پابندیوں سے تنگ شہریوں کے کام کی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبے ان سے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ڈاون نہ ہونے دیتے۔ سخت لاک ڈاؤن نہ کرنے اور احساس پروگرام کی وجہ سے آج پاکستان میں حالات بہتر ہیں ۔ انہوں نے کیش تقسیم کرنے کےلیے لاڑکانہ کا دورہ کیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ

وہاں چھابڑی والوں کو کیوں بند کردیا گیا۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کے فنڈنگ کے جذبے کو سمجھتا ہوں، احساس پروگرام سیاست سے پاک ہے۔ شوکت خانم اسپتال کے لیے عام عوام نے فنڈ دیا، ہمارے ملک کے عوام میں خیرات دینے کا جذبہ ہے۔انہوں نےکہا کہ پاکستانی چندہ دینے والی قوموں میں سب سے آگے ہے، 30 سال کے دوران سب سے زیادہ فنڈ میں نے اکٹھا کیا، زلزلہ آیا تو سب لوگ چندہ دینے بالاکوٹ جارہے تھے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھ سے اگر صوبے پوچھ لیتےتو کبھی ایسا لاک ڈاون نہ کرنے دیتے، دیکھنا ہوگا لاک ڈاؤن سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو دیکھتے دیکھتے پاکستان میں لاک ڈاؤن کردیا گیا، یورپ اور پاکستان کے حالات میں بہت فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث سروس سیکٹر تباہ ہوگیا، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز بالکل بند ہوکر رہ گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس لاک ڈاؤن میں غریب عوام کو بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے، احساس کیش پروگرام نے بہت بڑا ریلیف دیا، جو سیاست سے پاک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مستحقین میں پیسے کی تقسیم کیلئے لاڑکانہ گیا، وہاں دیکھا کوئی ترکھان ہے تو کوئی درزی ہے، وہاں 20 فیصد چھابڑی والے تھے، سمجھ نہیں آئی چھابڑی والوں کو کیوں بند کیا گیا؟عمران خان نے نے مزید کہا کہ وزیراعظم احساس کیش پروگرام سے مستحق عوام کو فنڈ دیا گیا، ارکان اسمبلی اور وزراء پناہ گاہوں میں غریب افراد کےساتھ کھانا کھائیں، مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کو بڑھایاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اعتماد دینا ہے کہ چندے کا پیسا صحیح جگہ جارہا ہے، اگلا مہینہ مشکل ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا ہے، غریب عوام کو بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.