وہ وقت دور نہیں جب ریاست مدینہ کے دعویدار نشان عبرت بنیں گے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔14اپریل کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا اعلان کردیا۔ یہ عجیب پابندی تھی کہ وزیر داخلہ نے پابندی کا اعلان کردیا لیکن جن پر پابندی لگائی گئی ان کا مرکزی دھرنا جاری رہا

اور انہوں نے ایک منظم طریقے سے سوشل میڈیا پر حکومت کی پابندی کو مذاق بنا دیا۔ یہ حقیقت کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ پاکستان میں میڈیا ایک طویل عرصے سے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سنسر شپ کا شکار ہے لیکن جن پر پابندی لگائی گئی وہ میڈیا سے تقاضا کر رہے تھے کہ اگر تم مسلمان ہو تو پھر یہ بھی دکھائو کہ صرف تحریک لبیک والوں نے پولیس کو نہیں زدوکوب کیا بلکہ پولیس والوں نے بھی ہم پر بکتر بند گاڑیاں چڑھائیں اور ہمارے کارکنوں کو کچل دیا۔ مختلف صحافیوں اور ٹی وی اینکرز کو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں واٹس ایپ میسجز اور وڈیو کلپ بھیجے گئے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ یہ لوگ وفود بنا کر ٹی وی چینلز اور اخبارات کے دفاتر میں گھومتے رہے اور دباؤ ڈالتے رہے کہ صرف پولیس والوں کی میتیں نہ دکھائیں بلکہ ہمارے جان بحق ساتھیوں کی میتیں بھی دکھائیں۔ بطور ایک پاکستانی اور مسلمان یہ سب میرے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ کچھ دن پہلے تک جو ریاست ایک مذہبی تنظیم کے ساتھ تحریری معاہدے کر رہی تھی اب اسی تنظیم کو ناپسندیدہ اور شرپسند قرار دے دیا گیا اور مذکورہ تنظیم حکومتی شخصیات کو اسلام دشمن کہہ رہی تھی۔ یہ معاملہ فرانس کے صدر میکرون کے ایک متنازعہ بیان سے شروع ہوا تھا۔ میکرون کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن ہم نے آپس میں ایک دوسرے کا بہت کچھ بگاڑ دیا۔کیا تحریک لبیک پر پابندی کے اعلان سے یہ معاملہ حل ہو چکا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر

ہر پاکستانی کو ہر پہلو سے بار بار سوچنا چاہئے۔ کم از کم اپنے آپ کو تو دھوکہ نہ دیں۔ یہ ضرور سوچیں کہ یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی اور اس کا کون ذمہ دار ہے؟ نومبر 2018میں عمران خان کی حکومت بن چکی تھی۔ سپریم کورٹ نے توہین رسالتؐ کی ایک ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تو تحریک لبیک نے احتجاج کا اعلان کردیا۔ ایک دفعہ پھر اس تنظیم سے مذاکرات ہوئے، معاہدہ ہوا اور پھر ٹوٹ گیا۔ تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد رہا کردیا گیا۔ اکتوبر 2020 میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوا۔ فرانس میں ایک اسکول ٹیچر نے اپنی کلاس میں نبی کریمؐ کے گستاخانہ خاکے دکھائے فرانس کے صدر میکرون نے کہا کہ ہم خاکوں پر پابندی نہیں لگائیں گے۔ ان کے بیان پر کئی مسلم ممالک میں احتجاج ہوا اور تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ تحریک لبیک نے ایک دھرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اس وقت وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے تحریک لبیک سے مذاکرات کئے اور ایک تحریری معاہدے میں وعدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکال دیا جائے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب ریاست کو تحریک لبیک والوں کو بتانا چاہئے تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا بہت مشکل ہے لیکن دھرنا ختم کرانے کے لئے ایک جھوٹا معاہدہ کر لیا گیا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ تحریک لبیک کا دھرنا صحیح تھا یا غلط لیکن عمران خان پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں۔ ان کی حکومت نے ایک تحریری معاہدہ کیا جس کے کچھ دنوں بعد

خادم رضوی کا انتقال ہو گیا۔ حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا۔ خادم رضوی کے چالیسیویں کے بعد تحریک لبیک نے حکومت کو معاہدہ یاد دلایا لیکن حکومت اپنا وعدہ پورا کرنے پر تیار نہ ہوئی جس کے بعد تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی نے 20 اپریل کو دھرنا دینے کا اعلان کردیا اور پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کرنے والوں نے متوقع ردِعمل کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اب تحریک لبیک پر پابندی لگا کر کہا جا رہا ہے کہ سب ٹھیک ہو چکا۔ جناب کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ تحریک لبیک کے کئی ناقدین اس تنظیم پر پابندی کو نامناسب قرار دے رہے ہیں کیونکہ ماضی کے تجربات سے پتا چلتا ہے کہ پابندیاں کسی مسئلے کا حل نہیں بنتیں۔ اگر پابندی لگانی تھی تو فروری 2019میں فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لگائی جا سکتی تھی۔ اس کیس کے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا کہ تحریک لبیک کے خلاف الیکشن کمیشن کے ذریعے کارروائی کی جا سکتی ہے لیکن عمران خان کی حکومت کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا۔ تحریک لبیک کی بجائے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی جو ابھی تک تو بےنتیجہ ہے۔ اب حکومت نے خود تحریک لبیک پر پابندی لگا کر دراصل قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ وقت اور حالات نے ریاست کو غلط اور قاضی فائز عیسیٰ کو صحیح ثابت کیا۔ وہ وقت دور نہیں جب ریاست کے قانون کو گُڈے گُڈی کا کھیل بنانے والے خود عبرت کی مثال بنیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *