ٹرمپ کے جانے اور جوبائیڈن کے آنے کے بعد محمد بن سلمان کے اختیارات اور طاقت میں اضافہ ہوا یا کمی آگئی ؟

واشنگٹن (ویب ڈیسک) مشہور زمانہ صحافی فرینک گارڈنر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی لڑائی میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہیں۔امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے پر منبی ہو گی۔‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کی یہ پالیسی میں تبدیلی کا دونوں ملکوں پر کیا اثر پڑے گا اور امریکہ اور سعودی عرب کو آگے چل کر کیا خطرات پیش آ سکتے ہیں؟سعودی عرب کے جوان سال ولی عہد، جن کو دنیا ’ایم بی ایس‘ کے نام سے جانتی ہے، کے لیے واضح طور پر اِس کا یہ مطلب ہو گا کہ ان کی من مانی کرنے کے دن اب حقیقی طور پر ختم ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب کو اگر امریکہ کو بطور اپنے دفاعی اتحادی اور اپنے تحفظ کے ضامن کے طور پر رکھنا ہے تو اس کو امریکی وزارت خارجہ میں سوچ کی اس تبدیلی سے اپنے آپ کو ہم آہنگ رکھنے کے لیے اپنی پالیسی میں چند بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جاری لڑائی کے لیے اب امریکہ کی مزید حمایت حاصل نہیں ہو گی۔ اس پر اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب شاید یہ کہہ سکتا ہے کہ ’ٹھیک ہے، ہم (سعودی عرب) تو پہلے ہی اس لڑائی کو ختم کرنے کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ قطر سے سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہوں جو کہ سعودی عرب حال ہی میں کر چکا ہے۔امریکہ کے دارالحکومت سے اٹھنے والی آوازوں میں سعودی عرب میں قید انسانی حقوق کی خواتین کارکناں کی رہائی کے مطالبے بھی شامل ہیں۔ اور گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے انسانی حقوق کی سب سے سرکردہ کارکن لجین الھندول کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ یہ دوستی کے بیج اس تاریخی ملاقات میں بوئے گئے تھے جو 1945 میں امریکی جہاز پر سعودی عرب کے اس وقت کے فرما روا شاہ عبدالعزیز اور صدر روزریلٹ کے درمیان ہوئی تھی۔گذشتہ دہائیوں میں یہ دوستی کئی بحرانوں سے گزری ہے جس میں سنہ 1973 میں سعودی تیل کی فروخت پر پابندی، سنہ 1991 کی خلیج کی لڑائی کے علاوہ 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے افراد

کے اٹیکس بھی شامل ہیں۔سعودی عرب کے حکمران شاید واشنگٹن میں اقتدار میں آنے والی نئی انتظامیہ سے اتنے خوش نہ ہوں لیکن وہ راتوں رات امریکہ کی جگہ کسی اور قوت سے معاملات طے نہیں کرنے والے۔ سعودی حکمرانوں نے جو بائیڈن کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد مبارک باد دینے میں بھی کئی دن لگا دیے تھے۔سعودی عرب کو اس بات کا پوری طرح ادارک ہے کہ اگر خلیج سے امریکہ اپنا طاقتور پانچواں بحری بیڑا نکال لے تو پھر اس کا دیرینہ دشمن ملک ایران اِس خلا کو پُر کرنے میں دیر نہیں لگائے گا اور خطے میں اپنا بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔فی الوقت جوبائیڈن کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس کو بیرونی اٹیکس سے محفوظ رکھنے میں پوری مدد کرے گا اور یہ کہ امریکہ حوثی باغیوں کی طرف سے ہونے والے ڈورن اٹیکس کو ناکام بنانے میں بھی تعاون جاری رکھے گا۔جو بائیڈن کی اس پالیسی میں امریکہ لیے بھی کچھ خطرات ہیں۔شاہ سلمان اب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور اپنی صحت کی وجہ سے وہ اب اُمور سلطنت چلانے میں اتنی سرگرمی سے حصہ نہیں لے سکتے۔لہذا امریکہ کو چاہتے ناچاہتے بھی آنے والے برسوں بلکہ دہائیوں میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ہی معاملات طے کرنے ہوں گے۔سعودی عرب کے اندر محمد بن سلمان اپنی سماجی اصلاحات کے تناظر میں کافی مقبول ہیں اور خاص طور پر نواجون نسل میں۔نوجوان نسل اپنے آپ کو 35 سالہ ولی عہد سے ذہنی

اور فکری طور پر قریب پاتی ہے خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں ہمیشہ سے ستر اور اسی سال کی عمر کے لوگوں ہی بادشاہ اور ولی عہد رہے ہوں۔سعودی سلطنت میں طاقت اور حکومت کے تمام ذرائع ان کے اختیار میں ہیں اور انھوں نے ملک کی افواج، وزارتِ داخلہ اور نیشنل گارڈ کو براہ راست اپنے تابع کر لیا ہے۔انتہائی چالاکی سے انھوں نے اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو صاف کر دیا ہے جن میں سابق وزیرِ داخلہ اور سابق ولی عہد پرنس محمد بن نائف بھی شامل ہیں جنھیں امریکہ مستقبل میں سعودی عرب کے حکمران کے طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔ محمد بن سلمان نے سنہ 2017 میں بڑی مہارت سے ان کو ولی عہد اور وزارتِ داخلہ سے ہٹا دیا تھا۔تاریخ میں جب بھی بات سعودی عرب کے معاملات میں امریکہ کے اثر انداز ہونے کی آئی ہے نتائج امریکہ کی مرضی کے عین مطابق نہیں نکل پائے ہیں۔سنہ 2005 میں امریکی کی اس وقت کی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے شخصی حکومت اور بادشاہتوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ جمہوریت کا نظام اپنائے اور ملک میں انتخابات کروائے۔اس کے جواب میں سعودی حکمران خاندان نے صرف انگلی گیلی کرنے کے مترادف محدود پیمانے پر بلدیات کی سطح کے انتخابات کروائے تھے۔ان مقامی سطح کے انتخابات کے نتائج میں انتہائی قدامت پسند، مغرب مخالف اور سخت گیر مذہبی خیالات رکھنے والوں نے واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات کے بعد سعودی عرب کے حکمران خاندان کا امریکہ کو یہی پیغام تھا کہ آپ اپنی خواہشات کے بارے میں احتیاط سے کام لیں۔

Comments are closed.