پاکستانیوں کو خبردار کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا اور ہم تین تین بار ڈسے جانے کے باوجود اگر کسی تیسرے شخص کو نہیں آزماتے تو بھلا اگلے جہان اپنے مالک کوکیا منہ دکھائیں گے؟ اب اگر ہمارا اندازہ غلط نکلا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس عالم الغیب نے جتنی سمجھ بوجھ دی تھی اس کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے بہترین علم کے مطابق ایمانداری سے اندازہ لگایا۔ اب وہ غلط نکلا تو کیا کریں؟ ہاں جانتے بوجھتے کسی چور، خائن، بے ایمان، لٹیرے اور بدعنوان کی حمایت کرتے تو یقینا اگلے جہان اس قادر مطلق کو جوابدہ ہوتے۔ ہم سے غلطی ضرور ہوئی ہے جو قابل معافی ہے لیکن ہم نے جانتے بوجھتے نہ بے ایمانی کی ہے اور نہ خیانت؛ البتہ وہ لوگ خود کہاں کھڑے ہیں جو تین تین بار چوروں، لٹیروں اور بے ایمانوں کو منتخب کرچکے ہیں اور ہمیں طعنے ماررہے ہیں۔ خود جانتے بوجھتے خیانت کرنے والے ہمارے اندازوں کی غلطیاں معاف کرنے پر تیار نہیں۔ ہم گنہگار خطاؤں کے پتلے غلطی سے مبّرا ہی کب تھے؛ تاہم ناقد غلطی اور بے ایمانی میں فرق ماننے سے انکاری ہیں۔عمران خان کی حکومت کی نالائقیوں کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیاکہ میاں نوازشریف اینڈ کمپنی حاجی ثنااللہ ہیں اور زرداری و ہمشیرہ اینڈ سن بے گناہ ہوگئے ہیں؟ تین بار آزمائے ہوئوں کو چوتھی بار پھر آزمانے سے ہزار درجہ بہتر تھاکہ کسی نئے کو آزماتے اور ہم نے آزمایا۔ اب اس پر بحث فضول اور بے فائدہ ہے کہ نیا تجربہ کیسا نکلا؟ یہ ایک سبق تھا جو ہمیں ملا اور ہم نے اپنی غلطی سے رجوع کیا۔ یہ میرے مالک کا خاص کرم ہے کہ اس نے غلطیوں کو تسلیم کرنے کی توفیق بخشی۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت بخشے جو آج بھی کنفرم چوروں اور لٹیروں کے غیرمشروط اور اندھے مقلد ہیں۔ ہم نے ایک بار غلطی کی اور اس کی تلافی میں مصروف ہیں۔ بے ایمان، خائن اور بددیانت تو وہ ہیں جو آج بھی اپنی غلطیوں در غلطیوں پر ڈھٹائی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اللہ ہماری خطائیں معاف کرے اور خیانت کرنے والوں کو ہدایت بخشے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *