ٹھوس دلائل کے ساتھ دعویٰ کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مخدوم یوسف رضا گیلانی کی سیاست میں طویل اننگ ہے، جو ضلع کونسل سے شروع ہو کر سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم تک پہنچی اور ان کو وزارتِ عظمےٰ ایک چٹھی نہ لکھنے کی وجہ سے چھوڑنا پڑی،

وہی چٹھی جو بعد میں دوسرے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے لکھ دی تھی، پہلی بار محترم صدر(اس وقت) آصف علی زرداری کو یقین تھا کہ چٹھی نہ لکھنے پر عدلیہ کوئی بڑا ایکشن نہیں لے گی،لیکن حالات بتا رہے تھے کہ کچھ ضرور ہو گا، چنانچہ عدلیہ نے تاریخ کی ایک مختصر ترین سماعت کے بعد ایک مختصر سی سزا بھی دی، جو توہین عدالت کے جرم میں تا برخاست عدالت تھی۔ یہ حکم سناتے ہی عدالت برخاست بھی کر دی گئی اور جج حضرات اُٹھ کر چلے گئے۔ مخدوم یوسف رضا گیلانی ہکا بکا رہ گئے ان کو یقین نہیں آ ر ہا تھا کہ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ہو گیا،اس کے نتیجے میں اور تو کچھ نہ ہوا، ان کی وزارت عظمےٰ چلی گئی اور وہ گھر واپس آ گئے۔آصف علی زرداری بھی بے چین ہو گئے،تاہم وقت کا انتظار کرنے کے قائل ہیں اور انہوں نے ایسا کیا اور اب مخدوم یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے لئے میدان میں اتار دیا ہے، اس سلسلے میں جو بات چیت ہوئی، جس کا نتیجہ نکلا وہ یہی ہے کہ اسلام آباد سے ہی مقابلہ کیا جائے کہ وہاں سے جتوایا جا سکتا ہے،جبکہ سندھ سے پہلے ہی عبدالرحمن ملک اور مصطفےٰ نواز کھوکھر کو اکاموڈیٹ کیا گیا ہے۔ یوں بھی حساب کتاب کے حوالے سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن(متحدہ) کی تعداد اتنی بنتی ہے کہ کچھ ”محنت“ کے بعد جیتنے کے لئے درکار باقی ووٹ حاصل کئے جا سکیں،اسی لئے پیپلزپارٹی خفیہ ووٹنگ ہی کی قائل بتائی گئی، اور پھر پی ڈی ایم کا یہ فیصلہ کہ مل کر الیکشن لڑیں گے، اس سے بھی امید وابستہ کر لی گئی ہے، مخدوم یوسف رضا گیلانی کو یقین ہے کہ وہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے حضرات جو پی ٹی آئی میں ہیں،ان کی حمایت کر کے ووٹ دیں گے اور اگر وزیراعظم کی تجویز کے مطابق کھلی ووٹنگ ہوئی تو مشکل بڑھ جائے گی، تاہم ان کو یقین ہے کہ ایسے ناراض حضرات سے ووٹ حاصل کئے جا سکتے ہیں، اب ذرا ملاحظہ کریں تو قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں مسلم لیگ(ن) بڑی پارٹی ہے اور پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر ہے، یہاں بھی بات یقینی کی ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کی وجہ سے مخدوم یوسف رضا گیلانی متفقہ امیدوار بھی بن جائیں گے کہ ذاتی طور پر ان کے مراسم نہ صرف جمعیت علماء اسلام، بلکہ مسلم لیگ (ن) اور دوسری جماعتوں سے بھی ہیں۔قارئین! ذرا غور کریں تو یہ بہت مشکل مرحلہ ہے،لیکن یہ بھی طے ہو جائے گا کہ پنجاب میں اب تک کسی بھی ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ نہیں کیا،بلکہ ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ ریکارڈ پر ہیں، کہ ایسا ہی ہو گا اور پنجاب سے کسی بھی نشست پر پیپلزپارٹی کا کوئی امیدوار نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *