وہ کون تھی ، کہاں چلی گئی ؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی خاور نعیم ہاشمی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ پندرہ سال قبل علینا کو میں نے پہلی بار علامہ اقبال ٹاؤن میں بولان ایوارڈز والے خلیق احمد کے دفتر میں دیکھا تھا، اسے وہاں ایوارڈ تقریب میں پرفارمنس کی دعوت دینے کیلئے بلوایا گیا تھا، میرے جیسے کئی دوستوں کو

شاید اس کا دیدار کرانے کیلئے جمع کر لیا گیا تھا،اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ شہر کے کلچرل فنکشنز،مخصوص گھروں میں ہونے والی پارٹیوں ، ناچ گانے کی کھلی تقریبات اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی محو رقص نظرآنے لگی، اس نے بڑی بڑی رقاصاؤں کی چھٹی کرادی تھی،،اچھا ناچتی ہی نہیں بہت اچھی دکھتی بھی تھی، لوگوں نے بتایا تھا کہ اسے سرکار، دربار تک پذیرائی مل رہی ہے،علینا ، رفعت کے ساتھ سبزہ زار میں رہتی تھی پھر رفعت نے ڈیفنس میں بنگلہ خرید لیا، 2007 ء میں ایک دن خبر ملی کہ علینا دنیا سے چل بسی ہے، اس کے جنازے اور اسے سپرد خاک کرنے کا کوئی گواہ نہ تھا، رفعت سب سے کہہ رہی تھی کہ وہ اچانک بیمار ہوئی، اسے شوکت خانم اسپتال لیجایا گیا جہاں وہ چل بسی،علینا کے انتقال کی کہانی ڈیفنس والی کوٹھی سے نہیں اس کے پہلے والے چھوٹے سے گھر سے نکلی تھی، لوگ علینا کے پرسے کے لئے وہیں جا رہے تھے، جتنے منہ اتنی باتیں، کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے سنے گئے کہ رفعت نے اس کا بے تحاشہ استعمال کیااستعمال کرایا، اس نے علینا کے دبئی کے بھی مسلسل چکر لگوانے شروع کر دیے تھے ، اسے کوئی مرض لگ گیا دردانہ رحمان پھوڑی پر بیٹھی سوال اٹھا رہی تھی کہ لوگوں کو اس کے انتقال کی خبر کیوں نہ دی گئی؟اسے جنازے کے بغیر کیوں سپرد خاک کیا گیا؟ رفعت کی طرف سے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا،،،،جن لوگوں نے علینا کی موت کے حوالے سے انوسٹی گیشن کی، ان کا کہناتھا کہ علینا کو کسی دوسرے نام سے اس وقت شوکت خانم اسپتال لایا گیا جب اسکی حالت بالکل خراب ہو چکی تھی ، اس کا سب کچھ ختم ہو گیا تھا، علینا کی بیماری سب سے چھپائی گئی تھی تو علینا کا چہرہ کسی کو کیسے دکھایا جاتا؟ انتقال کرتی ہوئی علینا کو اس کی کمائی سے بننے والے ڈیفنس کے بنگلے سے بھی دور کر دیا گیا تھا تاکہ اس کی نحوست سے پاک رہ سکے،اس کی جنازہ رات کی تاریکی میں دو آدمی قبرستان لے گئے تھے، علینا کی موت کو ابھی چار ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ رفعت نے اپنے گاہکوں کو نئی چیز کے آجانے کی اطلاع دینا شروع کردی،

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *