پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے سے حکومت کو کیا فائدہ اور نواز شریف و(ن) لیگ کو کیا نقصان ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شہزاد ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد 15 فروری کو ختم ہو گئی ہے جبکہ حکومت پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

اس پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی وجہ حکام یہ بتاتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کو پاکستان کی مختلف عدالتیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں اس لیے ان کے پاسپورٹ کی معیاد میں تجدید نہیں کی جا سکتی۔پاکستانی حکومت اور اس کے وزرا متعدد اعلانات کے باوجود سابق وزیر اعظم کو اب تک وطن واپس لانے میں ناکام رہے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے باوجود بھی سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانا مشکل ہو گا۔نواز شریف نے جب برطانیہ کا سفر اختیار کیا تھا تو اُن کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا۔ انھیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب وہ ملک کے وزیرِ اعظم تھے۔شیخ رشید احمد نے حال ہی میں وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ حکومت سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں تجدید کا عمل وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے ہی کرتے ہیں۔بین الاقومی قوانین کے ماہر بیرسٹر علی طفر کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود میاں نواز شریف کی پاکستانی شہریت ختم نہیں ہو گی اور نہ اُن کے شناختی کارڈ کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے جس کے ختم ہونے سے کسی ملک کی شہریت ختم نہیں ہو سکتی۔اُنھوں نے کہا کہ چونکہ سابق وزیر اعظم کو اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت مختلف عدالتیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں اور اب ان کے پاسپورٹ

کی معیاد بھی ختم ہو چکی ہے تو حکومت بنیاد پر ایک مرتبہ پھر انٹرپول سے رابطہ کر کے ملزم کو پاکستان لانے کی درخواست کر سکتی ہے۔بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید کے لیے سابق وزیر اعظم برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو درخواست نہیں دے سکتے اور نہ ہی برطانیہ کی کوئی عدالت اس پاسپورٹ کی تجدید کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کو کوئی حکم نامہ جاری کر سکتی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف خود وطن واپس آنا چاہیں تو وہ برطانوی ہائی کمیشن کو درخواست دے سکتے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستانی ہائی کمیشن انھیں ایک عارضی سفری دستاویز تیار کر کے دے گا جس پر وہ صرف پاکستان کا ہی سفر کر سکیں گے۔فوجداری مقدمات کی ماہر وکیل زینب جنجوعہ کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس کسی بھی شخص کے پاسپورٹ کی تجدید کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اختیار ہے لیکن اس کی شہریت ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے جب تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے بعد بذات خود پاکستانی شہریت کو ختم کرنے کی درخواست دائر نہ کر دے۔اُنھوں نے کہا کہ شناختی کارڈ رکھنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کوئی عدالت بھی شہری کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتی۔زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ کچھ ایسی مثالیں ہیں کہ کسی شخص کا شناختی کارڈ وقتی طور پر بلاک کر دیا گیا ہو لیکن شہریت منسوخ کرنے کی مثال نہیں ہے۔ایک اور سوال

جو لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کے باعث کیا برطانیہ اُن کو ملک بدر کر سکتا ہے؟بیرسٹر علی ظفر کے مطابق برطانوی قوانین میں اگر کسی شخص کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو جائے تو اس کا ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا اور اس کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔اُنھوں نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کسی دوسرے ملک کا سفر نہیں کر سکیں گے۔دس سال قبل برطانیہ میں ’ان ڈاکومینٹڈ امیگرینٹس‘ کی تعداد ساڑھے چار کے قریب تھی جبکہ برطانوی حکام کو یہ خدشہ ہے کہ اب تک یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔برطانوی حکومت نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ برطانیہ میں مقیم تمام افراد اس ویکسین کو لگوائیں چاہے ان کے پاس قانونی دستاویز موجود ہیں یا نہیں۔پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے اور ان مذاکرات کی روشنی میں ایک مجوزہ مسودہ بھی تیار کر لیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ اپنے حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا۔پاکستانی حکام نے مختلف عدالتوں کی طرف سے میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے بعد سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا تاہم انٹرپول کی طرف سے

کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا گیا۔ایف ائی اے کے ایک اہلکار کے مطابق انٹرپول کے حکام نے حکومت سے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے برطانوی حکومت کو بھی خطوط لکھے تھے لیکن اس کا بھی کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ برطانیہ کے دورے کے دوران وہ اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کر کے نواز شریف کو وطن واپس لانے کی بات کریں گے تاہم ابھی تک برطانوی وزیر اعظم کی طرف سے عمران خان کو دورہ برطانیہ کی دعوت نہیں ملی۔سیاسی تجزیہ کار عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ حکومت نے نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اس کی تجدید نہیں کریں گے اور یہ موقف درحقیقت سابق وزیر اعظم کو فائدہ پہنچانے کے مترادف تھی۔اُنھوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اس پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو جاتی اور نواز شریف کی طرف سے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے کوئی درخواست نہ دی جاتی تو پھر حکومت کی طرف سے یہ بیان آتا کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی معیاد کی تجدید نہیں کی جائے گی۔عامر الیاس رانا کا کہنا تھا کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، جو کہ ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں، کا پاکستانی حکام کی جانب سے پاسپورٹ بلاک کرنے کے واقعے کے بعد وہ برطانیہ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں چلے گئے اور وہاں پر یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ پاکستانی حکام نے ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیا ہے اس لیے وہ کہیں اور نہیں جا سکتے۔اسحاق ڈار کو بھی احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دینے کے علاوہ ان کی جائیداد کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ پاکستانی حکام نے اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول اور برطانوی حکام کو درخواستیں دی تھیں تاہم وہاں سے پاکستانی حکومت کو کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *