پانامہ میں نام نہ آنے کے باوجود نواز شریف اسکی بھینٹ چڑ ھ گئے مگر عمران خان کے ساتھ کیا ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔1980کے وسط سے منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے بارے میں لکھی کئی کتابیں غور سے پڑھنے کے بعد مجھے پانامہ پیپرز نامی طوفان نے ہرگز کوئی امید نہیں دلوائی تھی۔نواز شریف کا ان دستاویزات میں نام نہیں لکھا گیا تھا۔

وہ مگر پانامہ دستاویز کی وجہ سے اٹھے طوفان کی زد میں آئے۔میں ان کی سیاست کا کبھی مداح نہیں رہا۔بارہا مگر ٹیکس چوری اور ٹیکس سے گریز کے مابین فرق سمجھانے میں وقت ضائع کرتا رہا۔محض صحافیانہ کاوش کی وجہ سے ’’لفافہ‘‘ بھی پکارا گیا۔نواز شریف کے حوالے سے آصف سعید کھوسہ جیسے دیدہ ور جج بھی اگرچہ پانامہ دستاویز سے فائدہ نہ اٹھاپائے۔بالآخر اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیا گیا۔میں آج بھی مصر ہوں کہ نواز شریف کی برطرفی اور نااہلی پانامہ دستاویز کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ہماری ریاست کے چند طاقت ور افراد ان سے ہر صورت نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان کی صورت انہیں عوام میں مقبول ایک طاقت ور معاون بھی مل گیا۔نواز شریف کے علاوہ جن دیگر پا کستانیوں کے نام پانامہ دستاویز میں آئے تھے آج بھی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔پانامہ دستاویز کی حقیقت کو بخوبی جانتے ہوئے میں پنڈورالیکس نامی ایک نئے ڈرامے کا بے چینی سے ہرگز منتظر نہیں تھا۔اتوار کی رات بالآخر ساڑھے نو بجے وہ لیکس منظر عام پر آگئیں۔اس سے ایک روز قبل ہی مگر پیغام مل گیا تھا کہ پینڈورا عمران خان صاحب کا پانامہ نہیں بن پائے گا۔لاہور کے زمان پارک کے رہائشی فرید نامی شخص کی وضاحتیں پینڈورا لیکس کے منظر عام پر آنے سے 24گھنٹے قبل ہی متاثر کن انداز میں برسرعام آچکی تھیں۔بینڈباجے اور بارات کے ساتھ اتوار کی رات ٹی وی سکرینوں پر جو نام نہاد سنسنی خیز ڈرامہ رچایا گیا ہے وہ اردو محاورے کا وہ پہاڑ ہے جسے بہت کاوش سے کھودنے کے بعد جو برآمد ہوتا ہے وہ فقط ہنسنے کو مجبور کردیتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام جب تک قائم ہے آف شور کمپنیاں بھی پوری گج وج کے ساتھ اپنا وجود برقراررکھیں گی۔

Comments are closed.