وہ چند جملے جو ڈانٹ ڈپٹ کے دوران بچوں سے کبھی نہیں کہنے چاہیں ۔۔۔۔

نیویارک(ویب ڈیسک) والدین گاہے اپنے بچوں کو ڈانٹتے ہیں تاہم بچوں کی پرورش کی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس ڈانٹ ڈپٹ کے دوران والدین کو الفاظ کا چناﺅسوچسمجھکرکرناچاہیےکیونکہکچھایسےفقرےبھیہیںجووالدینبچوںکوبولیںتوانکیشخصیتپران

فقروںکاانتہائی منفی اثر ہوتا ہے۔ دی سن کے مطابق کرسٹی کیٹلے نامی اس ماہر نے پانچ ایسے فقرے بتائے ہیں جو والدین کو اپنے بچوں سے کبھی نہیں بولنے چاہئیں۔ یہ فقرے مندرجہ ذیل ہیں:۔”پاگل مت بنو۔“”تم احمق ہو۔“”بڑے لڑکے لڑکیاں روتے نہیں ہیں۔“”انہیں گلے ملے یا بوسہ دو۔“”تم تھوڑے موٹے ہو چکے ہو۔“کرسٹی کیٹلے کہتی ہیں کہ یہ فقرے بچے کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب آپ انہیں بتاتے ہیں کہ انہیں نہیں رونا چاہیے تو آپ انہیں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے جوکہ ان کی شخصیت کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔ اسی طرح جب آپ بچوں کو ایسے لوگوں کو گلے ملنے یا بوسہ دینے کا کہتے ہو جنہیں وہ پسند نہیں کرتے تو یہ بھی ان کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور ان کے مزاج اور روئیے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح باقی تمام مذکورہ فقرے بھی بچوں کی پرورش کے لیے منفی اثرات کے حامل ہیں لہٰذا والدین کو انہیں اپنے بچوں کو بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔