ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت جہاز کی سیٹیں سیدھی اور نارمل حالت میں رکھنے کا فائدہ

نیویارک(ویب ڈیسک) ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت ہوائی جہاز کے مسافروں کو سیٹیں سیدھی کرنے کو کیوں کہا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنے پر نتیجہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے؟ ایک ایئرہوسٹس نے اس حوالے سے چشم کشا باتیں بتا دی ہیں۔ ایک انٹرنیشنل انگلش اخبار کے مطابق کیٹ کیملانی نامی اس ایئرہوسٹس نے

اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں بتایا ہے کہ سیٹ اوپر نہ کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتا ہے چنانچہ مسافروں کو جہاز کے عملے کی اس بات کو رد نہیں کرنا چاہیے اور جب انہیں سیٹیں اوپر کرنے کو کہا جائے، بلا تامل کر لینی چاہئیں۔کیٹ نے کہا کہ اگر ہوائی جہاز میں کوئی ایمرجنسی ہو جائے، مثال کے طور پر آتشزدگی ہی ہو جائے یا جہاز پانی میں اتر جائے تو مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے نکلنا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کی سیٹ ہنوز پیچھے کی طرف جھکی ہوئی ہے تو یہ آپ کے پیچھے والی سیٹوں پر بیٹھے مسافروں کے باہر نکلنے میں رکاوٹ بنے گی اور ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایسی ایمرجنسی کی صورت میں سیکنڈز بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں اور جو مسافر چند سیکنڈ کے لیے سیٹ سے لیٹ اٹھے اور باہر نہ نکل پائے، اس کی زندگی جا سکتی ہے۔ سیٹیں ہی نہیں بلکہ مسافروں کو اپنی ’ٹرے ٹیبل‘ بھی بند رکھنی چاہیے اور صرف ضرورت کے وقت کھولنی چاہیے کیونکہ یہ خود ان کے جہاز سے باہر نکلنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *