پارٹی سے کہاں غلطی ہوئی ؟ مظہر عباس کا زبردست تبصرہ

کراچی(ویب ڈیسک ) پی پی پی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی30 نومبر 1967 کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کی رہائش گاہ پر تشکیل دی گئی جس نے پشاور میں ʼورکرز کنونشن کے ساتھ اپنا 54 واں یوم تاسیس منایا۔جہاں پارٹی آج ʼبھی مایوسی کے درمیان امید کی کرن کی صورت کھڑی ہے۔

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کولڈ وار کے دور سے ʼاسلام فوبیا تک بہت سے چیلنجوں کا اس نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں سامنا کیا اب ایک چیلنج وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پاکستان تحریک انصاف کا سامنا ہے- پیپلز پارٹی جو کبھی قومی یکجہتی کی علامت ہوا کرتی تھی اب سندھ تک محدود ہو گئی ہے۔ بظاہر یہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد سے اب تک سنبھل نہیں پائی، ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے سب سے کرشماتی رہنما تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جتنی قربانیاں دی ہیں کسی جماعت نے نہیں دی تھیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ 1988 کے بعد ہونے والے زیادہ تر انتخابات کا مقصد ʼسیاسی انجینئرنگ کے ذریعے پی پی پی کو پسماندہ کرنا تھا۔ لیکن اتنا ہی سچ ہے کہ پارٹی قیادت نے 1988 اور خاص طور پر 2007 میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو دو بڑی غلطیاں کیں، سمجھوتہ کیا یا اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پی پی پی پاکستانی سیاست کا انداز بدل سکتی ہے۔ لیکن کوئی بھی ہمیشہ کے لیے ماضی کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور ماضی کی غلطیوں سے وقتاً فوقتاً سیکھتا ہے۔ جیسا کہ پی پی پی کے ایک نقاد کا کہنا ہے کہ ʼماضی میں رہنے کے بجائے کم از کم نئی غلطیاں کریں۔ 2015 میں ایک بار، پارٹی نے دبئی میں تین روزہ میراتھن میٹنگ کے دوران اپنی سیاست پر نظرثانی کی اور پہلی بار کچھ رہنماؤں نے اس سے آگے کچھ جگہ دینے کا مشورہ بھی دیا۔

خاندانی وراثت جیسے مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد کسی سینئر رہنما کو صدر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز، PPP-P لانا۔ ایک اور تجویز یہ تھی کہ سابق صدر آصف علی زرداری پارٹی کو بلاول بھٹو کے حوالے کردیں اور دبئی میں ہی رہیں کیونکہ ان کی اعلیٰ سطح پر موجودگی پارٹی کو کم از کم زمینی طور پر کسی بھی طرح سے مدد نہیں دے گی۔ اس میٹنگ میں مسٹر زرداری خود بھی موجود تھے لیکن اس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ مسٹر زرداری نہ صرف شریک چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہے بلکہ پی پی پی پی کے صدر اور بلاول چیئرمین بھی بن گئے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں خاندانی وراثت سیاست میں اب بھی مضبوط ہے لیکن سری لنکا اور ہندوستان جیسے کچھ ممالک میں بھی دہائیوں پرانی پارٹیاں اور کانگریس اور گاندھی جیسے خاندان عوامی حمایت کھو چکے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ پی پی پی اپنے تجربے سے سیکھ سکتی ہے اگر وہ کھوئی ہوئی عوامی بنیاد دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بھٹو اپنے ارد گرد کے تنازعات کے باوجود ایک عظیم رہنما تھے اور اگرچہ وہ 1967 میں پارٹی بنانے کے بعد 12 سال تک زندہ رہے اور1979 میں عدالتی طور پر ان کو زندگی سے محروم کیا گیا لیکن انہوں نے بہت مضبوط سیاسی میراث چھوڑی۔ وہ خود کبھی نہیں چاہتے تھے کہ پارٹی ان کے خاندان کے ذریعے چلائی جائے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین شیخ رشید احمد (بابائے سوشلزم) سے کہا کہ

وہ ان کی رہائی تک قائم مقام چیئرمین کے طور پر اقتدار سنبھال لیں۔ پی پی پی بیگم بھٹو کوجاگیردار بنانا قبول نہیں کرے گی۔ یہ بیگم بھٹو ہی تھیں جنہوں نے فرنٹ سے قیادت کی اور پھانسی کے بعد اور کچھ مرکزی رہنماؤں یا ’’ماموں‘‘ کے متنازعہ کردار کے بعد وہ بھٹو کی سیاست کی علامت بن گئیں۔ بعد میں یہ بے نظیر ہی تھیں جو کلیدی رہنما بن کر ابھریں۔ اگرچہ بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا، لیکن ان کی مقبولیت ہمیشہ پنجاب میں رہی اور اگر پی پی پی کی قیادت پنجاب میں بھٹو کے راستے پر چلتی، خاص طور پر 1986 کے بعد، جب بے نظیر کے استقبال کے لیے بہت بڑا ہجوم لاہور آتا تو پارٹی کو اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج بڑے صوبے میں بلاول کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے بشرطیکہ وہ ایک نوجوان رہنما کے طور پر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں لیکن اب تک یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بڑے سیاسی فیصلے اب بھی سابق صدر کے پاس ہوتے ہیں جو اپنی خراب صحت کے باوجود جب کہ پی پی پی اب بھی سندھ کی سب سے مضبوط جماعت ہے کیونکہ دیہی سندھ میں شاید ہی کوئی سیاسی حریف ہے، لیکن اب تک سب سے قریب جے یو آئی (ف) ہے کیونکہ نہ پی ایم ایل (این) اور نہ ہی پی ٹی آئی۔ کبھی سنجیدہ سیاسی کام کیا لیکن بلاول کو شہری سندھ میں اپنی سیاست پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ دیہی اور شہری تقسیم کے درمیان فرق کو ’پُل‘ کر سکتے تھے،

خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایک بہت بڑا ’سیاسی خلا‘ ہے، نہ کہ انتہائی متنازعہ سندھ لوکل گورنمنٹ بل کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کے طریقے سے۔ پی پی پی میثاق جمہوریت، میثاق جمہوریت پر عمل پیرا ہوتی اور 2007 میں سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہوتی تو بہت کچھ حاصل کر سکتی تھی۔ جو بعد میں 2008 کے اوائل میں منعقد ہوا)۔ ’’بدعنوانی ‘‘ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں پیپلزپارٹی کی قیادت عوام کے تاثر کو بدلنے میں ناکام رہی اور اس حوالے سے خود جناب زرداری کے علاوہ کوئی بھی تنقید کا مرکز بن گیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ پی پی پی کی قیادت کھلے ذہن کے ساتھ اپنی سیاست کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر نظرثانی کرے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جماعت اپنی تاریخ پر ایک کتاب تک مرتب نہیں کر سکی۔کارکنوں کی کیا بات کی جائے پارٹی قیادت کی اکثریت نے بھی ’فاؤنڈیشن ڈاکیومنٹ‘ نہیں پڑھا، کیونکہ وہ ان میں کبھی تقسیم نہیں ہوئے۔ گزشتہ دنوں پشاور میں ورکرز کنونشن یا جلسہ عام کے انعقاد کا فیصلہ ایک جرات مندانہ ہے لیکن یہ اور بھی بہتر ہوتا کہ یہ اس کی جائے پیدائش یعنی لاہور میں منعقد کیا جاتا جہاں پیپلزپارٹی اپنی حکومت نہیں بنا سکی۔ کے پی کا صوبائی دارالحکومت پشاور ایک اور شہر تھا جو کبھی پی پی پی سے تعلق رکھتا تھا جس میں حیات محمد خان شیرپاؤ مرحوم جیسے رہنما تھے۔ بھٹو کی میراث سے زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے اور جب تک پارٹی ایک نئی شروعات نہیں کرتی اور بنیادی باتوں یعنی پارٹی کی جمہوریت سازی، سیاسی نرسریوں جیسے اسٹوڈنٹ یونینز، لیبر یونینز کی بحالی، مکمل طور پر بااختیار بلدیاتی نظام تک نہیں جاتی مجھے شک ہے کہ پارٹی کامیاب ہو پائے گی یا سندھ سے آگے اپنی پوزیشن بہتر کرسکے۔ لاہور کی تینوں مرکزی دھارے کی جماعتوں یعنی پی پی پی، پی ایم ایل (این) اور پی ٹی آئی کو جنم دینے کی منفرد تاریخ ہے لیکن صرف مسلم لیگ ن ہے جس نے 1985 سے اپنی گرفت برقرار رکھی ہے اور پی پی پی کی طرف سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی سے سنگین چیلنج محسوس کیا ہے۔

Comments are closed.