پاکستانیوں دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کیا نواز شریف غلط کہتا ہے ۔۔۔۔۔؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگا ر حامد ولید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یاہی خوب ہوتا اگر عمران خان اعلان کرتے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے آٹا، چینی اور گھی بآسانی دستیاب ہوگاجنھیں عوام کی سہولت کے ہر گلی محلے میں نصب کیا جا رہا ہے۔ عوام جائیں، معمولی سی رقم ڈالیں اور مقررہ مقدارمیں آٹا،

چینی اور گھی نکال کرگھروں کو لے جائیں۔ مگرلگتاہے کہ ان مشینوں سے بھی بدعنوان سیاستدان ہی نکلیں گے، روبوٹ ہی نکلیں گے بالکل اسی طرح جیسے 2018ئکے انتخابات میں آرٹی ایس سے پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں غیر سیاسی لوگ نکال کر ایوانوں میں بٹھادیئے گئے تھے جنھیں گورننس نام کو نہیں آتی۔ عوام نے عمران خان کو ایک موقع اس لئے دیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ جو باتیں عمران خان کرتے ہیں وہی ان کے مسائل ہیں اور سیاستدانوں کی شکل میں موجود بدعنوان عناصر نے ان کاجینا دوبھرکیا ہوا ہے مگر جب سے تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے، عوام سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ان نااہل کلینروں سے تو وہ اہلیت والے ڈرائیورہی اچھے تھے، کم از کم گاڑی چلانا تو جانتے تھے۔یہ تو کبھی اس دیوار میں جام ٹھوکتے ہیں تو کبھی کسی درخت سے جا ٹکراتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر چلنے والے سروے پروگراموں سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کس کس طرح اس حکومت کو کوس رہے ہیں۔ ایسے عاقبت نااندیش لوگوں کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ریاست اور شہریوں میں خلیج مزید گہری ہو گئی ہے اور اب غیرسیاسی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی داغ بیل رکھ دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ غیر سیاسی مشینوں میں سے سیاسی لوگ کیونکر برآمد ہوں گے؟ پاکستان میں انتخابات کا عمل شروع دن سے پراگندہ رہا ہے۔خاص طورپر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ضلعی انتظامیہ کے بل پر انتخابات لڑ کر دھاندلی کی جو بنیاد رکھی تھی اس سے پاکستانی عوام آج تک پیچھا نہیں چھڑواسکے ہیں

۔کہتے ہیں کہ 1970کے انتخابات شفاف ہوئے تھے لیکن اس سے جو نتائج برآمد ہوئے اس کی بنیاد پر اس قوم کے ساتھ جو دھاندلی کی گئی وہ اس قدرخطرناک تھی کہ پاکستانی آج تک کانوں کوہاتھ لگاتے ہیں۔ 80کی دہائی میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے تو چوراچکے اسمبلیوں جابیٹھے اور پاکستانی سیاست کاآوا ہی بگڑ گیا۔ پہلے انتخابات ضلعی انتظامیہ کرواتی تھی، پٹواری اور مقامی ایس ایچ او کرواتے تھے، ان پر عدم اعتماد ہوا توپاک فوج کے جوانوں کویہ فریضہ دے دیا گیا مگر2018کے انتخابات کے بعد جس قسم کی ویڈیوز سامنے آئیں اس کے بعد پاک فوج نے بھی کانوں کو ہاتھ لگالیا اور اب یہ کام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو دینے کی تیاریاں ہیں۔ یہ مشینیں بھی ناکام ہوگئیں تو کچھ بعیدنہیں کہ 2027کے عام انتخابات اقوام متحدہ کی پیس کیپنگ فورس کی نگرانی میں ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں انتخابی نظام اس قدرآلودہ ہوچکاہے کہ اس میں سے کچھ اچھابرآمد نہیں ہورہا ہے۔ اس کی ایک مثال جہانگیر ترین کی ہے جو 2018کے انتخابات سے قبل انتہائی دیانتدار بزنس مین کے طور پر مشہور کیے گئے مگر بعد میں پتہ چلا کہ ان کی اور مخدوم خسرو بختیار کی ملیں پوری شوگر انڈسٹری کے چالیس فیصد پر مشتمل ہیں اورانہوں نے چینی برآمد کرنے کے نام پر اربوں روپے کی حکومتی رقم کھالی ہے اور جہانگیر ترین اس شخص کانام ہے جس نے تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لئے مبینہ طور پر روپیہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ خطرہ اس بات کا ہے

کہ اب کی بار ی ای وی ایم مشینوں کے ذریعے کرائے جانے والے انتخابات سے کہیں تالبان پاکستان پر قابض نہ ہو جائیں!ہمارا ایک مسئلہ یہ ہے کہ نادیدہ قوتوں نے ایک کے سوا ملک کے ہر ادارے کوبدنام کردیا ہے۔ پارلیمنٹ توخیر پہلے ہی تھی اب کی بار تو عدلیہ کا بھی جنازہ نکل گیا ہے اور عوام کا حال یہ ہے کہ اگر نیب نواز شریف کے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرپاتی اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس پر کوئی سوال پوچھتے ہیں تو اگلے روز سیرگاہوں میں لوگ ججوں کوکوستے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں اگر میڈیامیں سے کوئی نواز شریف کے حق میں بات کرتا ہے تو اس پر لفافہ جرنلزم کا لیبل لگادیا جاتا ہے۔ گویا کہ اس ملک میں پہلے سیاستدانوں کی اصل کھیپ کو ڈس کریڈٹ کیاگیا، پھر میڈیا کو کیا گیا اور اب عدلیہ کو کردیا گیا ہے۔ اتنے سارے ڈس کریڈٹ حلقوں کی موجودگی میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کب تک اپنی پاکدامنی کا بھرم قائم رکھ سکے گی؟اس کے بارے میں جو کچھ لوگ منہ زبانی کہتے ہیں اگر زبان پر لانے لگے تو کیا بنے گا؟اس ایک مسئلے کا حل یہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے آئینی و قانونی حدودوقیود کی پاسداری کریں۔ اپنے اپنے دائرے میں واپس چلے جائیں اور نظام کولگام ڈالنے کی بجائے نظام کو کام کرنے دیں۔ ایک زمانے میں سنا کرتے تھے کہ مولوی حضرات خوامخواہ پاکستان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔خطرہ یہ ہے کہ اگر موجودہ صورت حال جوں کی توں رہی اور اصلاح احوال نہ کی گئی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ عام سننے کو ملا کرے گا کہ اسٹیبلشمنٹ والے کیوں پاکستان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔نواز شریف اور مریم نواز کے منہ سے ایسی باتیں سننے کو ملنے لگی ہیں۔ ایسا ہی ان کے ووٹر سپورٹر بھی سمجھتے ہیں، پنجاب سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں،گویا کہ پاکستان سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ان آوازوں کو سننے کی ضرورت ہے۔ ان آوازوں پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔ سدا بادشاہی اللہ کی ہے، کوئی ہمیشہ کے لئے عہدوں پر برقرار نہیں رہ سکتا، کبھی جنرل مشرف مکے لہراتاتھا، آج کوئی ان کانام لینے کا روادار نہیں ہے، یہی حال پاپا جونز کے پیزے بیچنے والوں کاہوا ہے، باقیوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ سعود عثمانی یادآتے ہیں کہ ۔۔۔مجھے بھی ترک تعلق پہ حیرتیں ہی رہیں ۔۔۔جوکام میرا نہیں تھا،وہ کام میں نے کیا

Comments are closed.