وہ کونسا بادشاہ ہے جسکے ساتھ سب بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونئیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو، ونس اپان اے ٹائم کی بات ہے،حاجی صاحب مالش کرنے والے سے مالش کرا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا۔۔ کیا حال ہے حاجی صاحب،آپ نظر نہیں آتے آج کل؟

۔حاجی صاحب نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔۔وہ بندہ کہنے لگا۔۔ حاجی صاحب،میں آپ کی سائیکل لے کے جا رہا ہوں۔۔وہ سائیکل مالیشئے کی تھی، کافی دیر ہوگئی تو مالشی کہنے لگا۔۔ حاجی صاحب،آپ کا دوست آیا نہیں ابھی تک واپس میری سائیکل لے کر؟ ۔۔حاجی صاحب بولے،وہ میر ادوست نہیںتھا۔۔مالشی کہنے لگا۔مگر وہ تو آپ سے باتیں کررہا تھا۔ حاجی صاحب بولے۔میں تو اسے جانتا تک نہیں، میں تو سمجھا تھا وہ تمہارا دوست ہے۔۔مالشی بولا۔۔ حاجی صاحب،میں غریب آدمی ہوں،میں تو لٹ گیا۔۔حاجی صاحب نے اسے تسلی دی، اچھا تو رو مت،میں تجھے نئی سائیکل لے دیتا ہوں، تم سائیکل والی دکان پر جاکے پسند کرلو۔۔مالشی نے ایک سائیکل پسند کی اور چکر لگا کے دیکھا۔واپسی پر آکر کہنے لگا کہ حاجی صاب یہ سائیکل ذرا ٹیڑھی چل رہی ہے۔حاجی صاحب بولے۔۔جایار یہ تو نئی سائیکل ہے، اچھا ٹھہر ذرا،دکھاؤ میں چیک کرکے آتا ہوں۔۔حاجی صاحب سائیکل پر چکر لگانے گئے اور واپس آئے ہی نہیں۔مالشی کو اس سائیکل کے پیسے بھی دینے پڑ گئے ۔۔نوٹ:آج ایسا ہی حال پاکستانی قوم کے ساتھ ہو رہا ہے،ہر نیا آنے والا حکمران حاجی ہے اور عوام مالشی۔۔کہتے ہیں کہ مصطفی کھر کی گورنری کے زمانے کا واقعہ ہے کہ ملکوال کے ایک کسان نے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بٹیرے پکڑ لیے، اس نے سوچا خود اُس نے اِن بٹیروں کا کیا کرنا ہے کیوں نہ یہ سب سے بڑے اور با اثر افسر کو تحفے میں دئے جائیں۔۔اب بھلا ایک کسان کے لیے پٹواری سے بڑا افسر کون ہوسکتا تھا اور پھر کسان کو پٹواری سے کام بھی پڑتا تھا

تو وہ چل پڑا کہ چل کے پٹواری صاحب کو خوش کرتے ہیں۔ پٹواری کے گھر کے باہر پہنچ کر سادہ لوح دیہاتی کسان نے باہر سے ہی آواز دی ۔۔ پٹواری صاحب جی۔۔اندر سے پٹواری دھاڑا۔۔۔ ہاں اوئے رحمیاں، کی آ۔۔کسان نے دروازے سے منہ لگا کر زوردار آواز میں پوچھا۔۔ جی چودھری جی بٹیرے کھا لیندے او؟۔۔ اسی دوران ایک ستم ظریف جو پاس سے گزر رہا تھا، اس نے آہستہ سے کسان کے کان میں بتا دیا کہ پٹواری کا تبادلہ ہو گیا ہے۔۔پٹواری قدرے خوشی سے بولا۔۔ آہو کھا لینے آں۔۔کسان برجستہ بولا۔۔چنگا فیر پھڑیا کرو تے کھایا کرو۔۔باباجی کی یادداشت بڑی ظالم ہے، ان کے سامنے کوئی بھی موضوع چھیڑدیں، اس پر پتہ نہیں کہاں کہاں سے پرانے قصے نکال کر سناناشروع کردیں گے، لیکن مجال ہے کہ آپ ایک سیکنڈ کے لئے بور ہوجائیں۔ اسی طرح ایک روز شاعر،ان کی محبوبہ کے گرد شاعری موضوع سخن تھا۔۔ باباجی کہنے لگے۔۔ایک بار مرزا مسکین کی محبوبہ نے مرزا سے کہا۔۔ دوسرے عشّاق کے برعکس جو محض اپنی محبوباؤں سے یہ کہتے ہیں کہ ہم آسمان سے تارے توڑ لائیں گے یا فرطِ جذبات میں آ کر آسمان سے چاند اتارنے کا وعدہ کرتے ہیں، آپ میرے لئے کچھ ایسا کر سکتے ہو جو حقیقی بھی ہو اور ان سے بڑھ کر بھی ہو؟اس پر مرزا بڑے اطمینان سے بولے۔۔میں آپ کے قدموں تلے جنت لا سکتا ہوں۔۔یعنی کہ یہ تو وہی بات ہوگئی کہ۔۔غریب اتنا ہوں کہ اک گدھا بھی نہ خرید سکوں ،اور امیر اتنا ہوں کہ ہر رات گھوڑے بیچ کے سوتا ہوں۔۔

باباجی نے ایک روز محفل میں سوال کیا ، وہ کون سا بادشاہ ہے جس سے سب بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔۔ محفل میں موجود ہر شخص نے کافی مغزماری کی لیکن کسی کو جواب نہ آیا۔۔ جب تمام حاضرین محفل نے ہار مان لی تو باباجی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ آم وہ بادشاہ ہے جس کے ساتھ سب ہی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔۔باباجی بتاتے ہیں کہ۔۔ایک بار ایک میراثی کا ڈیڑھ لاکھ کا پرائز بانڈ لگ گیا وہ ایک لاکھ کا گوشت لے آیا اور پچاس ہزار کے کریلے اور پھر تندور سے روٹیاں ادھار لینے چلا گیا۔۔باباجی نے انکشاف کیا ہے کہ چارچیزوں کو قدرت نے غائب ہونے کی صلاحیت دی ہے۔۔ نمبرایک ٹی وی کا ریموٹ، دوسرا چابیاں، نمبرتین پر نیل کٹر اور نمبر چار پر وڈا شاپر۔۔ لیکن ۔۔باباجی کی بات شاید ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔کہنے لگے، پانچویں نمبر پر ہماری زوجہ ماجدہ کی قریب کی عینک بھی ہے۔۔پرانے زمانے کی بات ہے ایک دیہاتی میلہ دیکھنے گیا ‘ میلے کی رنگینیوں میں گم اس دیہاتی کو خبر ہی نہ ہوسکی اورجیب کترے ہاتھ دکھا گئے ‘خبر تو اس وقت ملی جب ’’گولہ ‘‘ کھانے کیلئے اس نے جیب سے پیسے نکالناچاہے ‘ وہ بیچارا بہت چیخا چلایا لیکن کسی کو کیا پرواہ ہوناتھی۔ خیر جی وہ دیہاتی شام کو تھکاہارا پنڈ پہنچ گیا‘ آس پاس کے مردوخواتین اکٹھے ہوگئے کہ اس سے میلے کی رنگینیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘وہ بیچارا سیدھا سادھا دیہاتی کہنے لگاکہ ’’اصل میں میلہ لگایا ہی اس لئے گیا تھا تاکہ میرا بٹوہ چرایاجاسکے‘‘ اب کسی سیدھے سادھے پاکستانیوں سے پوچھا جائے

تو وہ یہی جواب دینگے کہ ہرتین چار یا پھر اخیر پانچ سال بعد ہونیوالے انتخابات محض انکا ’’بٹوہ‘‘ چوری کرنے کا بہانہ ہوتے ہیں ‘سوچئے تو سہی ایک عام پاکستانی شہری کے بٹوے میں ہے کیا ’’دال روٹی‘ چائے ‘ کپڑے لتے‘‘ لیکن بھلا ہو ’’میلہ ‘‘ کرانے والوں کاکہ پاکستانی قوم ’’بٹوؤں‘‘ سے محروم ہورہی ہے اورکوئی سوچنے سمجھنے والا نہیں۔ہمیں بچپن ہی سے چونکہ سیاست سے کوئی دل چسپی نہیں تھی،اس لئے ہم صرف پاکستان میں دو ’’شریفوں‘‘ کو جانتے تھے، ایک عمرشریف اور دوسری بابرہ شریف۔۔پھر جب کالج اوریونیورسٹی لائف میں پہنچے تو پتہ چلا کہ ایک اور شریف بھی ہیں وہ ’’نوازشریف‘‘ تھے۔۔ایک زمانہ تھا کہا جاتا تھا ،شرفا میں تو اب بھی یہی مانا جاتا ہے کہ سیاست ’’شریفوں‘‘ کا کام نہیں ہے۔۔ لیکن اب سیاست بھی ’’شریف ‘‘ ہوچکی ہے۔۔ انسانوں کی طرح بعض سبزیاں اور پھل بھی ’’شریف ‘‘پائے گئے ہیں۔ مثلاً بند گوبھی کو لے لیجئے اتنی باحیا اور شریف ہے کہ تہہ در تہہ پردوں میں رہتی ہے۔پردے ہٹاتے جائیے ہٹاتے جائیے لیکن آپ محترمہ کی زیارت سے مشرف نہیں ہو سکتے۔ مکئی کا بھٹہ اتنا شریف ہے کہ سامنے آنے سے گھبراتے ہوئے جلدی میں چھپنا چاہا تو بال باہر ہی رہ گئے۔ایک پھل نے تو شرافت کی حد پار کرتے ہوئے اپنا نام ہی ’’شریفہ ‘‘ رکھ لیا۔پیازبھی باحجاب اور شرافت کی پیکر ہے، آپ اسے پردے سے آزاد کرانا چاہیں گے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔۔بات ہورہی تھی شریفوں کی، ہمارے ملک کے لیجنڈ کامیڈین عمر شریف ان دنوں شدید علالت کا شکار ہیں۔۔ آپ سب احباب سے ان کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔یہ جو بھوک کی وجہ سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوتے ہیں،ان میں سے کوئی فرسٹ بھی آتا ہے یا بس ایویں ہی دوڑ لگارہے ہوتے ہیں؟؟ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.