا مہدی حسن کے روپ میں ہے۔طویل علالت کے بعد مہدی حسن کا 13 جون 2012 کو کراچی میں انتقال ہوا جہاں وہ نارتھ کراچی کے محمد شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔(بشکریہ: بی بی سی)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *