وہ پاکستانی کرکٹر جسکی سنچری ساڑھے نو گھنٹوں میں مکمل ہوئی ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سنہ 1977 میں کھیلی جانے والی سیریز کے لاہور ٹیسٹ کے پہلے دن اوپننگ بیٹسمین مدثرنذر ُپرسکون انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے کہ انھیں نہ جانے کیا سوجھی کہ انھوں نے ایک گیند کو باہر نکل کر کھیلنا چاہا۔گیند سٹمپس کے بہت قریب سے گزر کر چلی گئی

نامور صحافی عبدالرشید شکور اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ آؤٹ ہونے سے بال بال بچے، جس پر انھیں ڈریسنگ روم سے سنبھل کر کھیلنے کا پیغام ملا۔مدثر نذر 43 سال گزر جانے کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس لمحے کو یاد کرتے ہیں۔ʹمیں نے باہر نکل کر جارحانہ انداز اختیار کرنا چاہا لیکن میری قسمت اچھی تھی کہ گیند بلے کا کنارہ لیتی ہوئی سٹمپس کے قریب سے گزر گئی۔‘’میں نے ڈریسنگ روم سے بارہویں کھلاڑی کو گلوز کے ساتھ اپنی جانب بھاگ کر آتے دیکھا جس نے مجھے چیف سلیکٹر اور ٹیم کے منیجر امتیاز احمد کا پیغام پہنچایا کہ ٹیم کے لیے کھیلو۔ʹمدثر نذر کہتے ہیں ʹمجھے اور کیا چاہیے تھا۔ اس پیغام کے بعد میں نے خود کو دفاعی خول میں بند کر لیا۔ جب پہلے دن چائے کا وقفہ ہوا میں 48 رنز پر کھیل رہا تھا۔اس دوران میں نے سوچا کہ بہت ہو گیا اب تھوڑا بہت تیز کھیل بھی دکھانا چاہیے۔’باب ولس کی پہلی گیند پر میں نے چوکا لگایا لیکن جب پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو اُس وقت میں 52 رنز پر ہی کھیل رہا تھا۔‘15 دسمبر کو لاہور ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن مدثرنذر نے اپنا نام ریکارڈ بُک میں کس طرح درج کرایا یہ انھی کی زبانی سنیے۔’دوسرے دن میں نے ہارون رشید کے ساتھ اننگز دوبارہ شروع کی تو وہ 84 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے جبکہ میں 52 رنز پر کھیل رہا تھا۔‘ہارون نے اپنی سنچری جلد ہی مکمل کر لی۔’وہ ہارون رشید کے عروج کے دن تھے ان دنوں وہ بہت زبردست بیٹنگ کر رہے تھے۔ اس کے بعد جاوید میانداد کریز پر آئے تھے ان کے ساتھ میری بہت اچھی ہم آہنگی تھی۔‘مدثر نذر بتاتے ہیں ’جب میں 99 رنز پر ناٹ آؤٹ تھا تو تماشائی گراؤنڈ کے اندر داخل ہو گئے تھے اور کھیل کافی دیر تک رُکا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے آف سپنر جیف کوپ کی گیند پر ایک رن لے کر اپنی سنچری مکمل کی تھی۔‘مدثر نذر نے اپنی یہ پہلی ٹیسٹ سنچری 557 منٹ میں مکمل کی تھی۔اس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں سُست ترین سنچری کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے جیکی میک گلیو کا تھا جنھوں نے جنوری 1958 میں آسٹریلیا کے خلاف ڈربن ٹیسٹ میں اپنی سنچری 545 منٹ میں مکمل کی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مدثر نذر کی اس سُست ترین سنچری کے مکمل ہونے کے اگلے ہی روز انگلینڈ کے اوپنر جیف بائیکاٹ نے بھی کچھوے کی چال سے بیٹنگ کرتے ہوئے مدثر نذر سے 20 منٹ زیادہ وقت میں اپنی نصف سنچری مکمل کی تھی اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ وہ مدثرنذر کو عالمی ریکارڈ کے مالک کے طور پر دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اس ریکارڈ پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہیں لیکن ان کی اننگز 63 رنز پر اقبال قاسم کے ہاتھوں بولڈ ہونے پر تمام ہو گئی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.